پاکستان میں پٹرول کی قیمت دوسرے ممالک سے آج بھی کم ہے، شہزاد وسیم 

پاکستان میں پٹرول کی قیمت دوسرے ممالک سے آج بھی کم ہے، شہزاد وسیم 

  

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت دیگر ممالک سے آج بھی کم ہے، ماضی کی حکومتوں نے معیشت کوبہتری کے لئے اقدامات کئے ہوتے تو آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ نہ جاناپڑتا، اقتصادی شعبے میں کامیابی اقتصادی پالیسیوں کی بہتری کا ثبوت ہے،بجٹ پیش ہونے سے پہلے قیاس آرائیاں کرنا پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں مختلف ارکان کے نکتہ ہائے اعتراض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباکے باوجود معیشت بہتر ہورہی ہے، ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، کرنٹ اکاونٹ فاضل ہے اور ہماری دنیا اقتصادی کامیابیوں کا اعتراف کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت شخصیات کی بجائے اداروں کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتی ہے، اقتصادی اشاریئے مثبت ہیں، بجٹ پیش ہونے سے پہلے مفروضوں کی بنیاد پراسے عوام مخالف سمجھنا درست نہیں، یہ صرف اور صرف پوائنٹ سکورنگ کے لئے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے پہلی بار رجوع نہیں کیاگیا، ماضی میں بھی آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاتا رہا ہے، ماضی کی حکومتیں اگر معاشی شعبے میں تبدیلیاں لاتیں تو پھر آئی ایم ایف کے پاس نہ جاناپڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف ہے کہ ہم معاشی شعبے میں ایسے اقدامات کریں گے تاکہ پھر آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم دل میں عوام کا درد رکھتے ہیں، آج بھی ملک میں پٹرول کی قیمت دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، پٹرولیم لیوی بھی کم کی گئی ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد ارکان اپنی تجاویز دے سکتے ہیں، مثبت تجاویز پر غور کیا جائیگا۔سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ جولائی 2018تا دسمبر 2020میں کل سرکاری قرضے میں 12.5کھرب کا اضافہ ہوا،دسمبر 2020کے آخر تک  بیرونی قرضہ 82.4ارب ڈالر تھا،مالی سال 2019-20کی نسبت جولائی 2020تا مارچ 2021کے اسی عرصے کے دوران بر آمدات کی کل مالیت میں 7.14فیصد اضافہ آیا ہے، مارچ 2020 کی نسبت مارچ 2021 کی برآمدات میں 30.66فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر محسن عزیز کے سوال کے جواب میں مشیر تجارت  عبدالرزاق داؤد نے ایوان کو بتایا کہ ہماری بر آمدات ٹھیک ٹھاک جارہی ہیں، انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ بند نہیں ہوئی  مگرکافی حد تک کم ہو گئی ہے، وزارت تجارت نے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ مالی سال 2019-20کی نسبت جولائی 2020تا مارچ 2021کے اسی عرصے کے دوران بر آمدات کی کل مالیت میں 7.14فیصد اضافہ آیا ہے، مارچ 2020کی نسبت مارچ 2021 کی برآمدات میں 30.66 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے، مالی سال 2015-16میں 20787 ملین ڈالر کی  پاکستان سے بر آمدات کی گئیں، 2016-17 کے دوران 20422 ملین ڈالر، 2017-18 میں 23212 ملین ڈالر، 2018-19میں 22958 ملین ڈالر، 2019-20میں 21394ملین ڈالر کی برآمدات کی گئیں،جولائی 2020 سے مارچ 2021 کے دوران 18687 ملین ڈالر کی برآمدات کی گئیں۔سینیٹر کامران مرتضی  کے  سوال کے تحریری جواب میں وزارت خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ جولائی 2018 تا دسمبر 2020میں کل سرکاری قرضے میں 12.5کھرب کا اضافہ ہوا،  دسمبر 2020کے آخر تک  بیرونی قرضہ 82.4ارب ڈالر تھا۔دریں اثناکووڈ 19 کے دوران پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی اقتصادی امداد کی تفصیل ایوان بالا میں پیش کر دی گئیں جس کے مطابق پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کیلئے مجموعی طور پر 3697.96 ملین ڈاکر دینے کا اعلان ہوا،پاکستان کیلئے اعلان شدہ غیر ملکی امدادی رقوم سے 3098.59 ملین ڈالر موصول ہوئیں۔وزارت اقتصادی امور  کے مطابق پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کیلئے مجموعی طور پر 3697.96 ملین ڈاکر دینے کا اعلان ہوا،پاکستان کیلئے اعلان شدہ غیر ملکی امدادی رقوم سے 3098.59 ملین ڈالر موصول ہوئیں۔ دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے لون کی مد میں پاکستان کو 1386 ملین ڈالر ملے،ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے لون کی مد 500ملین ڈالر ملے۔بتایاگیاکہ ایشین انفراسٹرکچر انوسمنٹ بنک کی جانب سے لون کی مد 750 ملین ڈالر کی وصولی ہوئی،ورلڈ بنک نے پراجکٹ فنانسنگ لون کی مد میں 510 ملین ڈالر کا اعلان کیا جس میں سے 114.2 ملین ڈالر فراہم کرچکے ہیں،اے ڈی بی نے پراجیکٹ فنانسنگ لون کی مد میں 350 ملین ڈالر کا اعلان کیا جس میں سے 248 ملین ڈالر فراہم کرچکے ہیں،فرانس نے پراجکٹ فنانسنگ لون کی مد میں 51.17 ملین ڈالر کا اعلان کیا جس میں سے 21.42 ملین ڈالر فراہم کرچکے ہیں،یورپین یونین نے گرانڈ ان ایڈ کی مد میں 57.34 ملین ڈالر کا اعلان کیا جس میں سے 39.50 ملین ڈالر فراہم کرچکے ہیں،امریکہ نے گرانڈ ان ایڈ کی مد میں 41.90 ملین ڈالر کا اعلان کیا جس میں سے 20.87 ملین ڈالر فراہم کرچکے ہیں،جاپان نے گرانڈ ان ایڈ کی مد میں 32.33 ملین ڈالر کا اعلان کیا جس میں سے 6.87 ملین ڈالر فراہم کرچکے ہیں 

وقفہ سوالات

 اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ سندھ کا پانی کا مسئلہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،حکومت جان بوجھ کر صوبوں کے درمیان اختلافات پیدا کر رہی ہے،سندھ کے معاملے پر غنڈا گردی نہیں کرنے دیں گے۔ جمعہ کو سینٹ اجلا س کے دور ان مولانا بخش چانڈیو نے کہاکہ ہمیں پانی کا یہ معاہدہ قبول نہیں،سندھ کے معاملے پر غنڈا گردی نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے لوگوں کو پینے کا پانی تک نہیں مل رہا،وفاق پاکستان کا چہرہ دیکھایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ وفاق کی بات کریں ایک صوبے کی بات نہ کریں،صوبوں کے درمیان اختلاف کی بات نہ کریں،سندھ کو ریگستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،ہم پاکستان کی سالمیت کی بات کریں گے پلیز سندھ کا پانی کا مسئلہ حل کیا جائے۔سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہاکہ جنہوں نے ملک میں پانی ماضی میں فراہم نہیں کیا وہ مجرم ہیں،عمران خان نے اپنے اڑھائی سالہ دور میں ایک ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ جو جمہوریت کے چمپئن بن رہے ہیں اور عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں،ماضی میں انہوں نے عوام کیلئے پانی کا مسئلہ حل کیوں نہیں کیا پن بجلی کے منصوبے کیوں نہیں بنائے؟ان کو جواب عوام کو دینا چائیے یہ حکومت سے جواب مانگ رہے ہیں۔ اجلاس کے دور ان سینیٹر پلوشہ خان نے کہاکہ گڈانی کے ساحل پر ایک بحری جہاز لنگر انداز ہوا ہے،اس جہاز کو انٹرپول اور ایف ائی اے نے لنگر انداز نہ کرنے کی تنبیہ کی،اس بحری جہاز میں مضر صحت اور خطرناک کیمیکلز لدے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ جب دل چاہے اس ملک کو غیر ملکیوں کے لئے شکار گاہ بنا دیں،اگر اس جہاز کے مضر صحت مرکری سے کچھ  نقصان ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے معاملہ کی تفصیل فراہم کرنے کے لئے پارلیمانی سیکرٹری میری ٹائم کو ہدایت کردی۔

پانی مسئلہ

مزید :

صفحہ آخر -