مشکلات سے نکل چکے، اچھا وقت آنے والا، معاشی ترقی اناج بیچنے سے نہیں صنعتیں لگانے سے ہوتی ہے، مخالفین حیران ہیں شرح نمو 4فیصد کیسے ہو گئی: عمران خان 

      مشکلات سے نکل چکے، اچھا وقت آنے والا، معاشی ترقی اناج بیچنے سے نہیں ...

  

نوشہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)   وزیراعظم عمران خان نے کہا  ہے کہ اچھا وقت آنے والا ہے، پاکستان کا مستقبل انڈسٹریلائزیشن میں ہے، صنعتوں سے ملکی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، مخالفین بھی حیران ہیں کہ ہماری معاشی ترقی کی گروتھ 4 فیصد کیسے ہوگئی، چین کی برآمدات میں اضافہ صنعتیں لگانے سے ہوا، ملکی اناج بیچنے سے معاشی ترقی نہیں ہوتی، ہمیں ایکسپورٹ پر توجہ دینی ہوگی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مغرب کی انڈسٹریلائزیشن پرانے طرز کی ہے، ماضی میں برآمدات پر توجہ نہیں دی گئی، سرمایہ کار وہاں آتا ہے جہاں اسے منافع ملے، دوست ممالک فنڈنگ نہ کرتے تو پاکستان دیوالیہ ہو جاتا، قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہمارے پاس پیسہ نہیں تھا، سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، صنعتوں سے ملکی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، رشکئی اقتصادی زون کے علاقوں کی زمینیں نہ بیچی جائیں بلکہ لیزپردیں، ہمیں ایکسپورٹ پرتوجہ دینی ہوگی، جیسے جیسے معیشت بڑھے گی لوگ امپورٹس کی طرف جائیں گے جس کو روکنا ہے،  صوبائی حکومیتں اورمرکزسرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، بدقسمتی سے پاکستان  میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات فراہم  نہیں کی گئیں، ہماری حکومت  ایکسپورٹس  کے فروغ کے لیے کام کررہی ہے،ہم مشکل سے نکلے ہی تھے کہ کورونا کے چیلنج  کا سامنا ہوا، کورونا کے دوران  مکمل لاک ڈاون سے غریب کوکچل نہیں سکتے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے رشکئی ترجیحی خصوصی اکنامک زون کے کمرشل لانچ کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صنعت میں ہے، ملک کی ترقی صنعت کے بغیر نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ رشکئی اکنامک زون سی پیک کے اندر ہے جو خوش آئند بات ہے اور یہ خوش آئند اس لیے ہے کیونکہ آج چین، دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے، اس کی ترقی سے ہم سب سے زیادہ سیکھ سکتے ہیں، مغربی ممالک کی صنعتیں پرانی ہیں اس لیے پاکستان ان سے زیادہ نہیں سیکھ سکتا۔ عمران خان نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو رشکئی اکنامک زون کے متعلق انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی زمین کسی صورت فروخت نہ کی جائے بلکہ کم قیمت پر لیز پر دیا جائے، کیونکہ یہ زمین فروخت کی گئی تو یہ ریئل اسٹیٹ بننے کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتیں لگانے کی ضرورت ہے، چین کی برآمدات میں اضافہ صنعتیں لگانے سے ہوا اور جب تک برآمدات میں اضافہ نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے اب تک ہمارا شمار سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے والے ممالک میں نہیں ہوتا،سپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاروں کو سہولت دیں گے، سرمایہ کاروں کے لیے جتنی آسانیاں ہوں گی اتنی زیادہ سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو مشکل وقت سے نکالا ہے اور جب اس مشکل وقت سے معیشت کو نکال رہے تھے تو کورونا آگیا، ہم نے سب سے پہلے فیصلہ کیا کہ لاک ڈان نہیں لگانا کیونکہ اس سے غریب کچلا جاتا ہے، مجھ پر لاک ڈان کے لیے دبا ڈالا گیا، اگر مکمل لاک ڈان لگا دیتا تو آج ملک کا بھارت جیسا حال ہوتا۔ عمران خان نے کہا کہ اللہ کا کرم ہے اور ہمارے مخالف حیران ہیں کہ ملک کا شرح نمو تقریبا 4 فیصد کیسے ہوگئی کیونکہ انہوں نے پہلے اتنی تنقید کی تھی کہ ملک تباہ ہوگیا اور یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ میں وہ کپتان تھا جو نیوٹرل امپائر لے کر آیا تھا، ہم دھاندلی سے نہیں نیٹرل امپائر سے جیتنے والے  لوگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ترقی کے راستے پر چل پڑا ہے اور اچھا وقت آنے والا ہے، صنعت بھی چل پڑی ہے، اس بار چاول، گندم اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے، اب ملک میں ڈالر زیادہ آرہے ہیں اور باہر کم جارہے ہیں '۔ انہوں نے کہا کہ  خطرہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ہماری معیشت مضبوط ہو رہی ہے ہمارے کرنٹ اکانٹ پر دبا بڑھے گا اور ملک سے باہر ڈالر زیادہ جانے شروع ہوجائیں گے جس سے ہمیں بچنا ہے، ابھی تک بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات زر بھیجی ہیں جس سے روپیہ مضبوط ہوا۔دریں اثنا وزیرِ اعظم عمران خان سے وفاقی وزاء اور   اراکینِ قومی اسمبلی  نے ملاقاتیں  کیں۔ ان ملاقاتوں میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، آزادکشمیر کے انتخابات اور  وفاقی حکومت کے جاری منصوبوں پر پیش رفت پر  تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم سے کراچی سے تعلق رکھنے والے اراکین  قومی اسمبلی  نے ملاقا ت کی۔ملاقات میں معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور و چیف وہپ ملک عامر ڈوگر، اراکینِ قومی اسمبلی عطاء اللّہ خان، فہیم خان، آفتاب جہانگیر، اسلم خان اور کیپٹن (ر) جمیل خان  بھی موجو تھے۔ملاقات میں کراچی کے مسائل پر تفصیلی گفتگو. اسکے علاوہ وفاقی حکومت کے جاری منصوبوں پر پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔ جبکہ   وزیرِ اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر برائے کشمیر افیئرز علی امین گنڈا پور، عامر محمود کیانی اور سیف اللّہ نیازی  نے بھی ملاقات کی جس میں   آزاد کشمیر میں آئندہ الیکشن کے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔ علاوہ ازیں وزیرِ اعظم عمران خان سے رکنِ قومی اسمبلی شوکت علی بھٹی، سابقہ رکنِ اسمبلی مہدی حسن بھٹی اور رکنِ صوبائی اسمبلی خالد گجر کی بھی  ملاقات ہوئی جس میں  معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور و چیف وہپ ملک عامر ڈوگر شریک تھے۔ملاقات میں وزیرِ اعظم کو حافظ آباد اور رائیونڈ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔  وزیرِ اعظم عمران خان سے رکنِ قومی اسمبلی نصر اللّہ خان دریشک اور علی رضا دریشک  نے ملاقات کی ۔اس ملاقات میں وزیرِ اعظم کے جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے علاقے پر مثبت اثرات اور متعلقہ حلقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔دریں اثناء  وزیرِ اعظم عمران خان سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکینِ قومی اسمبلی کی بھی  ملاقات  حکومت کی بلوچستان پر خصوصی توجہ کی پالیسی کے تحت بڑے پیمانے پر جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور و چیف وہپ ملک عامر ڈوگر، اراکینِ قومی اسمبلی محمد خان جمالی اور منورہ بی بی بلوچ  شریک تھے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -