اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے ہیومن رائٹس کونسل میں قرار داد منظور

  اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے ہیومن رائٹس کونسل میں قرار داد منظور

  

 غزہ(آن لائن) اقوام متحدہ نے جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے قرارداد منظور کر لی۔اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے نے غزہ میں لڑائی کے دوران ہونے والے ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ تاہم اسرائیل نے تفتیش میں تعاون سے انکار کر دیا ہے۔انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے 'ہیومن رائٹس کونسل' نے  قرارداد کو منظورکیاجس میں رواں ماہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران ممکنہ طور پر ہونے والے جنگی جرائم کی تفتیش  کیلئے کمیشن بنایا جائیگا۔۔ 'ہیومن رائٹس کونسل' میں یہ ووٹنگ انسانی حقوق سے متعلق ادارے کی سربراہ میشیل بیچلیٹ کے اس بیان کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی فضائی بمباری اور فلسطینی عوام کے خلاف اس کی کارروائیاں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے دائرے میں آتی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے لیے فلسطینی گروپ حماس پر بھی نکتہ چینی کی تھی۔۔ہیومن رائٹس کونسل کی اس قرار داد کے حق میں 24 ووٹ ملے جبکہ اس کی مخالفت میں صرف نو ووٹ پڑے۔ جرمنی نے بھی قرارداد کی حمایت کی بجائے اس کی مخالفت کی۔ بھارت سمیت 14 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنی  ٹویٹ میں ہیومن رائٹس کونسل کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے اسے ''شرمناک فیصلہ'' بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے، ''عالمی قوانین کی تضحیک اور دنیا بھر کے شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔''اسرائیل کے اتحادی ملک امریکا، جو فی الوقت کونسل کا رکن نہیں ہے اور اس کی موجودگی صرف ایک مبصر کی حیثیت سے ہے، نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جنیوا میں امریکی مشن نے اپنے ایک بیان میں کہا، ''آج کی کارروائی سے کوئی بات بننے کے بجائے اس میں جو پیش رفت ہوئی ہے اس کے رک جانے کا مزید خطرہ ہے۔''فلسطین نے اس فیصلے کا یہ کہتے ہوئے خیر مقدم کیا ہے کہ اس سے، ''اسرائیل کے جبری نظام اور فلسطینی عوام کے ساتھ اس کے امتیازی سلوک کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے میں مدد ملے گی۔''حماس  کے ایک ترجمان نے اپنے گروپ کی جانب سے کارروائی کو ''قانونی طور پر درست مزاحمت'' بتاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو سزا دینے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔قرارداد میں کیا ہے؟اس قرارداد کا متن اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی اور فلسطینی وفد نے مل کر مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔ قرارداد میں اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ میں حقوق کی پامالیوں کے بارے میں تفتیش کرنے اور رپورٹ تیار کرنے کے لیے ایک مستقل تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکوائری کمیشن کو اس بات کی بھی تفتیش اختیارات دیے جائیں کہ آخر خطے میں، ''مسلسل کشیدگی، عدم استحکام اور تنازعے کے اتنے طویل ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔'' اس میں فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان پر جبر کی بھی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس کونسل

مزید :

صفحہ اول -