وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عراقی ہم منصب سے ملاقات ،کن امور پر اتفاق کیا گیا ؟ جانئے 

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عراقی ہم منصب سے ملاقات ،کن امور پر اتفاق کیا ...
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عراقی ہم منصب سے ملاقات ،کن امور پر اتفاق کیا گیا ؟ جانئے 

  

بغداد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی عراقی صدر برہام صالح کیساتھ ملاقات،دو طرفہ تعلقات ، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی عوام کی جانب سے عراق کی قیادت اور عوام کیلئے نیک خواہشات  کا اظہار پہنچایا ، اس سے قبل  وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے عراقی ہم منصب سے ملاقات میں دہشتگردی کے خلاف عراقی عوام کی لازوال قربانیوں کو سراہتے ہوئے فلسطین،کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں پر پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی عراقی وزارت خارجہ پہنچے ، جہاں عراقی وزیر خارجہ فوادحسین نے شاہ محمودقریشی کااستقبال کیا ، دونوں وزرائے خارجہ کے مابین تہنیتی جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی عراقی ہم منصب سے ملاقات ہو ئی ، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات باہمی دلچسپی کے امورپرتبادلہ خیال کیا گیا اور کثیر الجہتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیرخارجہ نے دورہ عراق کی دعوت پرعراقی ہم منصب کاشکریہ اداکیا اور ’وزٹرز بک میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔

عراقی صدر برہام صالح کیساتھ ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئےوزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور عراق کے مابین تاریخی ، تہذیبی اور مذہبی ہم آہنگی کی بنیاد پر استوار گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کی عوام کے درمیان پائی جانے والی قلبی وابستگی،ان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بناتی ہے، ہر سال پاکستان سے، ہر مسلک اور مکتبہ فکر سے وابستہ، دو لاکھ سے زائد زائرین زیارات کیلئے کربلا، نجف اور بغداد آتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،پاکستان اور عراق کے مابین دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی تعمیر، تعلیم، زراعت، استعداد کار میں اضافے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔شاہ محمود قریشی نے  نے عراقی صدر کو ہیومن رائٹس کونسل کے خصوصی اجلاس میں، اسرائیلی جارحیت کے خلاف آزادانہ تحقیقاتی کمیشن سے متعلقہ قرارداد کی منظوری اور پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے مطلع کیا اور  کہا کہ مسئلہ فلسطین کے مستقل اور پائدار حل کے بغیر مشرق وسطیٰ جبکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ تصفیے کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔عراقی صدر نے ماحولیاتی تبدیلی کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے پروگرام "بلین سونامی ٹری" منصوبے کی تعریف کی اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔عراق کے صدر برہام صالح نے وزیر اعظم عمران خان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کرونا وبا کے دوران معاونت پر پاکستانی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

عراقی ہم منصب سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ کے موقع  پرشاہ محمودقریشی نےکہاپاکستان عراق سےتعلقات کوانتہائی قدر کی نگاہ سےدیکھتاہے،دونوں ممالک میں برادرانہ تعلقات کی بنیادیکساں مذہبی اقدارہیں، ہم نے جغرافیائی سیاسی ترجیحات کوجغرافیائی اقتصادی ترجیحات میں بدل دیا، دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کےوسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان ابھرتی ہوئی منڈی ہے جہاں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع ہیں،مشترکہ وزارتی کمیشن کے نویں اجلاس کے جلدانعقاد کے متمنی ہیں، ابتک 63 عراقی سفارتکار اور پاک فارن سروس اکیڈمی سے تربیت حاصل کرچکے۔

شاہ محمودقریشی کاکہناتھاکہ پاکستان افغانستان سمیت خطےمیں امن کاوشوں کاشراکت دارہے،دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوسکتے ہیں۔وزیرخارجہ نے دہشت گردی کےخلاف عراقی عوام کی لازوال قربانیوں کوسراہتے ہوئے فلسطین،کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں پر پاکستان کے نکتہ نظرسے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پر مظالم کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے چاہتے ہیں، ہیومن رائٹس کونسل اجلاس میں منظور قرارداد کاخیرمقدم کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے مسئلہ فلسطین کاحل ناگزیرہے اور جنوبی ایشیا کاامن و مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑاہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے کوروناپھیلاؤ روکنے کیلئے مشترکہ کاوشوں پرزور دیا ۔شاہ محمودقریشی نے کہا کورونا کےدوران عراقی بھائیوں کیلئے طبی سامان پرمشتمل تین جہازبھجوائے، جس پر عراقی وزیر خارجہ نےامدادی سامان کی فراہمی پرپاکستان کاشکریہ ادا کیا۔

مزید :

قومی -عرب دنیا -