خیبر پختونخوا اسمبلی سے علماو مشائخ کونسلز کے قیام کیلئے قرار داد کی منظوری 

خیبر پختونخوا اسمبلی سے علماو مشائخ کونسلز کے قیام کیلئے قرار داد کی منظوری 

  

 پشاور(نیوز رپورٹر)  خیبر پختونخو ااسمبلی نے جمعے کو اپنے اجلاس میں کئی قرار دادوں کی منظوری دی۔صوبائی وزیر قانون فضل شکور نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا خیبر پختونخوا اسمبلی کا یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 144کی روشنی میں پارلیمنٹ سے صوبائی اور اضلا ع کے لیول پر علما ومشایخ کونسلز کے قیام کے لئے قانون پاس کرائے۔انہوں نے کہا ملک میں مذہبی ہم آہنگی بڑھانے اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے مختلف مسالک کے علما  پر مشتمل کونسلز کا قیام ضرروی ہے،اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی سمیت مولانا لطف الرحمن،سردار محمد یوسف اور عنایت اللہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور علما بورڈز کی موجودگی میں کسی نئے علما ومشائخ کونسل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا ہمیں اس قرارداد کے پیچھے چھپے حکومتی مقاصد پر شبہات ہے۔ صوبائی وزیر اشتیاق ارمڑ نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے علما ومشائخ کونسل کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔۔بعد آزاں اسپیکر نے قرارداد پر رائے شماری کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دیدی گئی۔فضل الہی خان ایم پی اے کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام ٹیلہ بند اور پی ایچ اے کے درمیان جاری تنازعے کا عوامی مانگوں کے مطابق حل نکالا جائے، ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دی۔ نگہت اورکزئی کی پیش کردہ قراداد میں صوبائی حکومت  سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل فزئیو تھراپی کے گریجوئیٹس کے لئے پیڈ ہاوس جاب کے لئے اقدامات کئے جائیں۔جماعت اسلامی کی حمیرا خاتون اور سراج الدین خان کی جانب  سے بجلی بلوں میں نیلم جہلم سرچارج کی وصولی کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی بھی ایوان نے اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ایوان نے ایبٹ آباد سے رکن اسمبلی نزیر عباسی کی بھی پیش کردہ قرارداد کی بھی منظوری دیدی۔

مزید :

صفحہ اول -