گینگ وار، تشدد تیزاب گردی واقعات میں اضافہ، تصاویرسوشل میڈیا پر وائرل: لوگوں میں خوف 

گینگ وار، تشدد تیزاب گردی واقعات میں اضافہ، تصاویرسوشل میڈیا پر وائرل: لوگوں ...

  

ملتان (رپورٹ، رانا عرفان الاسلام)ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں خواتین پر تشدد، تیزاب گردی، غیر ت کے نام پر قتل کے ساتھ ساتھ، چھوٹو گینگ، لاددی گینگ، سمیت دیگر چھوٹے بڑے کئی گینگ سر گرم ہو جانے اور پر تشدد واقعات میں ہونے والے اضافہ (بقیہ نمبر16صفحہ6پر)

سے شہری عدم تحفظ کا شکار ہو گئے، ان گینگ وار کے تشدد، اغوا برائے تاوان اور آپس کی لڑائی، سے اب تک درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں انسانی تشدد کے یہ واقعات سوشل میڈیاں پر ہائی لائٹ ہونے سے شہری خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں جنوبی پنجاب میں خواتین پر گھریلو تشدد میں گذشتہ سال کے مقابلے رواں سال اضافہ ہوا ہے اور اب تک اس کے 324 واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔جس کے تحت گھریلو تشدد معاشی استحصال،جذباتی و نفسیاتی تشدد، بد کلامی اور سائبر کرائم قابل گرفت قرار دیئے گئے تھے۔گذشتہ دنوں ڈیرہ غازی خان کے علاقے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو سے انسانیت کانپ گئی ہے کہ کس طرح ایک جیتے جاگتے انسان کے جسم کے مختلف اعضاء کو کاٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے ملتان میں عید سے چند روز قبل وہاب نیازی کو سرعام قتل گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا،شجاع آباد کے نواحی علاقے میں پولیس وردی میں ملبوس ملزمان نے نئی نویلی دلہن کو زیادتی کا نشانہ بنا کر نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے ہیں مظفر آباد میں 3 افراد نے ایک نو عمر لڑکی کو بداخلاقی کا نشانہ بنا کر اس کی تصاویر کھینچیں، لڑکی نے دعویٰ کیا کہ جائیداد کے تنازع پر اسے بداخلاقی کا نشانہ بنایا گیا۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں خواتین پر تشدد اور تیزاب گردی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، گزشتہ 10 ماہ کے دوران سینکڑوں خواتین پر تشدد ہوا جبکہ درجنوں تیزاب گردی کا بھی شکار ہوئیں، شالیمار کالونی کی رہائشی خاتون مسرت بی بی پر تین سال پہلے رشتے کے تنازع پر دو لڑکوں نے تیزاب پھینک دیا تھا جس سے مسرت کا چہرہ جھلس گیا۔ضلع مظفر گڑھ میں مبینہ زیادتی کا شکار خاتون نے انصاف نہ ملنے پر تھانہ سٹی کے سامنے خود کو آگ لگا لی تھی جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئیں اسی طرح گذشتہ کئی ماہ میں خواجہ سراء پر ہونے والے تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی خواجہ سراء زخمی ہو گئے ہیں بہاولپور میں جرمانہ کرنے پر مرغی کا گوشت فروخت کرنے والے نے فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کو چھریوں کے وار کرکے زخمی کر دیا، قسطوں پر سامان لینے دینے والے نے ماہانہ قسط کی ادائیگی نہ کرنے پر تین افراد کو قتل کر دیے گئے محمد پور گھوٹہ ملتان میں زمین کے تنازعہ ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، رحیم یار خان میں کھیلتے ہوئے بچوں کی لڑائی میں بڑوں کے کود جانے سے ایک شخص قتل کر دیا گیا، بہاولپور کے نواحی علاقے میں زمین کے تنازعہ پر بھائی، بھابی اور دو بھتیجوں کو قتل کر دیا گیا بوریوالہ میں معمولی رنجش پر دو برادریوں میں ہونے والی لڑائی کے باعث کئی افراد زخمی ہوگئی، لالہ موسی میں رشتہ کے تنازعہ پر تین افراد کو قتل کر دیا گیا، ملتان میں زہریلی دوا پلانے سے تین بچے زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جنوبی پنجاب میں اس طرح کے پر تشدد واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہاہے اس حوالے سے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق جنوبی پنجاب میں پچھلے 10 ماہ کے دوران 4225 خواتین پر تشدد ہوا، 71 خواتین تیزاب گردی کا شکار ہوئیں جبکہ حوا کی 51 بیٹیوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ جنوبی پنجاب میں بربریت اور تشدد کے ان بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ یہاں کی پولیس کی خراب کارکردگی بھی ہے، جس کو دیکھتے ہوئے ظلم اور تیزاب گردی کا شکار خواتین کا اب قانون پر سے بھی اعتماد بھی اٹھتا جا رہا ہے۔

تشدد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -