ترقی کے دعوے اورغربت میں اضافہ 

ترقی کے دعوے اورغربت میں اضافہ 
ترقی کے دعوے اورغربت میں اضافہ 

  

ایک جانب سٹاک ایکسچینج بلندیوں پر جا رہی ہے اور دوسری طرف غربت آسمان کو چھو رہی ہے۔ یہ دونوں تو ایک دوسرے کے برعکس اور مقابل ہیں پھر یہ کیسے بیک وقت اپنی اپنی جگہ پر جمی ہوئی ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق 38فیصد لوگ پہلے سے زیادہ غریب ہو گئے ہیں۔ پہلے سے مراد اس حکومت کے آنے سے پہلے، اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ عام آدمی کی قوتِ خرید بہت کم ہو گئی ہے، اتنی کم کہ وہ جسم و جاں کا رشتہ بھی بڑی مشکل سے برقرار رکھ پا رہا ہے۔ آخر کہیں تو خرابی ہے کہ ترقی ہوتی تو نظر آ رہی ہے، مگر عام آدمی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ آپ اسے مبالغہ آرائی نہ سمجھیں کل مجھے ایک منظر نے حد درجہ افسردہ کر دیا۔ میں ایک پھل والے کی ریڑھی پر خوبانی لینے کے لئے کھڑا تھا کہ ایک سفید پوش عورت اپنی بیٹی کے ساتھ آئی اور پوچھنے لگی خوبانی کے دو دانے کتنے کے مل جائیں گے۔ ریڑھی والے نے کہا تیس روپے کے، کیونکہ وہ اڑھائی سو روپے کلو خوبانی بیچ رہا تھا۔ عورت نے دو خوبانیاں خریدیں اور چلی گئی۔ مَیں سوچتا رہ گیا کہ یہ اچھی خاصی سفید پوش عورت تھی اور اس کے پاس کلو آدھا کلو خوبانیاں خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ اس سے نیچے جو غربت میں زندگی گزار رہے ہیں، ان کا حال کیا ہوگا۔ یہ معاملہ غربت یا مہنگائی کا ہے یا پھر بری گورننس کا یہ اندھیر نگری کس نے مچا رکھی ہے کہ سو روپے کلو بکنے والا پھل اڑھائی سو روپے کلو بیچا جا رہا ہے۔ کہیں نہ کہیں تو گڑ بڑ ہے کہ اوپر کی سطح پر خوشحالی اور ترقی کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور نچلی سطح پر غربت لوگوں سے آخری نوالہ تک چھین رہی ہے۔

ملک کے 80فیصد عوام کو تو شاید یہ تک معلوم نہیں کہ اسٹاک ایکسچینج ہوتا کیا ہے۔ جہاں ایک دن میں اربوں روپے اوپر چلے جاتے ہیں اور اگلے ہی دن اربوں روپے نیچے آ جاتے ہیں۔ یہ خوشحالی کا انڈکس ہو ہی نہیں سکتا۔ اصل خوشحالی تو تب نظر آتی ہے جب لوگوں کو پیٹ بھر کے کھانا ملتا ہے، جب ان کی محدود آمدنی میں اتنی قوت خرید ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو روٹی، سالن کے ساتھ دے سکیں۔ آج ضروریات زندگی کی ہر چیز کو پَر لگ گئے ہیں۔ لوگوں کی آمدنی تو بڑھی نہیں،سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھ سکیں، اب اس بجٹ میں دس فیصد تنخواہیں بڑھانے کا فخر یہ اعلان کیا جا رہا ہے۔ دو سال میں دس فیصد تنخواہیں بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک سال میں پانچ فیصد کا اضافہ، جبکہ اس دوران مہنگائی میں اضافہ تیس چالیس فیصد ہو چکا ہے۔ کسی کو اس کا احساس ہے کہ یہ مخلوق آخر گزارا کیسے کرتی ہو گی۔ وزیراعظم صاحب نے چند روز پہلے فرمایا تھا کہ جہاں کچھ لوگوں کا جزیرہ ترقی کر رہا ہو اور عوام کا سمندر غربت میں ڈوبا رہے تو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔اب ان سے دست بستہ پوچھنے کی جسارت تو کی جا سکتی ہے کہ ان کی حکومت نے غریبوں کے سمندر کو خوشحال بنانے کا کون سا کام کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سمندر کی وسعت میں کچھ اور اضافہ ہو گیا ہے۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک میں سفید پوش مڈل کلاس طبقہ ختم ہو کے رہ گیا ہے۔ ایک طرف اسٹاک ایکسچینج والی خوشحالی و امارت ہے تو دوسری طرف معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کی غربت ہے، جہاں انہیں مناسب غذا مل رہی ہے اور نہ زندگی کا وہ سکون جو فلاحی معاشرے میں انسان کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔

نئے وزیر خزانہ شوکت ترین  یہ یقین تو دلا رہے ہیں کہ بجٹ میں مہنگائی کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ غریبوں کو ریلیف دیا جائے گا، مگر کسی کو ان کی باتوں پر یقین نہیں آ رہا، کیونکہ ایسی روائتی باتیں تو ہر بجٹ تقریر میں کی جاتی ہیں، جو  اب تقریر سے پہلے ہی کی جا رہی ہیں۔ جن کا اثر ہمیشہ الٹ ہی ہوتا ہے۔ آج کل وزیر خزانہ اس بات پر پریشان ہیں کہ کسانوں سے 4 روپے کلو میں لیا جانے والا پیاز صارف کو 40روپے کلو میں کیوں ملتا ہے۔ وہ اس پر کوئی قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔ یہ بات تو وزیراعظم بھی کئی ماہ سے کہہ رہے ہیں کہ کھیت سے منڈی تک آتے آتے اشیاء کئی سو گنا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس بات کا تو سب کو علم ہے، سوال یہ ہے کہ اس کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہماری ضلعی انتظامیہ میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اس لوٹ مار کو ختم کر سکے۔ کیا کوئی ایسا میکنزم بنایا جا سکتا ہے کہ کسان کو بھی اس کی محنت کا جائز صلہ ملے اور عوام کو بھی اشیا سستے داموں مل سکیں۔ نہیں جناب ایسا کچھ نہیں ہوگا، کرپشن زدہ نظام ایسا کوئی کام نہیں کر سکتا جو خود اس کے پاؤں پر کلہاڑی بن کر برسے۔ مارکیٹ کمیٹیاں بھی بنی ہوئی ہیں اور ڈپٹی کمشنر اپنے ضلعوں کی منڈیوں کا دورہ بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملتا۔ حالیہ دنوں میں مرغی کے گوشت کی مثال سب کے سامنے ہے۔ اس کی قیمتوں میں سو گنا سے زائد اضافہ کیسے ہوا، کسی نے اس کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی۔ اگر کسی حکومتی اقدام یا تھوڑی بہت ٹیکسوں کی چھوٹ سے عوام کو یہ گوشت سستے داموں مل سکتا تھا تو ایسا کیوں نہیں کیا گیا، کیوں حکومت اس معاملے سے اب تک اتنی لاتعلق ہے کہ کسی وزیر مشیر نے اس موضوع پر بیان تک نہیں دیا۔

بائیس کروڑ آبادی کے ملک میں احساس پروگرام اور لنگر خانوں کے ذریعے غربت ختم نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس سے غربت بڑھ جاتی ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ عوام کی قوت خرید کو بڑھایا جائے، روپے کی قدر میں اضافہ کیا جائے۔ کہنے کو یہ روزانہ ہی کہا جاتا ہے کہ ہمارا روپیہ تگڑا ہو رہا ہے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ روپیہ کمزور ہو رہا ہے اور عوام کی قوتِ خرید کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول کی مہنگائی نے ہر چیز کو مہنگا کر دیا ہے۔ اس پر انتظامیہ کی نااہلی اپنی جگہ ہے کہ وہ ناجائز منافع خوروں کے آگے بے بس کھڑی ہے، جس کا جہاں داؤ لگ رہا ہے وہ عوام کو لوٹ رہا ہے۔ دوسری طرف جی ڈی پی کی شرح بڑھنے کے دعوے اور اسٹاک ایکسچینج کے آسمان پر جانے کی خبریں ہیں، جو عوام کے مسائل سے ماورا ایک بیانیہ ہے۔ جب تک معیشت میں بہتری کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچتے اور اس کی آمدنی میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا یا پھر مہنگائی کم نہیں ہوتی تو ترقی کے سارے دعوے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا ایک عمل ہی ثابت ہوں گے۔ کیا حکومت اس بار کوئی ایسا انقلابی بجٹ پیش کر سکتی ہے جو عوام کو ایک بڑا ریلیف دے سکے۔ کیا بنیادی ضرورت کی اشیاء پر ٹیکس چھوٹ دے کر ان کی قیمتوں کو کم کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے گا یا صرف ایک روائتی اعداد و شمار کے گورکھ دھندے پر مبنی بجٹ پیش کرکے عوام کے زخموں پر مزید نمک ہی چھڑکنے کی مشق دہرائی جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -