سقراط نے تعدادی جمہوریت کی مخالفت بھی کی، وہ سیاسیات اور اخلاقیات میں قریب ترین ربط و ضبط اور تعلق پر یقین رکھتا تھا

سقراط نے تعدادی جمہوریت کی مخالفت بھی کی، وہ سیاسیات اور اخلاقیات میں قریب ...
سقراط نے تعدادی جمہوریت کی مخالفت بھی کی، وہ سیاسیات اور اخلاقیات میں قریب ترین ربط و ضبط اور تعلق پر یقین رکھتا تھا

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :12

علم حقیقی (Real Knowledge):

سقراط کا کہنا تھا کہ کسی بھی چیز کو ایسے ہی بغیر سمجھے اور حقیقت تک پہنچے قبول نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔اس کا کہنا تھا علم کی جستجو ہی حقیقی علم ہے کیونکہ علم کی بنیاد ٹھوس حقائق پر ہوتی ہے اور حقائق مسلمہ اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ ایک سائنسی سچائی ہے جو حساب کتاب کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔

سقراط کا خیال ہے کہ یہ مادی علم انسان کے ذہن میں مستقل طور پر رہتا ہے۔ ا س لیے ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ سچائی اور حقیقت کی تلاش جاری رکھے۔یعنی تمام وہ سائنسی علوم جو تجربات و مشاہدات کے بعد ہر جگہ اور ہر وقت ایک جیسے ہی نتائج دیں حقیقی علم ہیں۔سقراط نے مسلسل تحقیق سے آفاقی سچائیاں تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

آج کے دور میں بھی تمام سائنسی تجربات کے نتائج کو ٹھوس حقائق کی بنیادوں پر دریافت کرنے کا نام سائنس ہے۔ یعنی وہ سائنسی علوم ہیں جن کو سقراط نے اڑھائی ہزار سال پہلے علم حقیقی (Real Knowledge) کا نام دیا ہے۔ ظاہری یا غیرحقیقی علم (Un Real Knowledge):

سقراط کا کہنا ہے جس علم کی بنیاد عقائد اور خیالات پر رکھی جاتی ہے تو ایسے علم کو غیرحقیقی علم کہا جائے گا۔اس کا خےال تھا کہ عقائد اور خیالات کی بنیاد چونکہ ٹھوس حقائق پر نہیں ہوتی۔ اس لیے خیالات اور عقائد میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور ایسی کوئی طاقت موجود نہیں ہوتی جو اس کی حفاظت بہتر طور پر کر سکے۔جب علم کی بنیاد ہی تصورات پر رکھی جائے تو یہ علم بھی قابل اعتبار نہیں رہتا۔

سقراط کا کہنا ہے کہ علم وہی ہے جو انسان کے کردار پر اثرانداز ہو اگر علم اثرانداز ہی نہیں ہوتا تو ہم اس کو حقیقی علم کیسے کہہ سکتے ہیں۔ حقیقی علم تو وہ ہے جو انسانی ذہن کو جلا بخشے۔ یہی وجہ ہے کہ سقراط اس بات پر کامل یقین رکھتا تھا کہ علم بجائے خود حُسن ہے اور علم کے بغیر حسن کا تصور محال ہے۔حُسن حسین چیزوں کے وجود کے بغیر بھی ممکن ہے۔اس نے نظریہ حقیقت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشیاءکی حقیقت تصوّرِ اشیاءمیں ہی مضمر ہے نہ کہ بذات خود شے کے وجود میں۔

جبکہ اشیاءکی خارجی صورت عارضی ہوتی ہے۔ اس لیے اشیاءکے مٹ جانے سے حسن نہیں مٹتا۔اس کو آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کا خارجی جسم تو ایک دن ختم ہو جائے گا لیکن اس کے کردار کی سچائی جو کہ ابدی حسن ہے ہمیشہ قائم رہے گی۔

سیاسیات اور اخلاقیات:

اگرچہ سقراط کے بہت سے شارحین کا کہنا ہے کہ سقراط ہمیشہ سیاست سے دور رہا ،لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ سقراط ایتھنز کی اسمبلی کا ممبر بھی چنا گیا تھا اور اس نے اسمبلی کے اجلاسوں میں 30کے ٹولے اور دوسرے مقدمات میں خوب ڈٹ کر بحثیں کی تھیں۔اس کے علاوہ ایتھنز کے تمام آزاد لوگ تقریباً جنرل باڈی کے ممبران ہوتے تھے۔البتہ سقراط نے تعدادی جمہوریت کی مخالفت بھی کی ہے، لیکن سقراط سیاسیات اور اخلاقیات میں قریب ترین ربط و ضبط اور تعلق پر یقین رکھتا تھا۔

ہمیں اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ اس وقت کے ایتھنز کی جمہوریہ کی سیاست اور اخلاق میں کتنا زبردست تضاد موجود تھا۔کیوں کہ سقراط پر الزام تھا کہ اس کے غیرپاکیزہ خیالات سے نئی نسل گمراہ ہو رہی ہے۔جبکہ سقراط نے اخلاقی سیاسیات کی خود بنیاد ڈالی تھی۔ اس کا کہنا تھا۔

ہر شخص پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کرے اور اپنے انفرادی استدلال اور اپنے ضمیر کی آوا زپر لبیک کہتے ہوئے صحیح اور غلط کے درمیان حدِّفاصل قائم کرے۔ نہ صرف یہ کہ انسان خود ہر چیز کی کسوٹی ہے بلکہ ہر انسان بجائے خود اپنے لیے بھی ایک کسوٹی ہے۔سقراط کا سیاسیات میں یہ اخلاقی فلسفہ ضمیر کی آواز سے لافانی ہو گیا۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -