محنت رنگ لائی

محنت رنگ لائی

  

    وہ ایک چھوٹی سی بستی تھی،جہاں کے مکینوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی تھا۔گھروں کی عورتیں بھی اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لئے مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر کام کرتی تھیں اور دال روٹی سے گزر بسر ہو جاتی تھی۔

    شاذُو کسان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی وہ دس سال سے اولاد کی آس لگائے ہوئے تھا۔اس کی مراد بر آئی تو اس نے اپنے کچے کمرے میں رکھی صندوق سے اپنی ساری جمع پونجی نکال کر بستی والوں پہ لٹا دی۔مٹھائیاں تقسیم کی گئیں،آس پڑوس کے بستی والوں کو بھی یاد رکھا گیا۔

    شادْو نے بیٹے کا نام جمال رکھا تھا۔جب وہ بڑا ہوا تو ضد پر اَڑ گیا کہ اسے اسکول داخل ہونا ہے۔ان کی بستی میں اسکول کا نام بھی کسی نے نہ سنا تھا اور وہاں کسی بچے کا اسکول میں داخلہ لینے کی تکرار حیرانی کی بات تھی۔

    آخر وہ دن بھی آیا کہ جب اس کا داخلہ دوسری بستی کے اسکول میں کروا دیا گیا۔ شہر میں اس نے ہائی اسکول میں داخلہ بھی لے لیا۔میٹرک میں صوبے بھر میں اس کی تیسری پوزیشن بنی تو وہ اور زیادہ پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ ہو گیا۔اس کی اَن تھک محنت اور دل لگا کر پڑھنے کا جنون اسے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک لے گیا۔

    اتنا پڑھ لکھ جانے کے بعد اسے چھوٹی موٹی ملازمت گوارہ نہ تھی اور اونچی پوسٹ اور عہدے کے لئے تگڑی سفارش بھی ضروری تھی۔اس نے بہت کوشش کی،لیکن بے سود۔وہ بستی میں واپس آیا تو سب نے کہا:”کھیتی باڑی شروع کر دے۔“لیکن وہ آمادہ نہ ہوا اور بستی میں ہی اپنی مدد آپ کے تحت پرچون کی دکان کھول کر اسے بڑھاتا رہا۔دیکھتے ہی دیکھتے دکان ایک بڑے جنرل اسٹور کی شکل اختیار کر گئی۔بستی والے اس پر رشک کرتے۔ بستی میں جمال کا اکلوتا اسٹور تھا۔آس پڑوس کے بستی والے بھی وہیں سے بھی وہیں سے آکر سودا سلف لے جاتے تھے۔ زندگی اچھی گزر رہی تھی کہ اسے ایسا لگا جیسے گاؤں کا ماحول بدل گیا ہو۔روزمرہ کے معاملات میں فرق آگیا۔اب وہ نوجوان جو اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کرتے تھے،اپنا سارا قیمتی وقت موبائل فون پر ضائع کرنے لگے۔بعض لڑکے چوریاں کرتے اور ان پیسوں سے موبائل خرید لیتے،پھر ہر وقت اسی میں لگے رہتے۔

       جمال عرصے سے اپنی ڈگری بھلائے بیٹھا تھا۔وہ اسے یاد آنے لگی۔دن رات وہ ندامت کے آنسو بہاتا کہ اگر وہ اپنی تعلیم اور شعور کو بستی کے ہر ہر فرد کے ذہنوں میں منتقل کرتا تو آج جو صورت حال ہے اس سے ان کی بستی دوچار نہ ہوتی۔ آخر اس نے ایک فیصلہ کیا اور اس بارے میں والدہ کو آگاہ کر دیا کہ اب دکان ان کے حوالے کرکے بستی کے مستقبل کے معماروں کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔

    یہ سن کر اس کے والد بہت ناراض ہوئے اور ماں کی بھی یہی کیفیت تھی،لیکن جمال نے انھیں قائل کر لیا۔گاؤں میں اسکول کھل گیا۔وہ بچے جو بھٹک کر بے راہ راوی کا شکار ہو گئے تھے،راہ راست پہ آنے لگے تھے۔علم کی روشنی جو اس نے اپنے دماغ میں محفوظ کی تھی،نوجوانوں میں منتقل کرنے لگا۔

اس کی محنت رنگ لائی اور اس بستی سے اکثر لوگ علم و شعور کے پیکر بن کر نکلنے لگے۔ اگر اسے درست وقت پر اپنی غلطی کا احساس نہ ہوتا تو شاید آج بھی وہ بستی بے نام رہتی۔جب کہ آج وہ بستی”جمال والاں“ بستی کے نام سے جانی جاتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -