حکومت جانے کے لئے نہیں آئی 

 حکومت جانے کے لئے نہیں آئی 
 حکومت جانے کے لئے نہیں آئی 

  

 خالی پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ خود پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے ووٹر سپورٹر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے بغیر کسی ڈیل کے چھ دن کا وقت نہیں دیا ہے، یقینی طور پر جون میں نئے انتخابات کا اعلان ہونے والا ہے اور تین ماہ کے لئے نگران حکومت کا سیٹ اپ آیا ہی چاہتا ہے۔ اس تاثر کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ لوگوں کو شہباز شریف سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ سے توقع ہے کہ وہ نئے انتخابات کا اعلان کرواکر ہی رہے گی، دوسرا سبب شیخ رشید صاحب کے لہجے سے جھلکتا بلا کا یقین ہے اور تیسرا بڑا سبب حکومت کی جانب سے اختیار کیا جانے والا گومگو کی کیفیت جیسا انداز تھا جو وزیر اعظم شہباز شریف نے لندن میں سابق وزیر اعظم اور اپنی جماعت کے قائد نواز شریف سے ملاقات کے بعد اختیار کرلیا تھا۔ 

اس سے قبل لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کیا چل رہا ہے؟ ان کا خیال تھا کہ شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں کو اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ پاؤں باند ھ کر میدان میں پھینک دیا ہے اور جلد ہی عمران خان اور ان کے چیتے اور چیتیاں ان کی تکا بوٹی ایک کردیں گے۔ خاص طور پر جس طرح سے ڈالر کی اڑان بے قابو ہوئے جا رہی تھی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ جاری تھا، اس کے سامنے شہباز حکومت بے یارومددگار نظر آرہی تھی کیونکہ آئی ایم ایف عوام کی دی گئی تمام رعائتوں کی واپسی تک امدادی رقم جاری کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ 

اس میں شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ کچھ ایسا ہی منصوبہ بنائے بیٹھا تھا کہ اتحادی حکومت کو اس قدر زچ کردیا جائے کہ وہ نہ صرف مشکل معاشی فیصلے کرکے عوام میں غیر مقبول ہو جائے بلکہ عمران خان کی عوامی مہم کے نتیجے میں جلد انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرنے پر بھی مجبور ہو جائے اور یوں عمران خان امریکہ کی غلامی سے آزادی کا نعرہ لگا کر عوامی تائیدو حمائت سے دوبارہ ایسی پوزیشن میں آجائیں کہ انتخابات میں اچھی خاصی نشستیں جیت کر دوبارہ سے ایک مخلوط حکومت قائم کرسکیں۔ 

عین ممکن تھا کہ ایسا ہو بھی جاتا مگر پھر لندن میں جب نون لیگ کے بڑوں نے سر جوڑے اور ملک کے سیاسی حالات کا تجزیہ کیا، اپنی معلومات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا اور راولپنڈی میں چلنے والے انڈر کرنٹ کی شدت کا اندازہ کیا تو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ٹاسک دیا گیا کہ وہ عوام تک اس بیانئے کو لے کر جائیں کہ جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ٹیبل پر بیٹھ کر ملک کی بہتری کے لئے حکومت کے سخت معاشی فیصلوں کی سپورٹ نہیں کریں گے، نون لیگ کل کی بجائے آج الیکشن میں جانے کے لئے تیار ہوگی۔ لیکن نون لیگ ایسا ہر گز نہیں ہونے دے گی کہ مشکل سیاسی فیصلے تو اس سے کروائے جائیں اور پھر ملک میں ایسے حالات پیدا کردیئے جائیں کہ نئے انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ چنانچہ شاہد خاقان عباسی نے جب چند ایک ٹی وی پروگراموں میں اس بیانئے کا اعادہ شروع کیا تو اسٹیبلشمنٹ سمیت اتحادی جماعتوں کے سربراہوں تک سب کو واضح پیغام پہنچ گیا کہ فوری انتخابات عمران خان کو سوٹ کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں، لیکن نون لیگ کو ضرور کرتے ہیں اور اگر کسی کو شوق ہے کہ ملک میں فوری انتخابات ہونے چاہئیں تو نون لیگ اس کے لئے تیار ہے اور تمام سخت معاشی فیصلے نگران حکومت کے لئے چھوڑ کر فوری طور پر حکومت سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہے۔ یہ بیانیہ اس قدر ٹھوس بنیادوں پر کیا گیا اور خود شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم نے ایسا سخت منہ بنایا کہ جناب آصف زرداری کو بالآخر لاہور وزیر اعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پہنچنا پڑا اور پیغام پہنچایا کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی حکومت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دے گی۔ دوسری جانب کچھ دوست ممالک نے بھی اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دیا کہ اگر موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی تو ان سے بھی فوری مالی مدد کی توقع نہ رکھی جائے۔ چنانچہ جہاں پر رائے منقسم تھی، وہاں پر خاموشی چھا گئی اور جناب زرداری صاحب کو گرین سگنل دے دیا گیا کہ اس مرتبہ لانگ مارچ کے دوران جناب عمران خان کی غیبی مدد نہیں کی جائے گی، وزیر اعظم شہباز شریف ڈٹ جائیں۔ چنانچہ اگلے روز ہی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے دوحہ روانہ ہو گئے۔

چنانچہ اب مقتدر حلقوں میں یہ طے ہوگیا ہے کہ حکومت کو غیر ضروری طور پر تنگ نہیں کرنے دیا جائے گا اور آئین اور قانون کی عملداری کے لئے حکومت جو ضروری اقدامات کرنا چاہے، کرے اور اس کے ساتھ ساتھ سخت معاشی فیصلوں کے ذریعے ملک کو معاشی بھنور سے نکالے۔ بعض ایک حلقوں میں تو یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ اگلے ڈیڑ سال مکمل ہونے پر آئین میں ایسی گنجائش موجود ہے کہ حکومت کو مزید ایک سال توسیع کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب وزیر اعظم شہباز شریف نے عوام سے پہلا خطاب بھی کیا ہے اور 28ارب روپے کے پٹرول ریلیف پیکج کا اعلان بھی کردیا ہے۔

جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو انہیں احساس ہوگیا ہے کہ انہیں اپنی حکومت مخالف مہم کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا اور عوام کو ذہنی طور پر تیارکرنے کے لئے اس سے بھی سخت محنت کرنا پڑے گی، تب کہیں جا کر وہ اپنے سیاسی اہداف حاصل کر پائیں گے۔ لیکن ایک ایسے ماحول میں جب ملک کی گیارہ سیاسی جماعتیں ان کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا ایک غالب حصہ ان کی بات سننے کے لئے تیارنظر نہیں آرہا ہے، عمران خان کو آبلہ پائی کا کٹھن سفر مزید طے کرنا پڑے گا کیونکہ ہنوز دلی دور است!

مزید :

رائے -کالم -