پنجاب کے لوگوں کے خیر خواہ، ہمیں پانی انصاف سے دیا جائے: وزیر اعلی سندھ 

  پنجاب کے لوگوں کے خیر خواہ، ہمیں پانی انصاف سے دیا جائے: وزیر اعلی سندھ 

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم پنجاب کے لوگوں کے خیر خواہ ہیں لیکن صرف ایک بات کہتے ہیں انصاف سے جو پانی کا حصہ ہے وہ ہمیں دیا جائے۔آپ اپنے حق سے زیادہ کی بات نہ کریں۔میں نے تین  مرتبہ وزیر اعظم کے سامنے پانی کی باتیں رکھی ہیں۔ملک کے تین دریاؤں کوفروخت کردیا گیا لیکن سندھ کو ہمیشہ ان معاملات سے دور رکھا گیا ہے۔سندھ کا پانی کم ہوا ہے۔یہ سیاسی نہیں معاشی مسئلہ ہے۔پانی کے مسئلہ پر سندھ کا ایوان متحد رہاہے۔پانی کے اوپر کبھی سندھ اسمبلی میں جھگڑا نہیں ہوا۔اگر کسی نے کوئی ایسی بات کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔۔وہ جمعہ کو سندھ اسمبلی میں پانی کے مسئلے کے حوالے سے پالیسی دے رہے تھے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے گزشتہ اجلاس میں جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہوا۔ہم  ماضی میں اپوزیشن میں بھی بیٹھے تھے۔پانی کے مسئلہ پر سندھ کا ایوان ہمیشہ متحد رہاہے۔میں یہاں کوئی تنقید نہیں کروں گا۔پانی کا مسئلہ سندھ کے ایوان میں رکھنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 2002 میں جب میں اسمبلی ممبر بنا تو مجھے پانی کا اتنا زیادہ علم نہیں تھا۔ہمارا موقف شروع سے ایک ہی رہا ہے۔یہ کہا جاتا ہے کہ سمندر میں پانی ضائع کیا جارہا ہے۔یہ ضائع نہیں کیا جاتا ہے۔ہم اپنے لوگوں کو پیاسا مار کر پانی نہیں دے سکتے ہیں۔آپ کو ماضی کو دیکھ لیں۔1971 میں ہمارا ملک ٹوٹا۔پہلے سال مسئلہ ہوا۔اس وقت چشم جہلم کینال بنا تھا۔1972 میں گورنرز نے اس اکارڈ پر دستخط کیے۔اس وقت وزیر اعلی نہیں تھے۔سندھ کی طرف سے 72 میں ایک خط لکھا گیاکہ سندھ میں پانی کی شارٹیج ہے تو کینال بند کردیں تو انہوں نے بند کردیا۔یہ سلسلہ پھر اسی طرح چلتا رہا۔1985 میں جاکر پھر مسائل پیدا ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 1991 کے واٹر اکارڈ کی پیپلزپارٹی نے مخالفت کی تھی۔اس معاہدے کے تحت ہمارا پانی کا حصہ48.76 ملین ایکٹر جبکہ پنجاب کا 58 ملین ایکٹر کردیا گیا۔پنجاب اپنے پروجیکٹ بناتا گیا۔پھر کہا گیا کہ یہ ہمارا حق ہے۔جو بھی غیر قانونی کام تھا اس کو اکارڈ میں لیگل کردیا گیا۔اس کے بعد ایک سی ای سی کی میٹنگ ہوئی۔اس میں سب کے شیئرز بڑھ گئے۔1994 میں ایک میٹنگ ہوئی۔سندھ کے ارسا میں ممبر عبد الرسول میمن تھے۔سارا ریکارڈ موجود ہے۔1999 میں ایک ڈکٹیٹر آگیا تھا۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے جب تک ڈیم نہیں بنائیں گے پانی کی کمی کا مسئلہ موجود رہے گا۔2003 میں پھر ڈیم کا سسٹم شروع ہوئے۔ہم نے کہا سمندر میں 10 فیصد پانی جانا چاہیے۔کوٹری میں یہ پانی جانا چاہیے۔ہمارا ڈیلٹا آباد رہے۔ 5 ہزار کیوبک فٹ پانی ہر وقت سمندر جائے۔کوٹری بیراج کی حالت سب نے دیکھی ہوگی۔ایک قطرہ پانی وہاں نہیں جانا چاہیے۔اگر کوئی اور ڈیم بنتا ہے اس کو 50 فیصد بھی بھر نہیں سکتا ہے۔جب سیلاب آئے گا پھر ہی بھر سکتا ہے۔جس کو بھی مواد چاہیے وہ آئے اور آکر ہم سے مانگ لے۔آپ جگہ بتائیں میں آنے کیلیے تیار ہوں۔میں نے واپس اس مٹی میں جانا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی سر زمین ہمیشہ سر سبز شاداب رہی  ہے۔پنجاب سے سارا پانی آتا تھا۔سارے نیچرل کینال تھے۔سیلاب آتے تھے تو تباہی ہوتی تھی۔85 میں دریاں کو روکنے کاکام شروع ہوا۔سندھ کا پانی کم ہوتاشروع ہوتا گیا۔گریٹر تھل کینال 2000 میں  ایک ڈکٹیٹر کے زمانے میں بنا ہے۔1945 میں دونوں صوبوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا۔یہ سیاسی نہیں اکنامک ایشو ہے۔اس وقت ایک گورے کو بھی اس کا علم تھا۔1948 اپریل میں ہندوستان نے ہیڈ ورکس بند کردئیے۔اس وقت پاکستان کی حکومت نے پیسے بھی بھارت کو دئیے تھے۔انہوں نے کہا کہ سب کو ہم سے پوچھنا چاہیے۔ہمارے پانی میں کمی نہیں آنی چاہیے۔انڈس واٹر ٹریٹی میں ہمارا کوئی بھی ممبر نہیں تھا۔تین دریاں کو بیچ دیا گیا۔سندھ کو ہمیشہ دور رکھا گیا ہے۔اس ملک میں اس وقت بھی ڈکٹیٹر تھا۔سندھ کا پانی کم ہوا ہے۔دو کینال نہیں بنائے گئے۔بلکہ وہ دریا ہیں۔34 ہزار کیوسک پانی کو ڈائیورڈ کرنے کیلیے دو کینال بنائے گئے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اپوزیشن سوالات ضرور کرے لیکن حقائق کو بھی مد نظر رکھے۔ ہم پنجاب کے لوگوں کے خیر خواہ ہیں لیکن صرف ایک بات کہتے ہیں انصاف سے جو پانی کا حصہ ہے وہ ہمیں دیا جائے۔یہ سیاسی نہیں معاشی مسئلہ ہے۔پانی کے مسئلہ پر سندھ کا ایوان متحد رہاہے۔پانی کے اوپر کبھی سندھ اسمبلی میں جھگڑا نہیں ہوا۔اگر کسی نے کوئی ایسی بات کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔

مزید :

صفحہ اول -