ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے پنشن میں اضافہ کیاجائے،نورزادہ

  ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے پنشن میں اضافہ کیاجائے،نورزادہ

  

چکدرہ(تحصیل رپورٹر)  ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے پنشن میں اضافہ کیاجائے،اضافہ نہ کیاگیا تو احتجاج پر مجبور ہوں گے، ریٹائرڈ ملازمین کی ملک وقوم کے لئے ان گنت خدمات کو فراموش نہ کیاجائے نور۱ زادہ ریٹائرڈ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اس کو عملی جامہ پہنایا جائے  وزیراعلی ٰمحمود خان نے گزشتہ روز سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کرکے بوڑھے پنشنرزکے امیدوں پر پانی پھیر دیا۔31 مئی 2021 تک پنشن میں اضافہ نہ کیا گیا تو صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔ بصورت دیگراحتجاج کے دوران اموات کی صورت میں صوبائی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ لیکن موجوہ حکومت کی ناکام پالیسی کے تحت بوڑھے پنشنرز گزشتہ دو سالوں سے آٹے میں نمک کے برابر اضافے سے محروم چلے آرہے ہیں اور بوڑھے پنشنرز مہنگائی کی چکی میں پستے جارہے ہیں بوڑھے پنشنرز زندگی کی گاڑی اور صحت کو برقرار رکھنے کیلئے مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں۔، گزشتہ روز ریٹائرڈ ملازمین کے ڈویژنل صدر نورزادہ اور لوئردیر کے صدر عبدالحمید نے دیگر عہدیداروں مومن خان،سرزمین خان اور بادشاہ زمین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد اضافے کا فیصلہ کیاہے مگر اس میں پنشنیئرز کو شامل نہیں کیا گیا ہے جو کہ سراسر ظلم ہے،انہوں نے بتایاکہ رواں سال 03مارچ کو ریٹائرڈ ملازمین  کے احتجاج  کے موقع پرنے صوبائی وزراء شہرام ترکئی اور کامران بنگش کی جانب سے تحریری یقین دہانی پر صوبائی اسمبلی کے سامنے اپنا احتجاج ختم کردیاتھا تاہم اگر پنشن میں اضافہ نہ کیاگیاتو ریٹائرڈ ملازمین دوبارہ احتجاج پر مجبور ہوں گے، انہوں نے کہاکہ وہ کرونا کرائسز کے دوران احتجاج نہیں کرنا چاہتے مگر بحالت مجبوری احتجاج کے سوا ان کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوگا،انہوں نے خبردارکیاکہ بیشتر ریٹائرڈ ملازمین ضعیف العمرہونے کیساتھ مختلف امراض کے شکار ہیں اور اگر دوران احتجاج اوہ کروناوائرس یا کسی اور حادثے کا شکار ہوئے تو ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی،انہوں نے کہاکہپے اینڈ پنشن کمیٹی ملازمین کی تنخواہیں اورریٹائرڈ ملازمین کے پنشن میں اضافے کے لئے بنائی گئی تھی اور مذکورہ کمیٹی کو اپنے فرائض ادا کرنے چاہئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -