لیڈی کانسٹیبل, وزیر داخلہ, آیوٹا وغیرہ 

لیڈی کانسٹیبل, وزیر داخلہ, آیوٹا وغیرہ 
لیڈی کانسٹیبل, وزیر داخلہ, آیوٹا وغیرہ 

  

 مولانا زاہد الراشدی کا سا حسن بیان اب لاؤں بھی تو کہاں سے؟ جو سنا سمجھا تھا، البتہ بتائے دیتا ہوں. ڈیڑھ دو منٹ کی تقریر میں فرماتے ہیں: "خلیفہ ہارون الرشید  جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد پہنچے تو خطیب کو کلمات حق بیان کرنے کا موقع مل گیا۔ خوب گرجا برسا کہ تم نے یہ کیا، تم نے وہ کیا۔ تقریر ختم ہوئی تو خلیفہ نے پوچھا: "حضرت! آپ کا مقام بڑا ہے یا موسیٰ علیہ السلام کا؟"خطیب نے حیرت سے پوچھا: "جناب کہاں موسیٰ علیہ السلام اور کہاں میں؟" خلیفہ نے پوچھا: "یہ فرمائیے حضرت کہ میں زیادہ برا ہوں یا فرعون؟"  خطیب سٹپٹا کر بولا: "آپ امیر المومنین ہیں، خلیفہ المسلمین ہیں، کہاں آپ اور کہاں فرعون؟" خلیفہ بولے: "حضرت! اللہ نے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس بھیجا تو فرمایا تھا کہ اسے نرمی سے سمجھانا، ممکن ہے وہ کچھ دھیان دے یا ڈر جائے۔"

مولانا محترم کا یہ خطاب علماء  کے مجمع میں تھا جہاں وہ اختصار کے ساتھ اپنے ہی لوگوں کو خود احتسابی اور سوچنے کی دعوت دے کر آگے نکل گئے. زبان یا قلم سے کچھ کہنے  والوں یا مخلوق خدا کی رہنمائی کرنے والوں کے لئے قرآن کا یہ ابلاغی اسلوب، یعنی"کتاب ہدی" کا پہلا سبق یوں ہے: "لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف حکمت اور بھلے طریقے سے بلاؤ." اوپر سے محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے چاندی کے ورق لگا دیے,فرمایا: مومن طعنہ زنی نہیں کرتا (ترمذی). اب میں بقراط و سقراط کے اقوال کا سہارا لوں تو کیوں؟ اور یہ بھی نہیں کہ کلمات سقراط و بقراط حکمت و دانائی سے خالی ہیں۔ ہر گز نہیں۔ دراصل ان کی ہدایات تو سانس کی بندھی ڈوری سے لپٹی ہوتی ہیں۔ سانس ٹوٹتے ہی تمام ہدایات بے اثر اور بے سواد,رنگ باقی نہ ذائقہ! تو میں آپ کو لوح محفوظ پر لکھی دائمی تحریری جھلکیاں کیوں نہ دکھا دوں؟ وہ لوح محفوظ جس کا حرف حرف سانس کی ڈوری ٹوٹنے پر قبر، حشر نشر میں بھی پیچھا کرے گا۔ لیکن ذرا رکئیے۔

 اپنے انہی بقراط سقراط کی ماں بولی جن حروف کو جوڑ کر الفاظ بناتی ہے، ان میں سے نویں حرف کو اہل یونان آیوٹا (Iota)کہتے ہیں جو سب سے چھوٹا, مختصر اور ننھا حرف ہے۔ کارگاہ حرف و لفظ پر بنے مضامین کا ہر لفظ چند حروف سے ساختہ ہوتا ہے۔ ان حرفوں میں سب سے چھوٹا حرف "آیوٹا" کہلاتا ہے. ارض فلسطین کے لوگ اس ناقابل بیان مقدار کے لیے عبرانی میں یودھ (Yodh) نکال لائے۔ باشندگان جزیرہ نما آئبیریا (وہی اپنے گلستان اندلس والے)  اور المانی و فرنگی صدیوں سر جوڑے بیٹھے رہے، تب کہیں اس نامعقول رقم، مقدار یا وزن کے لیے بصد سامان مشکل لفظ جوٹا (Jota) ہی تراش سکے. فرنگیوں نے جوٹے کو کتر کر جے(J) بنا ڈالا. فرستادہ آمرزگار، جبریل کی لوح محفوظ سے لائی عبارت کا ایک جملہ یوں ہے: "فمن یعمل مثقال ذرہ۔۔۔ "جس نے ذرہ برابر بھی عمل کیا۔۔۔" صاحبو! میں کم فہم تو اسے وہی اپنے والا "ذرہ" سمجھ بیٹھا تھا۔

 وہ تو بھلا ہو سقراط بقراط کی ماں بولی کا جس نے بتایا: بیٹا جی! لوح محفوظ والا یہ ذرہ تمہاری اردو والا ذرہ نہیں ہے۔ یہ آیوٹا ہے، یہ جوٹا ہے، یہ جے ہے، یہ یودھ ہے۔ کچھ پلے نہ پڑا تو فرنگی لغت نے ان سب کا ترجمہ یوں کر دیا: "معمولی سی مقدار بھی نہیں " یا "ناقابل بیان مقدار"۔ لوح محفوظ کے الزلزال (زلزلہ) نامی حصے کے مفہوم نے دل و دماغ میں بھونچال بپا کر رکھا تھا کہ جب زمین زلزلے سے تڑاخ پڑاخ ہو کر اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی تو جس نے اپنے قول و فعل یا حرف و لفظ کے ذریعے شر کا ایوٹا، ذرہ یا حتی کہ نا قابل بیان مقدار میں بھی شر پھیلایا ہوگا تو وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔  صرف دیکھ لے گا؟ صاحب! کائنات بچوں کا پب جی نہیں ہے. یہاں تو ہر کوئی ناقابل بیان مقدار کے اپنے شر کے آیوٹے اور ذرے کو اسی عالم تزلزل میں بھگتے گا، صرف دیکھے گا نہیں، یاں جی!

مولانا زاہد الراشدی نے علماء  کو حضرت موسیٰ اور فرعون کی مثال سے نرم گفتگو کرنا سمجھا تو دیا، پر ان مولوی صاحب کا کیا جائے جنہوں نے پرسوں پر لے روز جلسہ عام کی اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم کی مرحومہ ماں پر ذرہ یا آیوٹا نہیں الزام کا پورا پہاڑ گرا دیا۔ مجھے تو اپنا احد پہاڑ آج ہی سے اپنی آغوش میں بھونچال چھپائے نظر آرہا ہے کہ ابھی رب کائنات کا حکم نہیں ہے۔اسی سابق وزیر اعظم کے پاس بیٹھی ایک شیخ الفانی ستر سالہ بڑھیا نے موجودہ وزیر داخلہ کی ماں پر ذرہ یا آیوٹا نہیں، اسی الزام کا پورا پہاڑ گرا دیا اور رواروی میں بھی نہیں، سوچ سمجھ کر ویڈیو بھی بنوائی۔معصوم خاتون کانسٹیبل حکم کی تعمیل میں اسی بڑھیا کو گرفتار کرنے گئیں تو اس کی ماں کا بھی وہی حشر۔

جلدی، جلدی، بھاگئے، دوڑیے۔ قبل اس کے کہ ہمارے ان کرتوتوں پر زمین غصے میں آکر آج ہی اپنے بوجھ نکال پھینکے اور مہلت عمل ختم ہونے سے پہلے ہم اپنے اپنے ذرے ایوٹے بھگتتے پھریں، دوڑیے، جائیے، ان مولوی صاحب اور اس بڑھیا کو بتائیے کہ زمین اپنے بوجھ نکالنے کو ہے۔ ابھی اسی وقت معافی تلافی کرلو، ورنہ سابق وزیراعظم، موجودہ وزیر داخلہ اور معصوم لیڈی کانسٹیبل کی مظلوم مائیں تمہارے الزامات کے پہاڑ تمہاری پیٹھ پر دے ماریں گی۔ جلدی، جلدی کیجئے۔ اور ہاں ان بولنے لکھنے والوں کو بھی خبردار کیجیے جو سیاست صحافت میں لکھتے بولتے ہیں تو خود ساختہ مخالفین کی اولادوں کا شجرہ نسب لکھتے ہیں۔ بھلے انداز میں اصلاح کرنے اور اللہ کے راستے کی طرف بلانے کی بجائے لوگوں پر چور، ڈاکو، خائن کے القاب چسپاں کرتے رہتے ہیں۔

 ایک دن زمین کہ جب اپنے بوجھ باہر نکال رہی ہو گی تو شاید وہ یوں گواہی بھی دے بیٹھے: "رب کائنات!  تم نے  موسیٰ علیہ السلام کو آمر مطلق فرعون سے بھی نرم لہجے میں بات کرنے کو کہا تھا، ادھر سراپا رحمت ہی نہیں اس رحمت اللعالمین کے امتی ہیں جس نے الزام تو رہا ایک طرف، غلطی، کوتاہی یا جرم کا طعنہ دینے سے بھی منع کیا تھا۔ لیکن یہ امتی ہیں کہ اپنی گردنوں پر اپنے لگانے گیے الزامات کا پشتارا اٹھائے ہوئے ہیں۔" اے خبردار!  اگر آپ ان لوگوں تک لوح محفوظ کی عبارت نہیں پہنچا سکتے تو آئیے ہم سب خود ہی اس پر عمل کریں۔  زمین اپنے بوجھ اگلنے کو ہے۔ ذرے، آیوٹے، جوٹے اور یدھ  نہ کمائیے، وہاں تو موعظہ حسنہ ہی کام دے گا۔ جلدی جلدی فورآ ابھی، اسی وقت!

مزید :

رائے -کالم -