رنگ گورا کرنیوالی کریمیں جلدی بیماریاں پھیلانے میں سب سے آگے

رنگ گورا کرنیوالی کریمیں جلدی بیماریاں پھیلانے میں سب سے آگے

  

خانیوال (بیورو نیوز)رنگ گورا کرنیوالی کریمیں جلد کی  خطرناک بیماریوں کا سبب بننے لگیں،چاند چہرہ دنوں میں رنگ گورا چہرہ ایسا کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں ایسے پرکشش اشتہارات کے جھانسے میں آ کر گورا ہونے کے خبط میں مبتلا خواتین پیسے کی بربادی کے ساتھ اپنی جلد کا بھی ستیاناس کرنے لگیں جعلی کریموں کے استعمال سے جلدی کینسر سمیت مختلف خطرناک بیماریوں کا شکار ہونے لگیں۔ مارکیٹ میں (بقیہ نمبر50صفحہ7پر)

فروخت ہونے والی رنگ گورا کرنے والی درجنوں کریموں کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلرزبھی کر یموں کا مکسچر بنایا جانے لگا۔ اس وقت 95 فیصد خواتین جن میں کم عمرلڑکیوں سے لے کر 45 سال سے زائد عمر کی خواتین شامل ہیں رنگ گورا کرنے والی اور نائٹ فارمولا کریموں کا استعمال دھڑلے سے کررہی ہیں جو کہ سکن کینسر سمیت مختلف جلدی امراض کا باعث بن رہی ہیں۔ سٹیرائیڈملی رنگ گورا کرنے والی کریمیں جو مارکیٹ میں دھڑادھڑ فروخت ہورہی ہیں  وقتی طور پر تو رنگ گورا ہو جاتا ہے۔تاہم کچھ عرصے بعد ہی سکن خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ سروے میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کے استعمال سے متاثر ہونے والی خواتین نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ دنوں میں چہرہ چاند سا رنگ گورا جیسے دودھ جیسے کوئی کرنے والی کریموں کی فروخت کے وقت ہمیں بتایاتو یہی جاتا ہے کہ یہ کریمیں سٹیرائیڈ سے پاک ہیں تاہم جب استعمال کرتی ہیں تو حقیقت معلوم ہونے تک وہ اپنا کام دکھا چکی ہوتی ہیں۔ مسفرہ نے کہا ہے کہ میں وائٹ کریم میں رنگ گورا کرنے والی کریم رات کو سونے سے پہلے لگاتی تھی۔ شروع شروع میں تو جلد نرم ملائم اور گوری ہوگئی اس کے بعد جیسے ہی استعمال چھوڑا تو چہرہ پہلے سے بھی زیادہ کالا ہوگیا یعنی جب تک کریم استعمال کرتے رہوچہرہ ٹھیک رہتا ہے چھوڑ دوتو سکین کا ستیاناس ہو جاتا ہے۔ شاہدہ نے کہا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریموں کے استعمال سے میرے چہرے پر چھائیاں اور غیر ضروری بال آ گئے ہیں جو کہ بہت برے لگتے ہیں۔ راجو نے کہا ہے کہ رنگ گورا کرنے کا شوق بہت مہنگاپڑاہے۔ بیوٹی پارلرز پر بھی جو فارمولا نائٹ کریم دی جارہی ہے اس میں بھی پتہ نہیں کیا کیا شامل کیا جاتا ہے کہ ان کے استعمال سے میں آج اس حال میں ہوں۔ نزہت میرا نے کہا ہے کہ جیسے ہی ان کریموں کا استعمال کرنا بند کر دیا جائے تو چہرے کی پہلی والی شادابی بھی چلی جاتی ہے اور چہرہ خراب ہوجاتا ہے۔خواتین کی بڑی تعدا دمیں مسرت، شہناز، مسرت، عائشہ، مسفرہ، شاہدہ، زاہدہ ودیگر نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر معیاری کریموں پر پابندی لگائی جائے اور غیر معیاری کریمیں رکھنے والے دوکان مالکان کے خلا ف کاروائی عمل میں لائی جائے۔

کریمیں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -