ڈیموں میں ذخیرہ کم، پانی بحران سے نہروں کے ٹیل شارٹ

ڈیموں میں ذخیرہ کم، پانی بحران سے نہروں کے ٹیل شارٹ

  

 ملتان(سپیشل رپورٹر) دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں کمی کے باعث5بڑے ہیڈورکس نل پوزیشن پر آگئے ہیں۔نہروں کو پانی دینے کے لئے آبی ذخائر سے پانی کااخراج آمد سے بڑھادیاگیاہے جس کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کاذخیرہ کم ہونے لگاہے۔ پانی کے سنگین بحران کی وجہ سے نہروں کے ٹیل بھی شارٹ ہوگئے ہیں۔ محکمہ انہار کی طرف (بقیہ نمبر41صفحہ7پر)

سے نہروں پر پانی کی مانیٹرنگ بند کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے پانی چوری کاسلسلہ بھی بڑھ گیاہے۔محکمہ آبپاشی کی رپورٹ اورارسا(انڈس ریورسسٹم اتھارٹی) کے ذرائع کے مطابق قادر آباد،بلوکی، سدھنائی،اسلام اور پنجند ہیڈورکس نل پوزیشن پر آگئے ہیں۔نل پوزیشن پر آنے والے ہیڈورکس سے نکلے والی نہروں میں پانی کی کمی ہوگئی ہے۔ بیشتر بڑی نہروں کو ان کی ڈیمانڈ سے کم پانی دیاجارہاہے جس سے نہروں کے ٹیل پر کم پانی پہنچنے لگاہے۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد  50ہزار کیوسک سے کم ہوکر 24ہزار کیوسک ہوگئی ہے۔جبکہ قادرا ٓباد پر 19450کیوسک ہے جس کے باعث اس ہیڈ ورکس پر پانی کا اخراج نل ہوکر رہ گیا ہے دریائے چناب میں پانی کی کمی سے جنوبی پنجاب اور کاٹن بیلٹ بری طرح متاثر ہونے لگا ہے کیونکہ اپر پنجاب میں دھان کے علاقوں کی نہروں کاپانی بڑھادیاگیا ہے اورکمی کے اثرات جنوبی پنجاب پر مرتب ہونے لگے ہیں۔اسی طرح دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کی آمد 27000کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے پانی کی کمی کے باعث مذکورہ ہیڈ ورکس پر پانی کا اخراج نل ہوکر رہ گیاہے۔جبکہ سدھنائی ہیڈورکس پر بھی پانی کی آمد 12500کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے اور اس ہیڈ ورکس پر بھی پانی کی قلت کے باعث اخراج نل ہوگیا ہے۔اسی طرح دریائے ستلج میں اسلام اور پنجند ہیڈ ورکس پر پانی کی کمی کے باعث اخراج نل ہوگیاہے۔مذکورہ صورتحال کے پیش نظر ملکی آبی ذخائر میں اضافہ کیلئے بارشوں اور پہاڑوں پر برف پگھلنے سے پانی کی آمد بڑھنے بارے شدت سے انتظار کیا جارہا ہے تاکہ ڈیموں کے ساتھ ساتھ دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوسکے۔

بحران

مزید :

ملتان صفحہ آخر -