کوریا میں ویتنام کی طالبات سے شادی کی ترغیب پر سخت تنقید

کوریا میں ویتنام کی طالبات سے شادی کی ترغیب پر سخت تنقید
کوریا میں ویتنام کی طالبات سے شادی کی ترغیب پر سخت تنقید

  

سیول(رضا شاہ) شمالی گیانگسانگ صوبے کے منگیانگ شہر کی حکومت کو اس وقت خواتین اور تارکین وطن کے حقوق کے اداروں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس شہر کی حکومت کوریا کے کسانوں کو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے والی ویتنام کی لڑکیوں سے شادی کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔

 احتجاج اور تنقید کرنے والے ان اداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہم واضح طور پر نسل پرستی اور امتیازی سلوک کی ہے، یہ نہ صرف ایک مخصوص ملک کے خلاف بلکہ کوریا میں رہنے والی تمام تارکِ وطن خواتین اور بین الاقوامی طلبہ کے بھی خلاف ہے۔ کوریا میں تارکِ وطن خواتین کے حقوق کے ادارے نے بتایا کہ انہیں اپریل کے مہینے میں آن لائن کچھ ایسا مواد ملا جس میں شہری حکومت کی طرف سے زیادہ عمر کے وہ کسان جنہیں شادی میں مشکلات ہیں ان کی مدد کرنے کے لئے کوریا میں تعلیم حاصل کرنے والی ویتنام کی عورتوں سے شادی کرنے کی ترغیب اور مدد کا کہا گیا تھا۔

 شہری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مہم کوریا کی آبادی میں کمی اور معاشرے میں بڑھتی عمر میں اضافے کی مدد کے لیے بنائی گئی ہے۔ شہری حکومت نے بین الاقوامی شادی کرانے والے اداروں سے بھی تعاون کرنے کو کہا تھا۔ خواتین کے حقوق کے ادارے نے کہا کہ شادی مرد اورعورت کا اپنی مرضی کا انتخاب ہونا چاہئے اور کسی کو صرف آبادی بڑھانے کے ذرائع کے لئے استعمال کرنا اور سمجھنا غلط ہے۔ تارکِ وطن خواتین کے حقوق کے ادارے نے شہری حکومت کے خلاف قومی انسانی حقوق کمیشن کے پاس ایک درخواست دائر کر دی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -