سیّا حت اس علا قے کے لو گو ں کی زندگی ہے اور عطا آ باد جھیل نے سیا حت کو بہت نقصان پہنچا یا تھا

سیّا حت اس علا قے کے لو گو ں کی زندگی ہے اور عطا آ باد جھیل نے سیا حت کو بہت ...
سیّا حت اس علا قے کے لو گو ں کی زندگی ہے اور عطا آ باد جھیل نے سیا حت کو بہت نقصان پہنچا یا تھا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :88

”مل جا ئیں گے۔“ نذر نے سنجیدہ چہرے کے ساتھ یوں مختصرجواب دیا جیسے ہم پر کو ئی مہر بانی کر رہا ہو، حا لاں کہ جس علا قے میں ہمارے سوا کو ئی بیرونی مسا فر نہیں پا یا جاتا تھا وہا ں یہ ہماری مہر بانی تو ہو سکتی تھی اس کی نہیں۔ تھو ڑے سے بھاؤ تاؤ کے بعد ہمیں کمرے مناسب قیمت پر مل گئے۔ نذیر کو کل صبح 9 بجے آ نے کا کَہہ کر ہم نے نذر علی کو چائے بنانے کا کہا اور بیگ اٹھا کر کمروں کا رخ کیا۔کمرے صاف ستھرے اور کشادہ تھے۔ غسل خانے بھی ٹھیک تھے اور گرم پانی وافر مقدار میں میسر تھا۔ سا مان کمرے میں رکھ کر میں بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ سخردوپہر ہونے کے باوجود ہوا میں خوشگوار خنکی تھی جس سے لگتا تھا کہ رات ٹھنڈی ہو گی۔ کچھ دیر بستر پر اونگھنے کے بعد میں اٹھ کر ڈائننگ ہال میں چلا گیا جو حسب ِ سابق خا لی تھا۔ باورچی خا نے میں جھا نکا تو نذر علی اداس ٹونٹی کے نیچے ایک پتیلا مانجھ رہا تھا۔ ایک چو لہے پر چائے کی پتیلی چڑ ھی تھی۔ پکا نے کے بر تن اور سامان مختلف کو نوں میں تر تیب سے پڑے تھے ۔ نیم روشن با ور چی خانے میں گیس کے چولہے کی شوں شوں، ٹو نٹی سے ٹپکتے پا نی کی ٹپ ٹپ اور پتیلے کی گھس گھس کا نا قابلِ فہم کچن آرکسٹرا بج رہاتھا۔ نذر علی نے میری مو جو دگی کو محسوس کر کے پلٹ کر دیکھا اور بنا کچھ پوچھے، کہے دوبارہ پتیلا ما نجھنے لگا۔ 

”جی نذر، چا ئے بن گئی؟“ میں نے مسکرا کر دو ستا نہ انداز اختیار کر نے کی کوشش کی۔

 ”بن رہی ہے۔“ ایک خشک جواب آ یا اور پتیلا دوبارہ گھس گھس کی آواز پرگھو منے لگا۔ 

میں خا موش کھڑا مکا لمہ آ گے بڑ ھا نے کےلئے کو ئی بات سوچ رہاتھا کہ نذر نے بغیر مڑے پو چھا۔ ”چائے ہال میں پیئیں گے یا کمرے میں؟“

”یہیں پی لیں گے،“ میں نے جواب دیا پھر یوں ہی بات بڑھانے کوسوال کیا۔ ”یہ جھیل بننے سے پسو والوں کا تو بہت کاروباری نقصان ہوا ہو گا؟“

 ”ہمارا تو ستیا ناس ہو گیا ہے!“ نذر علی کے لہجے میں ایسی اداسی تھی جو بجلی کے کوندے کی طرح میرے دل تک اتر گئی۔ ایک لمحے میں مجھے اس کی گہری سنجیدگی، لا تعلقی، مایوسی اور خاموشی کی وجہ سمجھ آ گئی اور میری بے زاری ہمدردی میں تبدیل ہو گئی۔ سیّا حت اس علا قے کے لو گو ں کی زندگی ہے اور عطا آ باد جھیل نے سیا حت کو بہت نقصان پہنچا یا تھا۔ غا لباً مسلسل بدحالی اور مسلسل تنگی سے نذر علی بجھا بجھا اور ما یوس رہنے لگا تھا۔ 

باقی دوست آ ئے تو ہم نے ریستوران میں چائے پی۔ کرا کری صاف اورعمدہ تھی۔ ندیم ، سمیع اور طاہر نے، جو چائے کے ماہر اور کافی حد تک نشئی ہیں اور چائے نہ ملنے پرکھلم کھلا سُستی، کا ہلی اور نا مردی کا مظا ہرہ کر نے لگتے ہیں، اعلان کیا کہ، ”چائے اچھی ہے۔“

 چائے ختم کر کے اور نذر علی سے پسو پُل کا راستہ پو چھ کر ڈائننگ ہال سے باہر نکلے تو آسمان صاف تھا۔ دھوپ میں پسو اِن کے لان میں کھڑے سیبوں اور چیری کے درختوں کے رنگ کُھل گئے تھے اور پست قامت پیڑخوش دکھا ئی دیتے تھے۔ اسلام آ باد کے کچھ نو جوان ہوٹل میں دا خل ہوئے۔ وہ بو لتورو یا شاید اُلتر گلیشئیر کا ٹریک کر کے آ ئے تھے۔ وہ سب ویسے ہی تھے جیسے اس طرح کے شوق رکھنے والے سر پھرے ہو تے ہیں۔ عا شقان ِ صا دق کی طرح تھوڑے تھوڑے کریک۔ جن کے ہو نٹو ں پے ہنسی پاؤں میں چھالے ہو تے ہیں، بڑھی ہو ئی شیو والے تھکے چہروں پر مسکرا ہٹ، میلے کپڑے، حو صلہ مند اور friendly۔ انہوں نے بتا یا کہ وہ 7 دن کا راستہ 3دن میں طے کر کے آ ئے تھے۔ ہم فورا ً ہی دوست بن گئے اور ان سے ان کی مہم کی باتیں سننے لگے۔مذاہب کے علاوہ بھی دنیا میں کئی فرقے اور سلسلے ہو تے ہیں، مثلاً دنیا میں ایک فرقہ یا سلسلہ دولت کا ہے، سلسلۂ سیم و زر کے لوگ بلا تفریق ِ ملک و ملت، عقیدہ و نسل ایک دوسرے کے پیارے اور زربھا ئی ہو تے ہیں۔اسی طرح آوارگان ِ عالم کا بھی ایک فرقہ ہے، سلسلۂ آوارگان۔ یہ جہاں بھی ہوں، جو بھی ہوں ایک دوسرے کے دوست ہو تے ہیں۔ ہم ان”اجنبی دوستوں“ سے چند باتیں کر کے باہر نکل آ ئے اور دوبارہ گلمت کی طرف چلنے لگے۔ اس راستے پر ہمیں اپنا کھویا ہوا خواب ڈھونڈنا تھا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -