قومی اسمبلی: نیب ترمیمی آرڈ نینس میں دوسری مرتبہ تو سیع منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج، واک آؤٹ 

قومی اسمبلی: نیب ترمیمی آرڈ نینس میں دوسری مرتبہ تو سیع منظور، اپوزیشن کا ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی شدید مخالفت اور احتجاج کے باوجود نیب ترمیمی آرڈیننس میں مزید 120دن کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی گئی جبکہ پارلیمانی سیکرٹری داخلہ شوکت علی و دیگر نے وقفہ سوالات کے دوران ملک کے اعلی اداروں کے نام سے بنی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا غیر قانونی ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ جموں کشمیر،سینیٹ اور سپریم کورٹ کے نام سے بنی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا ان اداروں سے کوئی تعلق نہیں، سپریم کورٹ کے نام سے بنی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام تبدیل ہوچکا ہے،جموں کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کا کیس نیب کے پاس گیا ہے اور مقدمہ بھی درج ہوچکا ہے، تحریک انصاف نے اپنے دور میں کسی کو ہاؤسنگ سوسائٹی کااین او سی نہیں دیا ہے،فراش ٹاؤن میں کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو جگہ سب سے پہلے دی جائیگی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس شروع ہوتے ہی مسلم لیگ(ن)کے راہنما شیخ فیاض الدین نے کورم کی نشاندھی کردی، انہوں نے کہا کہ حکومتی نشستوں پر ویرانی دیکھ کر انتہائی شرمندگی ہو رہی ہے،میں کورم کی نشاندھی کرتا ہوں، جس پر سپیکر نے گنتی کرانے کا حکم دیا جس پر کورم نامکمل نکلا تو سپیکر نے کورم مکمل ہونے تک اجلاس کی کاروائی ملتوی کردی۔کورم مکمل ہونے پر سپیکر نے دوبارہ کاروائی کا آغاز کرایا، وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ شوکت علی نے بتایاکہ کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی ایک پرائیویٹ سوسائٹی ہوتی ہیں حکومت اس کی رجسٹریشن کرتی ہے ان کے انتخابات ہوتے ہیں حکومت اس کا آڈٹ کرواتی ہے۔  پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ شوکت علی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے جن سیکٹروں کی ڈویلپمنٹ نہیں ہوئی سب سے پہلے ان کو مکمل کیا جا ریا ہے۔جموں وکشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کی گزشتہ مینجمنٹ پر ایف آئی آر درج ہو گئی ہے اس کا آڈٹ کیا گیا تھا جس سے کے بعد کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جوا فسران ان کو سپورٹ کر رہے تھے ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ بحریہ ہاوسنگ سوسائٹی پرائیویٹ ہے کیونکہ یہ کراچی میں ہے تو یہ صوبائی معاملہ ہے۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ(ن)کے رہنما احسن اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو دو ماہ سے بحال نہیں کیا گیا، دو ماہ سے زیادہ گزر گئے، پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا، سپریم کورٹ کے اداوں کو بحال کیا جائے ورنہ وزیر اعلی پنجاب کیخلاف خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کاروائی کرسکتی ہیوزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا کہ 2002 میں قبرستان تک میتوں کو لے جانے کے لئے دو بسیں تھیں جن کی تعداد 2010میں 3 ہوئی اور ابھی تک  تین ہی  ہیں۔ 1990اور 1995میں ایک ایک بس خریدی گئی، آخری میت بس 2007میں خریدی گئی اس کے بعد تاحال کوئی بس نہیں خریدی گئی۔اجلا س کے دور ان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ سیشنز شروع ہونے سے پہلے ہم سے یہ بات طے کی گئی تھی کہ قانون سازی سے متعلق امور ایجنڈے پر آنے سے تین دن پہلے ہمیں بتائے جائیں گے، ہمیں بتائے بغیر آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد ایجنڈے پر موجود ہے۔ سپیکر نے کہا کہ یہ فیصلہ اس صورت میں ہوا تھا جب ہم نے یہ مل کر طے کیا تھا کہ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر ایوان میں صرف 86 ارکان آئیں گے لیکن اس فیصلے پر کسی نے عمل نہیں کیا۔ اپوزیشن ارکان نے سپیکر کی وضاحت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس کے ساتھ ہی نوید قمر اور شازیہ مری سمیت اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ بعد ازاں ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کردی، ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ نکلنے پر سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی 

مزید :

صفحہ آخر -