طلبہ تنظیموں میں تصادم

طلبہ تنظیموں میں تصادم

  

جناح ہسپتال کراچی میں دو طلبہ تنظیموں میں شدید تصادم کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ ایک تنظیم کے نامعلوم طالب علم نے رات گئے دوسری تنظیم کے جناح ہسپتال میں قائم دفتر کو آگ لگا دی،جس سے دونوں تنظیموں کے ممبران کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔تصادم کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ ترجمان جناح ہسپتال کے مطابق 20 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جبکہ کشیدگی پر قابو پانے کے لیے سندھ پولیس اور رینجرز کو طلب کیا گیا۔ اس واقعہ پر تھانہ صدر کراچی میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے ہسپتال میں مریض اور تیماردار، طبی اور غیر طبی عملہ بھی خوف و ہراس میں مبتلا ہو گیا۔سندھ حکومت نے طلبہ تنظیموں سے پابندی اٹھائی تھی۔ طلبہ یونینوں پر 38 سال تک پابندی رہی اور سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے فروری 2022 میں اس پابندی کو ختم کیا۔ صدر جنرل ضیا الحق مرحوم کے عہد کے دوران 1984  میں پورے ملک میں طلبہ یونینز پر پابندی لگائی گئی تھی۔ سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر سندھ سٹوڈنٹس یونینز بل پاس کیا، اس کے تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طلبہ یونینز کے الیکشن اور طریقہ کار پر عمل درآمد ہونا تھا لیکن موجودہ واقعہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ طلبہ تنظیموں میں تشدد کا رحجان بڑھ چکا ہے اور احترام اور برداشت کا عنصر بھی مفقودہے۔ مخالف فریق کے دفتر کو آگ لگانا شدت پسندی کی بدترین مثال ہے۔ فائرنگ کے تبادلے سے یہ بات بھی واضح ہو تی ہے کہ طلبہ تنظیموں کے کئی ممبران اسلحہ بردار بھی ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی بدامنی کیس میں سیاسی جماعتوں کے شدت پسند ونگز کی نشاندہی کی تھی اور ان کو ختم کرنے پر زور دیا تھا۔اس جانب بھی توجہ دینا ہو گی اور طلبہ تنظیموں میں شامل شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔ سرکاری جامعات میں طلبہ تنظیمیں شدت پسند عناصر کے زیر اثر دکھائی دیتی ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے اپنے اداروں کو ایسے عناصر سے پاک رکھا ہوا ہے۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والے تعلیمی اداروں کو بھی علمی، ادبی اور تحقیقی ماحول پیدا کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -