پاکستان میں ڈراموں کا زوال

 پاکستان میں ڈراموں کا زوال
 پاکستان میں ڈراموں کا زوال

  

 بہلے ڈراموں کے رائٹرز اور پروڈیوسر معاشرتی تقاضوں کے مطابق ڈرامے پروڈیوس کرتے تھے اور پروڈکشن ہاؤسز کا بھی اپنا ایک معیار تھا موضوعات جاندار اور معاشرہ کی مکمل عکاسی کرتے تھے، کہانیاں با مقصد اور معیاری ہوتی تھیں،جس سے معاشرہ کی راہیں متعین ہوتی تھیں اور لوگ شوق سے ڈرامہ دیکھتے تھے۔پرانے رائٹرز کی جگہ نئے رائٹرز نے لے لی ہے اور ڈراموں اور فلموں میں مقصدیت ختم ہوگئی ہے، جس کے سبب فلم انڈسٹری بحران کا شکار ہے، ہم کہتے ہیں اداکاروں کے لئے تربیتی اکیڈمی ہونی ضروری ہے، جس سے اداکاروں اور رائٹرز کو باقاعدہ معاشرتی تقاضوں اور موجودہ ضروتوں اور تقاضوں کو مد نظر رکھ کر موضوعات اور اقدار کا سبق دیا جائے۔

 کورونا کی وبا خود کسی ڈراؤنی فلم سے کم نہیں، لیکن اس وبا کا خوف کم کرنے اور مشکل وقت کو آسان بنانے میں فلم اور ڈرامے ایک اہم سہارا بن گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر جہاں صارفین نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ڈراموں کی کہانی اور کرداروں پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں وہیں اس بحث نے بھی اپنی راہ بنائی ہے کہ ان ڈراموں کے معاشرتی سوچ اور افکار پر پڑنے والے اثرات کیا ہیں۔یہ چار ماہ ڈرامے کی صنعت سے وابستہ ان افراد کے لئے شدید پریشانی کا سبب بنے جو یومیہ اجرت پر ان ڈراموں کے سیٹ پر کام کرتے ہیں، لیکن سال 2020ء اس لحاظ سے ضرور یاد گار رہے گا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی پیمرا نے اس سال اپنا کردار کچھ زیادہ ہی تندہی سے ادا کرنے کی کوشش کی اور ایک یا دو نہیں، بلکہ تین ٹی وی ڈراموں کو پہلے پابندی کا شکار بنایا، جبکہ دیگر کچھ ڈراموں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کئے۔

ادب کسی بھی معاشرے کے انسانوں کے افکار، خیالات، جذبات و احساسات کی عکاسی کرتا ہے۔ ادب معاشرے کی تہذیب و ثقافت کا ضامن بھی ہوتا ہے اور اس کا اظہار کبھی تحریری طور پر کیا جاتا ہے تو کبھی زبانی طور پر۔ ادب زندگی کا ایسا ترجمان اور نقاد ہوتا ہے،جس کے چمنِ حیات میں خوشنما اور روشن خیال پھول جنم لیتے ہیں جو تانا بانا، چپکے چپکے،فتور، اولاد، کیسا ہے  نصیبا،عہد وفا، قرار، رقیب سے، مکافات، مجھے بھی خدا پہ یقیں ہے،خدا اور محبت،خواب نگر کی شہزادی،دیوانگی،آج کل مختلف ٹی وی چینلز پر یہ ڈرامے دیکھنے کو ملتے ہیں ان کی کہانیاں اتنی کمزور بھی نہیں ہیں اور اتنی مضبوط بھی نہیں ہیں، ڈراموں میں طلاق سرعام دینا انتہائی غیر مہذب معاشرہ کی نشاندہی کرتا ہے، ناولوں اور افسانوں کو آج کل ڈرامائی تشکیل دی جا رہی ہے،ڈراموں میں تخلیقی مکالمے بہت کم رہ گئے ہیں اور موجود ڈرامے معاشرہ کی عکاسی کرتے نظر نہیں آتے ہیں۔

وائس آف امریکہ نے ڈرامہ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ہدایت کاروں اور قلم کاروں سے چند فیس بُک لائیو انٹرویو کئے، جن میں انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری زوال کا شکار ہے۔

مزید :

رائے -کالم -