سیاسی جماعتوں کی جمہوریت؟

سیاسی جماعتوں کی جمہوریت؟
سیاسی جماعتوں کی جمہوریت؟

  

پاکستان کی سیاست مسائل کا شکار تھی، مسائل کا شکار ہے اور اگر ہمارے سیاست دانوں نے سیاست کے بنیادی تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یہ مستقبل میں بھی مسائل کا شکار ہی رہے گی۔کہا جاتا ہے کہ آمریت جمہوریت کو چلنے نہیں دیتی، لیکن دوسری طرف ہمارے ملک کی سیاسی قیادت اس بات کا ادراک کرنے کوتیار نہیں ہے کہ وہ ملک میں آدھی جمہوریت اپنی مرضی کی چلانا چاہتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں آمریت قائم کی ہوئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے نام پر ان کی آمریت قائم رہے اور جمہوریت ان کی مرضی اور ان کی سوچ والی ہو، دنیا میں رائج جمہوریت نہیں۔

آج بھی پاکستان کے سیاست دان جمہوریت کے بنیادی نقائص دور کرنے کے لئے تیار نہیں، بلکہ وہ اپنی کوتاہیوں کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کر رہے ہیں۔ سیاسی قیادت اپنی سیاسی جماعتوں میں تو جمہوریت قائم کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ اسی جمہوریت کے نام پر ملک کی حکمرانی ان کو دے دی جائے۔ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں اپنی کوتاہیوں کی ذمہ داری بھی دوسروں پر ڈال کر حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ملک میں حکمرانی کی خواہش رکھنے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے طریقہ کار کو دیکھا جائے تو تینوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور تحریک انصاف کے پاس کوئی باقاعدہ دفاتر نہیں، اگر ہیں تو برائے نام دکھاوے کے لئے رکھے ہوئے ہیں،جہاں اکا دکا ورکر عہدے دار آتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف کے گھرجاتی عمرہ میں ہی فیصلے ہوتے ہیں، من پسند لوگوں کو بلا کر من پسند فیصلے ہی مسلم لیگ (ن)  کا طرۂ امتیاز سمجھا جاتا ہے۔ ہر پارٹی میں قیادت جس سے ناراض ہو جائے، اس کا پتہ کاٹ دیا جاتا ہے، نہ کوئی پارٹی سیکرٹریٹ، نہ کوئی تھنک ٹینک، نہ کوئی پارٹی ریکارڈ…… اس طرح ہر پارٹی شخصی آمریت کی عمدہ ترین مثال ہے۔یہ بیان کہ لوگ نسل در نسل ہمارے ساتھ ہیں اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ بس اپنی ذات سے ہی وفاداری کو وفاداری سمجھا جاتا ہے، معمولی سی جھلک دیکھیں الیکشن 2002ء میں 140 ارکان اسمبلی مسلم لیگ (ن) لیگ کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوئے، الیکشن 2008ء میں 89 ارکان اسمبلی نے مسلم لیگ (ق) کو خدا حافظ کہہ کر پی پی پی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ 2013ء کے الیکشن میں 121 ارکان پی پی چھوڑ کر دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں تشریف فرما ہو گئے۔

2018ء کے الیکشن میں چند اراکین کے سوا تمام معزز ممبران ارکان پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ تقریباً 200/300 خاندانوں کے معزز ارکان 22 کروڑ آبادی کی جمہوریت کے پاسبان ہیں۔یہ کوئی اصول نہیں، کوئی نظریہ نہیں۔جو پارٹی بھی اقتدار میں آئے، اس میں شامل ہو کر ”ملک کے عوام کی خدمت اور ترقی“ کے لئے شامل ہو جائیں، پاکستان کے سیاستدانوں میں چند لوگ کسی نظریئے یا اصول کے مطابق سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن پاکستانی عوام شائد اس کو پسند نہیں کرتے۔ پی پی پی بھٹو کے نام کی پارٹی تھی، آصف علی زرداری محترمہ بے نظیربھٹو سے شادی کر کے ان کی شہادت کے بعد پی پی پی کے کرتا دھرتا بن گئے۔پی پی پی کا 80/90 سال کا  ورکر اس خاندان کے بچوں کا ورکر ہے اس کے فیصلے پارٹی پر حاوی ہیں، یہ پارٹی آصف زرداری اور ان کے اہل خانہ کے گرد گھومنے والی میراث ہے، اس کا کوئی اچھا سیکرٹریٹ نہیں،ساری جماعت نامزدگیوں پر چلتی ہے۔ آصف زرداری کی پسند نا پسند ہی میرٹ ہے، جب دل چاہا جمہوریت کا پرچم اٹھا لیا، جب دل چاہا اسٹیبلشمنٹ سے دوستی کر لی۔ زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف بھی اسی رنگ میں رنگی گئی ہے، اس نے اپنی تمام تر سرگرمیوں کا مرکز بنی گالہ کو بنا لیا ہے۔ یہاں بھی عمران خان کی پسند نا پسند ہی ہر چیز پر حاوی ہے۔عمران خان سے اختلاف کا مطلب ہے بس سیاست ختم، آپ کا پتہ کٹ گیا، نظریہ کی بات نہیں۔ عمران خان اور چند اصلی خالص پی ٹی آئی کے عہدیداران اور ممبران کیا کریں، جبکہ باقی پارٹیاں تبدیل کرنے والے معزز ارکان ہیں۔

 عمران خان سابقہ روایات کو برقرار رکھ کر ساری جماعتوں کے افراد کو اپنے ساتھ ملا کر ملک کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، جس کی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔ ملک کے حالات و واقعات عمران خان کا ساتھ نہیں دے رہے، کھاؤ پیو موج کرو کے حالات ساز گار نہیں، ملک کی تمام خرابیوں کی ذمہ داری چند ناکام ترین بدترین لوٹ مار کے ماہر دوسروں پر ڈال کر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، یہ سب سے آسان راستہ ڈھونڈ لیا ہے، تاکہ ان کی کوتاہیوں پر کوئی سوال نہ اٹھایا جائے۔ پاکستان کی ناکام سیاسی قیادت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر لمحے بلیم گیم کھیلنے کے لئے تیار رہتی ہے، کیونکہ یہ ایک آسان طریقہ ہے،لیکن اس کے نتائج ملک کے لئے اچھے نہیں۔ہم جمہوریت کے نقائص پر نسل در نسل پاکستانی لوگوں کو خوف زدہ کر کے لوٹ مار کرنے والے رشوت خوروں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -