ملکہ برطانیہ کی والدہ مخالف لیکن پھر بھی ملکہ الزبتھ دوئم اور شہزادہ فلپ کی شادی کیسے ہوئی؟ خاندانی کہانی سامنے آگئی

ملکہ برطانیہ کی والدہ مخالف لیکن پھر بھی ملکہ الزبتھ دوئم اور شہزادہ فلپ کی ...
ملکہ برطانیہ کی والدہ مخالف لیکن پھر بھی ملکہ الزبتھ دوئم اور شہزادہ فلپ کی شادی کیسے ہوئی؟ خاندانی کہانی سامنے آگئی
سورس: Facebook/TheBritishMonarchy

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل 5کی ایک ڈاکومنٹری میں ملکہ الزبتھ دوئم اور ان کے آنجہانی شوہر شہزادہ فلپ کی شادی کے متعلق ایک حیران کن دعویٰ کر دیا گیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس ڈاکومنٹری میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملکہ الزبتھ دوئم کی والدہ ملکہ الزبتھ اول، جنہیں’کوئین مدر‘ کہا جاتا ہے، اپنی بیٹی کی شہزادہ فلپ کے ساتھ شادی کی مخالف تھیں۔ اس کی وجہ شہزادہ فلپ پر ان کے خاندان کا بوجھ اور ان کے جرمن شاہی فیملی کے ساتھ قریبی رشتہ داری تھی، جس کی بنیاد پر کوئین مدر نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی الزبتھ دوئم کی شادی فلپ کے ساتھ ہو۔ تاہم فلپ اور الزبتھ دوئم ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے لہٰذا ان کی شادی ہو گئی۔ اس وقت الزبتھ دوئم ابھی ملکہ نہیں بنی تھیں بلکہ بادشاہت ان کے والد جارج ششم کے پاس تھی۔

رپورٹ کے مطابق شہزادہ فلپ یونانی شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے، جن کی بادشاہت دوسری جنگ عظیم سے قبل ختم کر دی گئی اور شاہی خاندان ملک سے فرار ہو کر فرانس جا کر مقیم ہو گیا۔ شہزادہ فلپ کے خاندان کے ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے شاہی خاندانوں کے ساتھ بھی قریبی رشتے تھے کیونکہ دو صدیاں قبل تک کئی یورپی ممالک کے شاہی خاندانوں کی آپس میں شادیاں ہوتی رہتی تھیں۔ شہزادہ فلپ نے سکول کی تعلیم فرانس میں حاصل کی اور پھر اپنے بکھرے ہوئے خاندان سے الگ ہو کر برطانیہ آ کر تعلیم حاصل کرنی شروع کی اور پھر برطانوی شاہی بحری فوج میں بھرتی ہو گئے۔ یہی ان کی برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ قربت بڑھی اور شہزادہ الزبتھ، جو بعد ازاں ملکہ بنیں، کے ساتھ ان کی محبت پروان چڑھی۔

مزید :

برطانیہ -