آج پیپلز پارٹی، اے این پی کے پی ڈی ایم ین رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کیا جائیگا: شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن 

  آج پیپلز پارٹی، اے این پی کے پی ڈی ایم ین رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کیا ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اتفاق کیا ہے کہ پی ڈی ایم کے (آج)ہفتہ کو ہونے والے اجلاس میں پیپلزپارٹی اور اے این پی کے اتحاد میں رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائیگا، کووڈ کی تیسری لہر جاری ہے،ڈیڑھ سال کے عرصے میں حکومت نے کیا اقدام کیا،کیا اس سے زیادہ کوئی مجرمانہ غفلت ہوسکتی ہے؟، اجلاس میں افغانستان کی صورتحال سمیت مختلف امور زیر غو رآئیں گے۔سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، مریم اور نگزیب بھی شریک ہوئیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہاکہ میں اور میرے سینئر ممبران مولانا فضل الرحمان کی دعوت پر حاضر ہوئے۔مولانا فضل الرحمان کی دعوت انتہائی پرتکلف اور ہمیشہ کی طرح لذیذ تھی۔ انہوں نے کہاکہ چند روز پہلے ان صحت یابی کیلئے حاضر ہوا تھا،(آج) ہفتہ کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا،جس میں ملکی صورتحال اور بجٹ کی صورتحال پر غور ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوگی امریکی افواج کے انخلاء کے بعد پڑوسی ملک میں امن چاہتے ہیں،پی ڈی ایم اجلاس میں پی پی، اے این پی کا فیصلہ ہوگا،یہ ایک فورم ہے یہاں مشاورت اور متفقہ طور پر فیصلے ہوتے ہیں میری ذاتی کوئی رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز کو مدعو کیا گیا تھا،تمام اپوزیشن لیڈر کے طور پر سب کو مدعو کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ کووڈ کی تیسری لہر جاری ہے مگر ڈیڑھ سال کے عرصے میں حکومت نے کیا اقدام کیا،کیا اس سے زیادہ کوئی مجرمانہ غفلت ہوسکتی ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے صرف امداد میں ملنے والے ٹیکوں پر اکتفا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چینی، گندم اور سبسڈیز میں کرپشن  سے پیسہ ضائع کیا گیا کاش اس پیسے کو یہاں خرچ کیا جاتا،ریاست مدینہ کا دن رات تذکرہ ہوتا ہے مگر عمل کچھ بھی نہیں، اگر درد دل ہوتا تو ملک کے کونے کونے میں یہ وزیراعظم جاتے۔ انہوں نے کہاکہ خودنمائی کی بات نہیں کرنا چاہتا، لیڈر نواز شریف کے ساتھ  ڈینگی کے موقع پر ہم نے گھر گھر سپرے کرایا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میں میاں شہباز شریف کا شکر گزار ہوں کہ آپ تشریف لائے،پہلی بار پاکستان میں ایسا ہوا کہ مرض تو آئے مگر علاج کی کوئی صورت نہیں ہے یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے،ان نااہلوں کو اب سہارا دینا جرم ہے اس پر سب کو نظر ثانی کرنی چاہیے چاہے وہ ادارے ہیں، جماعتیں ہیں یا عوام ہیں،اداروں کو تباہ کیا جارہا ہے، ہر جگہ پر حملے ہورہے ہیں،کچھ عرصہ پہلے دینی مدارس پر بھی نقب لگائی گئی اور ڈمی بورڈز متعارف کروائے گئے،اداروں کو قومی دھارے اور اصلاح کرنا تھا مگر یکدم توڑ پھوڑ پیدا کرکے بدنیتی ظاہر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقف املاک بورڈ پاکستان کے آئین اور بنیادی حقوق کی نفی ہے اسے نظریاتی کونسل میں بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہیں،داخلہ طور پر قدم قدم پر ابہام پیدا کیا جارہا ہے،دوسری طرف خطے کی صورتحال بدل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کاسودا کیا گیا؟،فاٹا میں عوام کو کیا کیا سبز باغ دکھائے گئے مگر عملاً کوئی اقدام ہی نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج خرابیوں کو دور کرنے کے لئے نئے نئے آرڈیننس لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امریکہ شکست کھا چکا ہے مگر اب وہ پاکستان میں بیٹھنا چاہتے ہیں،اگر بلوچستان میں اڈے دیئے گئے تو پھر ایران، افغانستان اور چین کا اعتماد کھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جی ڈی پی گروتھ میں صرف جھوٹ بولا جائے گا ہماری معیشت بہتر نہیں ہورہی ہے،کیا صرف بہار آنے سے سردی اور گرمی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ جو چیزیں ہم متفقہ طے کریں چاہے وہ مزاحمت کی ہو یا مفاہمت کی، وہ متفقہ ہوتی ہے،جب ساری جماعتیں ایک موقف دے رہی ہیں تو آپ الگ موقف لے رہے ہیں کیا آپ زیادہ عقلمند ہیں۔9جماعتوں کے فیصلے کے سامنے  ایک جماعت کو سرنڈر کرنا چاہیئے۔

پی ڈی ایم

مزید :

صفحہ اول -