میسور کی پہلی لڑائی۔۔۔۔۔( 1767ءسے 1769ءتک)

میسور کی پہلی لڑائی۔۔۔۔۔( 1767ءسے 1769ءتک)
میسور کی پہلی لڑائی۔۔۔۔۔( 1767ءسے 1769ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 جن ایام میں محمد علی کرناٹک کا نواب ہوا۔ انہی دنوں میں ایک مسلمان سپاہی حیدر علی جو 1706ءمیں پیدا ہوا تھا۔ شہرت پکڑنے لگا۔ یہ لکھ پڑھ نہ سکتا تھا مگر بہادر تھا، ہوشیار تھا اور قزاقی کیا کرتا تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس کے ساتھ ایک جماعت ہو گئی۔ یہ ان لوگوں کو کوئی تنخواہ نہ دیتا تھا۔ ہاں لوٹ میں حصہ دیتا تھا۔ گاﺅں والوں کی گائیں، بھینس، بیل، بکری، غلہ وغیرہ جو کچھ ہاتھ آتا تھا لوٹ کر لے جاتا تھا۔ ہر ایک سپاہی جو کچھ لوٹ مار کر کے لاتا تھا اس کا نصف اپنے سردار حیدر علی کو دے دیا کرتا تھا اور نصف خود لے لیتا تھا۔

 رفتہ رفتہ حیدر علی کی طاقت اور جماعت اتنی بڑھ گئی کہ میسور کے ہندو راجہ نے اسے اپنی ملازمت میں لے لیا اور اس کے سپاہیوں کی تنخواہ مقرر کر دی۔ یہاں اس نے اتنی ترقی کی کہ میسور کی فوج کا سپہ سالار بن گیا۔ اس وقت میسور کا کم عمر راجا اپنے چچا سے جو مدارالمہامی کا کام کر رہا تھا بگڑ بیٹھا۔ حیدر علی کو بہانہ مل گیا۔ اس نے راجا کی طرف ہو کر مدارالمہام کو شکست دی خود تخت پر بیٹھا اور کمسن راجہ کو قید کر لیا۔

 جنوبی ہند کے اور فرمانرواﺅں نے جب دیکھا کہ حیدر علی کی طاقت اور جرأت بڑھتی جاتی ہے تو انہوں نے خیال کیا کہ اب اس کی ترقی کو روکنا چاہیے۔ نظام حیدر آباد مرہٹے اور انگریز اس خیال میں شامل تھے۔ ابھی تک حیدر علی نے انگریزوں سے جنگ نہیں کی تھی۔ مگر نواب کرناٹک کے کئی شہر اور قلعے لے لیے تھے۔ انگریز کرناٹک کے نواب کے حامی تھے۔ حیدر علی نے نظام حیدر آباد پر حملہ کیا۔ نظام بھی انگریزوں کا دوست تھا۔ اس لیے مدراس کا گورنر حیدر علی کے مقابلے میں نظام اور مرہٹوں کے ساتھ شامل ہوا اور کچھ فوج نظام کی مدد کے لیے روانہ کی۔ انگریز فوج نظام کے لشکر کے ساتھ میسور میں داخل ہوئی اور بنگلور پر قابض ہو گئی۔

 حیدر علی اتنا بیوقوف تو تھا نہیں کہ ایک ہی دفعہ تینوں سے لڑنے لگ جاتا۔ پس اس نے مرہٹوں کو توڑا اور ایک بڑی بھاری رقم دے کر ان کو واپس پھیر دیا۔ پھر نظام کی طرف خط لکھے اور کہا کہ اگر تم میرے ساتھ ہو جاﺅ گے تو کل کرناٹک فتح کرا دوں گا۔ نظام حیدر آباد اسکے دم میں آ گیا۔ تب دوسری صبح کرنیل سمتھ جو انگریز فوج کا کمانڈر تھا۔ کیا دیکھتا ہے کہ نظام کی فوج جسکی مدد کے لیے وہ مدراس سے چل کر اتنی دور آیا تھا۔ حیدر علی کی فوج کے ساتھ شامل ہو کر اس پر حملہ کرنے کو تیار ہے۔

کرناٹک

 کرنیل سمتھ بنگلور سے ہٹ کر مدراس واپس چلا گیا۔ حیدر علی ستر ہزار کی جماعت لے کر اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ انگریز چاند گاﺅں کے درے میں تھے۔ جہاں سے کرناٹک کا راستہ جاتا ہے کہ حیدر علی ان پر آن پڑا لیکن شکست کھا کر پسپا ہوا اور اس کی بہت سی سپاہ ماری گئی۔ حیدر علی نے اس پر بھی کرنیل سمتھ کا پیچھا کیا ترناپلی میں بڑی بھاری لڑائی ہوئی۔ حیدر علی کو شکست فاش ہوئی اور اب وہ بھاگ گیا۔ اس پر نظام نے بھی حیدر علی کا ساتھ چھوڑ دیا۔ فوراً حیدر آباد چلا گیا اور انگریزوں سے صلح کر لی۔

 اس کے ایک سال کے بعد تک حیدر علی سے آہستہ آہستہ لڑائی ہوتی رہی۔ فوجیں ادھر ادھر کوچ کرتی نظر آتی تھیں مگر حیدر علی دوسری لڑائی کی جوکھوں اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔ آخر کار یہ ایک بڑی بھاری فوج لے کر نہایت سرعت کے ساتھ مدراس پہنچا اور وہاں کے گورنر سے صلح کا ملتجی ہوا۔

 گورنر کے پاس لڑائی کے لیے روپیہ نہ تھا وہ جانتا تھا کہ کمپنی کا تمام منافع لڑائی میں صرف ہو جائے گا تو کمپنی خوش نہ ہو گی۔ اس کو اتنی بھی مہلت نہ تھی کہ بمبئی اور بنگال کے گورنروں کو لکھ کر ان کی رائے لے لیتا، کیونکہ حیدر علی کہتا تھا کہ مجھ کو تو ابھی جواب دو۔ پس گورنر نے حیدر علی کے ساتھ صلح کر لی اور یہ شرط قرار پائی کہ جو ملک طرفین نے فتح کیا ہے واپس دے دیا جائے اور فریقین میں سے کسی پر کوئی حملہ کرے تو دوسرا فریق اس کی مدد کرے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے، ادارے کا لکھاری کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -