ضیاء الحق نے بھٹو کی پھانسی پر کیا کہا

ضیاء الحق نے بھٹو کی پھانسی پر کیا کہا
 ضیاء الحق نے بھٹو کی پھانسی پر کیا کہا

  

ویسے کہنے کو تو بہت کچھ ہے، لیکن آج صرف چند ہی باتوں پر عرق ریزی سے نظام کے جبر، عاقبت نا اندیش حکمران اشرافیہ کے گھناؤنے کرداراورپاکستانی عوام کے ساتھ روا رکھی جانے والی چیر ہ دستیوں پرروشنی ڈالنے پر اکتفا کیا جائے گا۔ تاریخِ پاکستان عروج و زوال کی لاتعداد کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچ کر گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں کھو جانے والے کئی نام موجود ہیں۔ تاہم دو شخصیات ایسی ہیں جن کا ذکر کیے بغیر اس داستان کو مکمل نہیں سمجھا جاسکتا۔ دونوں شخصیات نے تاریخ کے دھارے میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جن کے اثرات آج بھی پاکستان کی سیاست اورملک کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے پر موجود ہیں۔ ان میں سے ایک شخصیت سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کیا ہے اور دوسری شخصیت سابق صدر پاکستان و مردِ آہن جنرل ضیاء الحق کی ہے۔ دونوں کی سانحہ حیات وطن پاکستان کے لئے خاصی ہنگامہ ہیز اور حوادث ِزمانہ سے پْر ہیں۔ دونوں کی موت مختلف انداز تاہم ڈرامائی انداز میں ہوئی۔

اپنے ماننے والوں کے لئے دونوں ہی سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ دونوں کی زندگی اور افعال و کردارسے پاکستانی عوام گویا ایک بھونچال کا شکار رہی۔ ایک کو پیوندے خاک ہوتے وقت چند افراد ہی میسر آئے جو خوف و دہشت کے عالم میں اسکے جنازے کو کندھا دینے آئے جبکہ دوسرے کے سفرِ آخرت میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد موجود تھے۔ ملک کا ایک طبقہ آج بھی’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘کے نعرہ لگاتے نہیں تھکتا۔ بعد از موت جنرل ضیاء الحق کے لئے بھی’مرد مومن،مر د حق‘کے نعرے لگانے والے بہت سے تھے ملک کی ایک اہم سیاسی شخصیت نواز شریف نہ ہوتے ہوئے بھی،خود کو انکا بیٹا کہلوانا ایک اعزاز سمجھتی تھی۔ تاہم گردشِ زمانہ میں سب کہیں کھو سے گئے۔ آج ’مردِ مومن،مردِ حق‘ کے نام لیوا حال حال ہی بچے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کا حال بھی جنرل ایوب، جنرل یحیٰی اور جنرل پرویز مشرف کی مانند ہوا جنہیں اچھے لفظوں میں یاد کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا، بہت کچھ مزید لکھا اور بیان کیا جاتا رہے گا، تاہم جنرل ضیاء الحق ہوں یا پھر ذوالفقار علی بھٹو،دونوں کی موت سے وابستہ کئی راز آج بھی سربستہ راز ہی ہیں۔ شاید مستقبل میں بھی یہ ایسے ہی رہیں گے۔ کچھ روز قبل لاہور کے معروف سرکاری ہسپتال، گنگا رام ہسپتال کے اے ایم ایس آ وٹ ڈور ڈاکٹر عارف افتخار سے ملاقات ہوئی۔

انہیں حال ہی میں 20ویں سکیل ترقی دی گئی ہے۔ ڈاکٹر عارف افتخار ایک ہنس مکھ اور شریف النفس انسان ہیں،اس شعبہ سے وابستہ افراد کی اکثریت کی طرح روایتی لالچ و حرص اور طمع نفسانی سے کوسوں دور، انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ہمہ تن گوش مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ آپ سابق پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج و سابق سیکرٹری ہیلتھ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کے فرزند ہیں۔ مرحوم ڈاکٹر افتخار احمد ایک ایسی غیر معمولی شخصیت تھے جنہیں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کا بیک وقت معالج ہونے اعزاز حاصل رہا۔ وہ ضیاء الحق کی والدہ محترمہ اور انکی بیٹی کا علاج معالجہ بھی کرتے رہے۔ پروفیسر ڈاکٹر افتخار ایک طرف پابندِ سلاسل سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زیست کے آخری ایام میں انکے علاج کے دوران انکی زندگی کے بہت سے معاملات کے ہم راز بنے تو دوسری جانب ضیاء الحق کو بھٹو کے خلاف سخت ترین کاروائی کرنے سے باز رکھنے کی سعی لاحاصل بھی کرتے رہے۔

پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد اس حوالے سے بھی خوش قسمت رہے کہ وہ ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے عہدہ تک پہنچے حالانکہ یہ عہدہ بیوروکریسی کے لئے مختص ہے۔ بھٹو اور ضیاء الحق کے درمیان کیا کچھ چلتا رہا اس راز پر سے ڈاکٹر عارف افتخار نے ہمارے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پردہ اْٹھا یا اور وہ باتیں بتائیں جن کا ذکر انکے والدِمحترم نے اپنی حیات میں ان سے کیا تھا۔ ڈاکٹر عارف افتخار کو بچپن میں کئی بار اپنے والد کے ہمراہ ضیاء الحق سے متعدد بار ملنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ ڈاکٹر عارف افتخار نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے مرحوم والد کی ملاقات سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر کی بدولت ہوئی۔ مرحوم ذو الفقار علی بھٹو انکے والد کی صاف گوئی اور فلاح ِانسانیت کے لیے انکے پْر خلوص جذبہ کو دیکھ کر خاصے متاثر ہوئے۔ انہوں نے انکے والد کو سیکرٹری صحت پنجاب کے عہدہ پر ترقی دی۔ بھٹو کی حکومت کے جانے کے بعد جب انہیں گرفتار کر لیا گیا تو بھٹو کو جیل میں علاج و معالجے کے لئے کچھ ڈاکٹروں کے نام دیے گئے۔ بھٹو نے تمام نام مسترد کردیے اور ڈاکٹر افتخار احمد سے علاج کروانے کی خواہش کا اظہار کیا جسے حکومت نے بعد ازاں مان لیا۔ ڈاکٹر عارف افتخار کا کہنا تھا اس وقت کی تمام بیوروکریسی انکے والد کے خلاف تھی اور انہیں سیکرٹری صحت کے عہدہ سے ہٹانا چاہتی تھی تاہم ضیاء الحق سے دیرینہ تعلقات کی بناء پر اس میں کامیاب نہیں ہو پارہی تھی۔

بھٹو نے ایک ملاقات میں انکے والد کو بتا یا کہ ضیاء الحق کی حکومت ہر صورت میں انہیں پھانسی دے دیگی اسکی وجہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے بہرمند کرنے کے لئے یہاں ایٹمی پروگرام شروع کرنا ہے۔ مغربی قوتیں ان کی جان کے در پے ہیں۔ وہ انہیں موت کی نیند سلائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گی۔ میرے والد نے جنرل ضیاء  الحق سے ایک خصوصی ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ کے پاس اختیار ہے،آپ بھٹو کو سزائے موت نہ دیں۔ انکی سزا کو یا تو عمر قید میں تبدیل کردیں یا پھر انہیں باہر جانے دیں۔ اس پر ضیاء الحق نے میرے مرحوم والد سے کہا کہ مجھے سب کہتے تھے کہ’تم بھٹو کے آدمی ہو، لیکن میں نہیں مانتا تھا تاہم مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ تم واقعی بھٹو کے آدمی ہو‘۔ ضیاء الحق نے مزید کہا کہ’میں بھٹو کی پھانسی کے معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا، میں بے بس ہوں۔ میں اگر چاہوں بھی تو اس پھانسی کو نہیں روک سکتا‘۔ بعد ازاں میرے والد کو سیکرٹری صحت کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔ پاکستان میں اقتدار کے تانے بانے ملکی اور بین الاقوامی اشرافیہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک بھی ناراض ہوجائے تو اقتدار پر براجمان بڑے سے بڑے سیاسی لیڈر کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی بجادیتا ہے۔

مسلم لیگی رہنما و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے لئے مقتدر حلقوں کے لئے نرم گوشہ کا پیدا ہونا اور جہانگیر ترین کے متحرک ہونے سے وزیر اعظم عمران خان کو بھی اقتدار کی غلام گردشوں میں چلنے والی سازشوں کا یقینا اندازہ ہوچکا ہے۔ اسی لیے وہ بھی حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے متحرک ہوچکے ہیں۔ انکی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈ کواٹرز کا دورہ انتہائی اہم اور معنی خیز ہے۔ انکا یہ دورہ مخالفین اور خود مقتدر حلقوں کے لئے ایک اہم پیغام ہے کہ وہ اقتدار اور ملکی اداروں پر اپنی گرفت کو کسی بھی صورت میں کمزور نہیں ہونے دینگے۔

مزید :

رائے -کالم -