علیک سلیک

علیک سلیک

  

    ساجد صبح ہی صبح سر کو پکڑے سردرد کا بہانہ بنا کر لیٹ گیا،تاکہ اسکول سے چھٹی کر سکے۔دو پہر کے بعد جونہی اس کے ابا جان کام پر گئے،اس نے ٹیلی فون کی چابی ڈھونڈنکالی اور اپنے دوستوں کو ٹیلی فون کرنے لگا۔

    اچانک نمبر مل گیا۔

    ”السلام علیکم!“

    ”وعلیکم السلام! کون بول رہا ہے!“

    ”ارے بھائی! ساجد بول رہا ہوں۔کہو کیا حال چال ہیں۔“

    ”باہر کھیلنے جارہا ہوں۔تم کہو کیسے فون کیا؟“

    ”آج تم اسکول گئے تھے۔مجھے ہلکا بخار اور سردرد تھا،اس لیے نہیں جا سکا۔“

    ”آج میں بھی اسکول نہیں گیا،کیوں کہ میری دادی لاہور سے آرہی تھیں، ان کو لینے اسٹیشن چلا گیا۔“

    ”ارے بھئی،آج تو گرمی بہت سخت تھی،تم تو تیز دھوپ میں جل کر کالے ہو گئے ہو گے۔“

    ”ہاں! لیکن دادی جان کے آنے کی خوشی میں مجھے گرمی بالکل محسوس نہیں ہوئی۔“

    ”ٹھیک کہہ رہے ہو،ایک بار جب میرے چچا آئے تو مجھے بھی اتنی خوشی ہوئی تھی کہ میں سردی کے موسم میں بغیرسویٹر کو ٹ پہنے ہی انھیں لینے چلا گیا تھا اور وہاں مجھے بھی سردی نہیں لگی تھی۔تم جانتے ہو،ایسا کیوں ہوتا ہے؟“

    ”اصل میں جو ہمارے نانانانی،دادا دادی،ماموں یا پھوپو وغیرہ آتے ہیں۔ہم لوگوں کے لیے اچھے اچھے تحفے لاتے ہیں۔اس لیے ہمیں سردی وگرمی کا احساس نہیں ہوتا،خوشی کا احساس ہم پر حاوی ہوتا ہے۔اب دیکھو! میری دادی جان میرے لیے بہت خوب صورت قلم لائی ہیں اور پھر ہماری دادی جان کہانیاں بھی بہت اچھی سناتی ہیں۔“

    ”ارے بھئی،مزے آگئے،پھر تو میں بھی آؤں گا۔ان سے کہانی سننے۔“

    ”ارے نہیں،ابھی تووہ تھکی ہوئی ہوں گی۔“

    ”ارے! تم کو ایک مزے کی بات بتاؤں۔آج گلی میں ایک بندروالا آیا تھا۔“

    ”اس میں مزے کی کیا بات ہے۔جہاں بندرزیادہ ہوں گے،بندروالا وہیں جائے گا۔“

    ”خیر، ہمیشہ تو ایسا نہیں ہوتا۔بس آج وہ تمھارے گلی چھوڑ کر ہماری گلی میں آیا تھا۔“

    ”بھئی،ہماری گلی میں تو وہ تماشا دکھانے آتا ہے اور تمھاری گلی میں وہ بندر دیکھنے جاتا ہے۔“

    ”چلو، تم یہی سمجھ کر خوش ہوتے رہو،لیکن مزے کی بات سن لو۔“

    ”ہاں،کیا ہوا؟“

    ”ہوا یہ کہ جب مداری تماشا دکھاچکا تو اس نے بندر سے پوچھا کہ تْو یہ تماشا کس لیے دکھاتا ہے۔

    بندر نے پیٹ پر ہاتھ مار کر اشارہ کیا کہ پیٹ کی خاطر۔اس کے بعد وہ تیزی سے وہاں سے بھاگا اور میری طرف آیا اور اس نے بڑی عجیب حرکت کی۔“

    ”آخر کیاحرکت کردی،کیا تمھاری ناک پکڑ لی؟“

    ”ارے نہیں بھئی،سنوتو۔۔۔۔میرے ہاتھ میں ہمدردنو نہال تھا۔وہ اس نے میری ہاتھ سے چھین کر مداری کودے دیا۔ جیسے کہہ رہا ہوکہ اس رسالے کو پڑھو،تا کہ اچھی اچھی باتیں سیکھ سکو۔“

    ”ارے بے وقوف ٹیلی فون پر اتنی لمبی باتیں نہیں کرتے۔“

    ”آج میں ٹیلی فون ڈے منا رہا ہوں،سب سے بات کروں گا۔“

    ”ارے ہاں،ہمدردنونہال پر یاد آیا کہ کل تم جب اسکول آؤ تو میرا ہمدرد نونہال لے آنا۔میں نے ابھی پورا نہیں پڑھا ہے۔“

    ”چلو،ہمدردنونہال تو میں لے آؤں گا،لیکن بھائی! وہ تمھاراکب سے ہو گیا؟“

    ”کیا مطلب! تم مجھ سے مانگ کر لے گئے تھے!“

    ’’گھاس وغیرہ کھاگئے ہو کیا! میں نے کب تم سے ہمدردنونہال لیا تھا؟“

    ”اتنا جھوٹ تو نہ بولو۔کل ہی تو کلاس روم میں میں نے تم کو دیا تھا اور جب تم اسے لے کر بھاگے تھے تو ریاضی کے استاد نے ہم دونوں کو سزا کے طور پر مرغابنایا تھا۔“

    ”بھئی واہ! کہانی گھڑنا تو کوئی تم سے سیکھ لے۔تم ہی مرغابنے ہو گے،مجھے تو کسی نے مرغا نہیں بنایا تھا۔

    ویسے بھی کل ریاضی کے استاد اسکول نہیں آئے تھے۔“

    ”کیا کہا! ریاضی کے استاد اکرم صاحب نہیں آئے تھے! تم ہوش میں تو ہو!“

    ”اس نام کے تو کوئی استاد ہی نہیں ہیں ہمارے اسکول میں۔“

    ”چلو بھئی، بات ہی ختم ہو گئی۔

    ایک ہمدردنونہال کے لیے اتنا جھوٹ نہ بولو۔کل اسکول سے واپسی پر راستے میں تمھارا بھائی ماجد بھی ملا تھا۔“

    ”کیا ہو گیا ہے تمھیں! کون ماجد! کون سا بھائی؟میرا تو کوئی بھائی نہیں۔“

    ”کیا مطلب! تمھارا نام ساجد جلال نہیں ہے۔

    کیا ماجد تمھارا بھائی نہیں ہے؟اور کیا تم پاکستان گرامر اسکول میں آٹھویں جماعت میں نہیں پڑھتے ہو؟“

    ”کیا کہا! کیا ہو گیا ہے تمھیں۔بھئی میرا نام تو ساجد نیازی ہے اور میں گلشن پبلک اسکول میں ساتویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔“

    ”کیا کہا؟“

    ”یہ ایٹ فورون سیون ڈبل تھری نہیں ہے؟“

    ”نہیں بھئی،یہ توایٹ فورون سکس ڈبل تھری ہے۔“

    ”عجیب اتفاق ہے،ویری سوری،رانگ نمبر۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -