تدریسی عملہ کو تنخوا ہوں کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے تفصیلات طلب کرلیں 

تدریسی عملہ کو تنخوا ہوں کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے تفصیلات طلب کرلیں 

  

 اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2012 کے دوران محکمہ سکول ایجوکیشن میں بھرتی ہونیوالے تدریسی و غیر تدریسی عملے کو تنخواہ نہ دینے سے متعلق دائر درخواست پر درخواست گزاروں سے بھرتیوں کے حوالے سے متعلقہ کاغذات کی تفصیلات طلب کر لیں عدالت کا کہنا تھا کہ جو اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ بھرتی ہوا ان کا تمام ریکارڈ پیش ہونے پر فیصلہ کریں گے کہ ان کی تنخواہ دینی چاہئے یا نہیں سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر اور جسٹس قاضی حمید پر مشتمل بینچ نے سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق کے دور میں سال 2012 میں محکمہ اسکول ایجوکیشن میں بھرتی ہونیوالے تدریسی و غیر تدریسی عملے کو تنخواہ نہ دینے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی دوران سماعت سندھ حکومت کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہیں ہواجس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیئے اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکیل ملک نعیم ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانونی سوال اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہوں کی بندش کا ہے کیا قانون کسی سرکاری ملازم کی تنخواہ روکنے کی اجازت دیتا ہے کسی قانون کے تحت کسی سرکاری ملازم کی تنخواہ بند نہیں کی جا سکتی  محکمہ سکول ایجوکیشن سندھ میں بھرتیاں درست ہیں یا غلط وہ الگ نقطہ ہے بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے بھرتیوں کے حوالے سے تمام متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ دیکھنے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو تنخواہیں ملنی چاہیے یا نہیں عدالت نے درخواست گزاروں سے متعلقہ کاغذاتوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت ستمبر تک ملتوی کر دی۔ 

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -