کراچی سمیت اندرون سندھ اجناس کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

      کراچی سمیت اندرون سندھ اجناس کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں لاک ڈاؤن کے دوہرے معیار سے شہر قائد پولیس اسٹیٹ بن گیاہے جس سے تاجر اور عوام دونوں ہی پریشانی سے دوچار ہوگئے ہیں۔سندھ حکومت نے جمعہ کو لاک ڈاؤن میں مزید سختی کرتے ہوئے کراچی کی سب سے بڑی اجناس کی تھوک منڈی کو بند کرنے کی ہدایت کردی ہے جس سے کراچی سمیت اندرون سندھ اجناس کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رف ابراہیم کے مطابق سندھ حکومت نے جمعہ کو مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ ہول سیل اجناس مارکیٹ پر بھی بذریعہ علاقہ پولیس کردیا ہے اور اسسٹنٹ کمشنر گارڈن نے ہفتے کو اجناس منڈی بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل لاک ڈاؤن میں کبھی بھی اجناس کی تھوک منڈی کو بند کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ علاقہ پولیس کی جانب سے لاک ڈاون کا دوہرا معیار اختیار کیا جارہاہے جو تاجروں اور ریٹیلرز میں اشتعال کا باعث بن رہاہے۔انہوں نے کہاکہ جوڑیا بازار کراچی میں قائم 600سے زائد تھوک دکانوں سے ملک بھر کو اجناس دالیں، گندم، چینی، مصالحہ جات، چاول اور کوکنگ آئل سپلائی کیا جاتا ہے۔ جمعہ، ہفتے اور اتوار کی تعطیل کے باعث اجناس کی سپلائی بری طرح متاثر ہوگی کیونکہ تھوک مارکیٹ کے بیوپاریوں کو پورے ہفتے میں بمشکل 24گھنٹے کاروبار کے لیے میسر آتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اجناس کے تھوک ممبر بیوپاریوں کے مطالبے پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ایچ او میٹھادر سے رابطہ کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اوپر سے حکم ملا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کاروبار کی بندش کا وقت 8 سے کم کرکے6 بجے کرنے سے پہلے ہی ہول سیل کا کاروبار مشکلات کا شکار ہے۔ ان عوامل کے باعث پونے تین کروڑ آبادی کے حامل شہر کراچی میں اجناس کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -