ہم بدحال کیوں ہیں؟

ہم بدحال کیوں ہیں؟
ہم بدحال کیوں ہیں؟

  

ڈی جی خان اور سندھ کے جنگلات میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے پولیس کے ساتھ رینجرز بھی اس آپریشن  میں حصہ لے گی۔ڈاکوؤں کا خاتمہ کیا جانا چاہئے، کیونکہ لا اینڈ آرڈر کا نفاذ اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہوتا ہے،لیکن اس آپریشن سے کیا مطلوبہ نتائج حاصل ہو پائیں گے کیا ڈاکوؤں کا خاتمہ ہو سکے گا؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے ایسے آپریشن پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ان کی تشہیر بھی ہوتی رہی، لیکن معاملات بار بار اپنی اصل پوزیشن کی طرف ہی لوٹ جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ ہمارا نظام ہے۔ 

چین،بھارت اور اسرائیل تقریباً ایک ہی وقت میں آزاد /قائم ہو ئے ہیں سب ممالک کی عمر 70 برس کے قریب ہے چین دنیا کی دوسری، بھارت تیسری چوتھی پاور بن چکا ہے اسرائیل اپنے مختصر جغرافیہ اور انتہائی کم آبادی کے باوجود خطے کی سپر پاور بن چکا ہے آخر کچھ تو خاص ہے ان ممالک کے باسیوں میں کہ وہ اقوام عالم میں موثر مقام کے حامل ممالک میں شمار ہوتے ہیں چلو اسرائیل کو تو  امریکہ، برطانیہ کی بالخصوص اور عیسائی یورپی اقوام کی بالعموم مدد حاصل رہی ہے اسلئے وہ طاقتور ہو چکا ہے، لیکن چین اور بھارت کو تو ایسی سہولت حاصل نہیں تھی وہ کیسے عالمی طاقت کے مقام تک پہنچے ہیں۔ 

کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے نظریہ اور اس پر قائم لیڈر شپ ہوتی ہے جو ایک مربوط نظام کے ذریعے لوگوں کو طے کردہ منزل کی طرف لے کر چلتی ہے۔ بھارت کی کانگریس پارٹی اولاً انگریزوں نے بنائی، لیکن پھر ہندوقیادت اس پر غالب آگئی اور اسی کے پرچم تلے ہندوؤں نے آزادی کی جدوجہد کی اور بالآخر برصغیر تقسیم ہو کر ہندو بھارت اور مسلم پاکستان بن گیا۔ کانگریسی قیادت کٹر ہندو اور قوم پرست تھی دیگر اقوام کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے سیکولرازم کا لبادہ اوڑھے رہی لیکن وہ ہر لحاظ سے ہندو ہی تھی انہو  ں نے تقسیم ہند کے ساتھ ہی طاقت کے مراکز کو مکمل طور پر ختم کرنے کی شعوری کاوشیں کیں۔ سینکڑوں شہزاد گان کی ریاستوں کو بیک جنبش قلم بھارتی یونین میں ضم کر لیاگیا۔ جاگیرداری نظام کے پرزے اڑا دئیے نو آزاد ریاست کو چلانے کے لئے ایک آئین تشکیل دیا اور پھر تعمیر و ترقی میں لگ گئے آج وہ دنیا کی تیسری چوتھی معیشت بن چکی ہے، سلامتی کونسل کی مستقل ممبر شپ کی کاوشیں کر رہی ہے، امریکہ جیسی عالمی طاقت اس کی پشت پناہ ہے، روس کے ساتھ معاملات بھی اچھے ہیں۔خلیجی ممالک بھی اسے اہمیت دیتے ہیں۔ 

چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکا ہے اور سپریم طاقت بننے کی دوڑ میں شامل ہے اس ملک نے بھی ہمارے ساتھ ہی تعمیر و ترقی کے سفر کا آغاز کیا تھا وگرنہ اس سے پہلے چینی افیونیوں کی قوم کے طور پر جانے جاتے تھے دنیا میں سب سے زیادہ افیون کی کھپت چین میں ہوتی تھی اقوام مغرب نے بالعموم اوربر طانیہ نے بالخصوص افیون کو چین کے خلاف ایک معاشی اور جنگی ہتھیار کے طور پر بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا تھا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی زیر قیادت چینی خواب خرگوش سے بیدار ہوئے اور کمیونسٹ انقلاب کے ذریعے چین کو ایک عظیم مملکت بنانے کا آغاز ہوا اور آج چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکا ہے، جبکہ سُپر طاقت بننے کی دوڑ میں شامل ہے۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ ہمیں بھی اتنے ہی سال ہو چکے ہیں کہ ہم نے آزادی حاصل کی ہے ہم 230 ملین نفوس پر مشتمل قوم ہیں۔ ہمیں رب العزت نے بہترین موافق موسم (وزیراعظم کے بقول بارہ موسم، جن کی تفصیل انہوں نے کبھی نہیں بتائی)، زرخیز زمین، دریا، سمندر، پہاڑ اور دیگر ارضی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں ہماری جغرافیائی حیثیت مستحکم ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہم 70 سال گزرنے کے باوجود اقوام عالم میں اعلی مقام حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ہم نے مسلم لیگ کے بانیوں اور تحریک پا کستان میں جان ڈالنے والے بنگالیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ بنگالیوں نے اکثریت میں ہونے کے باوجود، اقلیت سے علیحدہ ہونے کی مسلح جدوجہد کی اور 1971ء میں بنگلہ دیش بنالیا۔ ہم 70 سال گزرنے کے باوجود آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ یہاں مقتدر اعلیٰ کون ہو گا۔ ویسے آئین پاکستان میں تو لکھا ہے کہ اللہ ہو گا اور اللہ کے نائب کے طور پر عوام کی رائے مقتدر ہو گی، لیکن آج تک عملا ً اس کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان آج تک اختیارات کی لڑائی جاری ہے۔

ہم نے آج تک یہ طے نہیں کیا کہ ہماری سرکاری و دفتری زبان کیا ہوگی ہمارانظام تعلیم اب تک تشکیلی مراحل طے کر رہا ہے آرٹس، سائنس اور فنی تعلیم کی اہمیت بارے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی نہ جانے کہاں اور کیسے تشکیل پاتی رہی ہے۔ آج جبکہ دنیا ایک بار پھر ہمہ گیر تبدیلی کی زد میں آچکی ہے۔ تہذیبی و تمدنی تصادم ایک نئی اور حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ برطانیہ عظمیٰ کے بعد امریکہ اور اشتراکی روس طویل سرد جنگ کے بعد اپنے اپنے مقام تک پہنچ چکے ہیں اور چین ایک عظیم دیو قامت اقتصادی طاقت ہی نہیں،بلکہ تہذیبی و تمدنی دیو کے طور پر ہمارے سامنے آچکا ہے عالمی و علاقائی سطح پر نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں تو ہم ابھی تک گومگو کا شکار ہیں ہم کس کے حلیف ہیں اور کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟ کچھ پتا نہیں ہے ہمارے قومی مفادات کیا ہیں اور انہیں کیسے حاصل کرنا ہے؟ ہمیں کچھ پتہ نہیں ہے کیا ہم ایک بار پھر تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہونے جا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -