سکندر اعظم مونومنٹ

سکندر اعظم مونومنٹ
سکندر اعظم مونومنٹ

  

سکندر اعظم 326 قبل مسیح میں ایران فتح کرنے کے بعد دریائے سندھ عبور کرکے آج کے پاکستان میں داخل ہوا اور ٹیکسلا سے ہوتے ہوئے دریائے جہلم کے کنارے پچاس ہزار لشکر کے ساتھ اُس جگہ پڑاؤ ڈالا جہاں آجکل جلال پور شریف آباد ہے۔ یہاں جہلم کے پار راجپوت حکمران راجہ پورس سے اُس کی مڈبھیڑ ہوئی جس پر راجہ پورس نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا لیکن وہ جنگ ہار گیا۔ اس جنگ کو Hydaspes کی جنگ کہتے ہیں۔روایت کے مطابق سکندر اعظم نے راجہ پورس کی بہادری سے متاثر ہو کر اُسے علاقے کی حکمرانی پر بحال کر دیا۔ اس دوران سکندراعظم دریائے جہلم کے کنارے تقریباً دو ماہ قیام پذیر رہا۔ اس تاریخی واقعے کی یاد میں 24 مئی 1997ء میں یہاں ایک یادگار کا سنگ بنیاد رکھا گیا اُس وقت پاکستان میں یونان کے سفیر E N Karayannis  اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ پی ٹی وی کی طرف سے میں نے اس تقریب کی کوریج کی اور فلم اُسی دن خبرنامے میں شامل ہوئی۔ یادگار کا افتتاح 28 جنوری 2001ء  میں ڈاکٹر اے کیو خان نے کیا۔

یہ جگہ جہلم سے تقریباً 62 کلومیٹر دور ہے۔ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ 17 مئی 2021ء کو براستہ جہلم جلال پور شریف پہنچا۔ راستے میں کسی کو اس یادگار کے بارے یں کوئی علم نہیں تھا نہ ہی کوئی سائن بورڈ نظر آیا۔ بہرحال وہاں پہنچ کر بڑی مایوسی ہوئی کیونکہ یادگار بند تھی اگرچہ ورکنگ ڈے تھا اور دفتر ٹائم تھا لیکن ایک چوکیدار کے سوا کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔ چوکیدار نے عرفان صاحب کا نمبر دیا جو اس یادگار کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ عرفان صاحب سے دو تین دن بعد رابطہ ہوا تو حیرانی کے مزید دروا ہوئے۔ پتہ چلا کہ کوئی محکمہ اس یادگارکی دیکھ بھال نہیں کر رہا۔ نیوی کے ایک ریٹائرڈ افسر کموڈور ارشد صادق صاحب جنہوں نے اس کا آئیڈیا پیش کیا تھا اور اس کیلئے پانچ کنال زمین تحفہ دی تھی اس کے کرتا دھرتا تھے وہ انتقال کر چکے ہیں۔ عرفان صاحب کا تعلق بھی اس منصوبے سے رسمی سا ہے۔ اُن کا اپنا کاروبار ہے اُن کے والد اِس یادگار کے پراجیکٹ منیجر تھے لہٰذا اس حوالے سے وہ اس سے منسلک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو تین سو افراد ہر ماہ اس جگہ کا وزٹ کرتے ہیں جن میں جرنیل اور غیرملکی سفارتکار شامل ہیں بقول اُن کے وہ حکومت کے مختلف محکموں اور فوجی افسروں کو درخواستیں دے چکے ہیں کہ وہ اس یادگار کی دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کریں لیکن آج تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ پچھلے دنوں پاکستان میں یورپی یونین کی سفیرنے بھی دورہ کیا تھا اور انہوں نے عرفان صاحب سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں یونانی سفیر کو لکھیں اور اُس کی کاپی مجھے بھیجیں۔ حیرت ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ اس کی ذمہ داری لینے سے کیوں گریزاں ہے؟

یاد گار 60 مربع میٹر پر محیط ہے ماربل سے تعمیر شدہ اس عمارت میں یونانی فن تعمیر کی جھلک ملتی ہے۔ عمارت کا ڈیزائن خاص قسم کا ہے سائیڈ پر برآمدے بنائے گئے ہیں اوپر جانے کے لئے سیڑھیاں ہیں اوپر مینارہیں اور درمیان میں ٹیرس ہے۔ عمارت میں ایک ریسرچ سنٹر بھی بنایا گیا ہے جس کا مقصد متعلقہ تاریخی حقائق پر تحقیق کرنا تھا۔ڈاکٹر دانی کے مطابق سکندر اعظم کی آمد سے اس علاقے پر سماجی اور کلچرل اثرات مرتب ہوئے لہٰذا اس کی تحقیق ضروری تھی لیکن یہ سنٹر مکمل طور پر بند ہے۔

روایت کے مطابق یہاں سکندر اعظم کا پسندیدہ گھوڑا Bacaphalus جان کی بازی ہار گیا۔ اُس کی یاد میں سکندراعظم نے Bacaphala کے نام سے ایک شہر کی بنیاد رکھی بعد میں اِس شہر کا نام Girjakh ہو گیا اور کچھ عرصے کے بعد یہاں کے حکمران ملک درویش خان جنجوعہ نے بادشاہ جلال الدین اکبر کے نام پر جگہ کا نام جلال پور رکھ دیا۔ جلال الدین اکبر نے اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔ یہاں ایک بزرگ غلام حیدر علی شاہ دفن ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد حکومت نے اس بزرگ کی نسبت سے جلال پور شریف کا نام منظور کر لیا۔

یادگار کی تعمیر کا پس منظر بھی کافی طویل ہے۔ 1997ء میں پروفیسر احمد حسن دانی نے پاکستان میں یونان کے سفیر کے ساتھ اس مقام کا دورہ کیا۔ یہاں کموڈور ارشد صادق صاحب اُن کے میزبان تھے اِس اجلاس میں یادگار کی تعمیر کا فیصلہ ہوا اور اس مقصد کیلئے کموڈور ارشد صادق نے 5کنال زمین عطیہ دی۔ تعمیر کیلئے فنڈز حکومت یونان، ڈاکٹر دانی اور ڈاکٹر اے کیو خان نے فراہم کئے اگرچہ اور بھی کئی لوگوں نے اس میں حصہ ڈالا۔ اُس وقت اس کی تعمیر پر 2 لاکھ اکیاسی ہزار ڈالر صرف ہوئے۔اگر کوئی سرکاری محکمہ اس یادگار کو اپنے انتظام میں لے لے تو سیاحت کے حوالے سے یہ ایک اچھی جگہ ہے۔

عمارت کی خستہ حالی اور اس سے کچھ حقائق جان کر بڑا افسوس ہوا۔ عمارت کی Renovation کی بڑی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہ سفر اس لحاظ سے بھی خاصا تکلیف دہ رہا کہ تمام سڑکیں بہت بری حالت میں تھیں۔ جہلم سے جلال پور شریف 62 کلومیٹر اور واپسی موٹروے کے ذریعے ہوئی اس کے لئے تقریباً 40 کلومیٹر پنڈدادنخان اور اتنا ہی دور لِلّہ ٹاؤن تک تمام سڑکیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں۔ جہاں جہاں آبادی ہے وہاں سڑک سرے سے موجود نہیں اور گندہ پانی کھڑا ہے علاقے کے لوگوں پرجو روزانہ اس عذاب سے گزرتے ہوں گے بڑا ترس آیا اور یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ یہ علاقہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کا حلقہ انتخاب ہے۔

مزید :

رائے -کالم -