پاکستان کو کوئی اب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان 

 پاکستان کو کوئی اب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان 

  

لاہور(خصوصی رپورٹ)محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ 1971 میں ملک کے ٹکڑے ہونے پر دل افسردہ ہوگیا۔ اس لئے سب کچھ چھوڑ کر واپس اپنے ملک آگیا اور ایٹم بم بنانے کی تجویز پیش کی۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان پہلا اسلامی ملک بن کر ابھرا۔ پاکستان کو کوئی اب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ اب اپنی زندگی فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دی ہے۔ سی ای او ڈاکٹر شوکت ورک کی محنت سے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ ہم سب فلاحی کاموں کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ ہمیں سیاست سے ہٹ کر ملک کی خدمت کرنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال میں منعقدہ تقریب سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال میں یوم تکبیر کے موقع پر خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستانی سائنسدانوں کو بھرپور الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر شوکت ورک نے اپنے خطاب  میں کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کیصرف نہیں پورے عالم اسلام کے محسن  ہیں تقریب میں الحاج قیصر امین بٹ، سی ای او ڈاکٹر شوکت ورک، معروف اداکار توقیر ناصر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں تاجر رہنما چوہدری رمضان گجر، حماد قیصر، کرنل ریٹائرڈ ارشد طاہر،  معظم شوکت ورک، سہیل مغل، ایم ایس ڈاکٹر اسحاق کمبوہ، طارق جنجوعہ، مدثر چودھری ایڈووکیٹ، راجہ نعیم اور دیگر نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر یوم تکبیر کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔ تقریب میں گلوکارہ فلک اعجاز اور دیگر فنکاروں نے پرفارم کیا اور خصوصی ترانے پیش کئے۔

مزید :

صفحہ آخر -