وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے پہلا خطاب

 وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے پہلا خطاب

  

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں جہاں غرباء کے لیے 28 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا وہاں اپنی اتحادی حکومت کی سمت اور ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا قوم نے جس ذمہ داری کے لیے مجھے منتخب کیا ہے وہ میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ وزیراعظم کا منصب ایسے حالات میں سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں،وزیراعظم نے کہا ہم نے حکومت سنبھالی تو ہر شعبہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا،ایسی تباہی جو پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا تاہم ملک کو بحالی اور بہتری کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے انتھک محنت درکار ہو گی۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی،اُن کا کہنا تھا ہماری سیاست کے ریشوں میں نفرت کا زہر بھر دیا گیا ہے۔ ایک شخص نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے عالمی سازش کی کہانی گھڑی امریکہ میں ہمارے سفیر نے بھی سازشی کہانی کو مسترد کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ عمران خان حکومت نے کیا،آئی ایم ایف کی سخت شرائط تسلیم کیں جن کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہمارا ایک ہی مقصد ہے پاکستان کو خوشحال اور قائد کا پاکستان بنانا،اس مقصد کے لیے ہم سخت اور مشکل فیصلے کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر کہا ہم نے ملک کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کے دِل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔اس مقام تک سابق حکومت نے پہنچایا،ہمیں غریبوں کی مشکلات کا احساس ہے،اُس کے لیے ہم نے 28ارب روپے کے فنڈ سے ایک ریلیف پیکیج تیار کیا ہے۔اس سے ایک کروڑ 40لاکھ غریب گھرانوں کو فائدہ پہنچے گا،ہر خاندان کو2  ہزار ماہانہ دیئے جائیں گے،جو پہلے سے دیئے جانے والے امدادی پیکیج کے علاوہ ہوں گے۔اس پیکیج کو بجٹ میں شامل کریں گے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ یوٹیلٹی سٹور پر 10کلو آٹے کا تھیلا اب400روپے میں ملے گا تاکہ غریبوں کو سستا آٹا میسر آئے۔شہباز شریف نے کہا ملک کسی شخص کی ضد پر نہیں بلکہ آئین پر چلے گا۔عمران خان کی سازشی تھیوری کو قومی سلامتی کمیٹی نے دو مرتبہ مسترد کیا۔ یہ شخص قومی تعلقات اور سفارتی روابط کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے آئینی طریقے سے حکومت بدلی گئی، دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پہلے خطاب میں جو کچھ کہا وہ اُن کا حق تھا یقینا اُن کی کئی باتوں سے تحریک انصاف اتفاق نہیں کرے گی اور انہیں مسترد کر دے گی، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ملک اس وقت معاشی گرداب میں دھنسا ہوا ہے، صرف معاشی ہی نہیں، بلکہ سیاسی پولرائزیشن کے حوالے سے بھی پاکستان آتش فشاں کے دھانے پر کھڑا ہے۔ایک دوسرے کی بات سننا بھی گوارا نہیں اور فاصلے ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے اس خطاب میں اس بات کی کمی محسوس کی گئی کہ قومی مفاہمت کے لیے کوئی ایجنڈا پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ تو کہہ دیا کہ حکومت اگست2023ء تک اپنی مدت پوری کرے گی،مگر اس پر کچھ نہیں کہا کہ اس معاملے میں حزبِ اختلاف کو ہموار کرنے کرنے کے لیے وہ کیا اقدامات کریں گے، انہوں نے عمران خان کے فوری انتخابات کے حوالے سے مطالبے کو ضد کا نام دیا اور کہا ملک کسی کی ضد پر نہیں آئین پر چلایا جائے گا تاہم اس نکتے پر دونوں فریقین کے درمیان جو خلیج نظر آتی ہے، اُسے پاٹنے کے لیے کیا اقدامات ہوں گے،اس بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی یہ بات درست ہے کہ ملک کو اس وقت معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔تاہم یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔صرف یہ کہہ دینے سے کہ موجودہ حکومت سیٹ اپ اگست2023ء تک قائم رہے گا، استحکام پیدا نہیں ہو سکتا، جب تک اپوزیشن سے تعلقات کار قائم نہیں ہوتے۔جس دن وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کیا اُسی دن سابق وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ وارننگ دی کہ اگر نئے انتخابات کی جون میں تاریخ نہ دی گئی تو وہ دوبارہ اسلام آباد آئیں گے تاہم انہوں نے ایک اچھی بات یہ کی کہ اس معاملے پر ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے جو عمران خان کی طرف سے سامنے آئی ہے، پہلے وہ حکومت سے کسی بھی معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھے۔ اب انہوں نے خود اس کی پیشکش کی ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اس حوالے سے لچک دکھائی جائے اور فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں وگرنہ بے یقینی کی تلوار لٹکتی رہے گی اور سیاسی استحکام پیدا ہو گا، نہ معاشی استحکام کا حصول آسان ہوگا۔عمران خان کی یہ بات اُن کے عزائم کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرکوئی سمجھتا ہے ہم اس حکومت کو تسلیم کر کے بیٹھ جائیں گے تو وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہے۔ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔اب ظاہر ہے اس سوچ کو بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے۔ تحریک انصاف کو سیاسی تنہائی کا شکار رکھنے کی بجائے حکومت کوشش کرے کہ اسے قریب لایا جائے، مثلاً اس وقت چیئرمین نیب کے تقرر پر حکومت اپنے اتحادیوں سے مشورہ کر رہی ہے۔اس مشاورت میں تحریک انصاف کو بھی شریک کر لیا جائے تو اس کا ایک اچھا تاثر جائے گا، اس سے وہ برف پگھلے گی جو اس وقت پورے نظام کو منجمد کئے ہوئے ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنی تقریر میں عمران خان کو یہ دعوت دیتے کہ وہ آئیں اور افہام و تفہیم سے فیصلے کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔ اچھی حکومت مذاکرات اور مفاہمت کے دروازے کھلے رکھتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں مشکل فیصلے کا جو عندیہ دیا ہے، وہ موجودہ حالات میں وقت کی ضرورت ہے،تاہم مشکل فیصلوں کے ساتھ ساتھ انہیں سیاسی فیصلے بھی کرنے چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -