آئرش ایوان نمائند گان میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور یہودی آبا د کاری کیخلاف قرار دادمنظور، قطر کا غزہ کی بحالی کیلئے 50کروڑ ڈالر امداد کا اعلان 

آئرش ایوان نمائند گان میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور یہودی آبا د کاری کیخلاف ...

  

مقبوضہ بیت المقدس /دوحا (این این آئی) خلیجی ریاست قطر نے فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ کی پٹی میں بحالی اور تعمیر نو کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف  اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے قطر کی طرف سے اس خطیر رقم پر قطری حکومت اور امیر قطر کا شکریہ ادا کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں قطر کی تعمیر نو کمیٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے غزہ کی پٹی میں تعمیر نوکے لیے 500 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر کی طرف سے برادر فلسطینی قوم بالخصوص غزہ کی پٹی میں ہونے والی اسرائیلی بمباری کے بعد بحالی کے کاموں کے لیے امدادی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے مختلف منصوبوں، تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر، تعلیم، صحت، بجلی اور دیگر شعبوں پر صرف کی جائے گی۔دوسری طرف آئرش ایوان نمائندگان نے متفقہ طور پر (اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں)نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں فلسطینی علاقوں غرب اردن میں یہودی آباد کاری اور مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینیوں کی بے دخلی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ قرارداد سن فین موومنٹ نے پیش کی۔ اس میں القدس  کے الحاق اور مغربی کنارے میں آباد کاری کی سرگرمیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ قرارداد میں مشرقی بیت المقدس میں الشیخ جراح کے مقام پر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی اسرائیلی سرگرمیوں کی بھی مذمت کی گئی۔قرارداد میں  آئرش حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کرے کہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی سرگرمیاں غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اسرائیل کو آبادکاری کی سرگرمیوں کو ختم کرنے اور کسی بھی صورتحال کے جواز کو تسلیم نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ادھر چند روز میں آئرش پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جا رہا ہے جس میں ملک میں موجود اسرائیلی سفیر کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

قطر امداد

مزید :

صفحہ اول -