ڈکیتی، چوری، قتل، بداخلاقی، تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ، پولیس خاموش تماشائی 

ڈکیتی، چوری، قتل، بداخلاقی، تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ، پولیس خاموش ...

  

 لاہور (رپورٹ؛۔یونس باٹھ) ملک بھر بالخصوص پنجاب میں امن وامان کی صورتحال بہت خراب ہو چکی۔ خاص طور پر ڈکیتی کے دوران قتل،واردات کے دوران خواتین سے بداخلاقی،تیزاب پھینکنے اور رہزنی کی وارداتوں اور دیگر سٹریٹ کرائمز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو ا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صوبہ انتشار اور انارکی کا شکار ہے۔تھوڑے تھوڑے وقفے سے ٹی وی سکرینوں پر سٹریٹ کرائمز اور نہتے شہریوں کے قتل کی خبریں آ رہی ہوتی ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا، جب ڈاکوؤں سے مزاحمت پر شہری زخمی یا جاں بحق نہ ہوتے ہوں۔ صرف مئی کے مہینے میں ڈکیتی مزاحمت پر 5 افراد قتل کردئیے گئے،جبکہ روزانہ تین سے چار لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں جن میں شدید زخمی بھی شامل ہیں، جو یا تو زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں یا بعد ازاں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر بالخصوص پنجاب جسے امن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا،اب اچانک جرائم کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے،پنجاب پولیس اربوں روپے کے فنڈز لینے کے باوجودامن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے،صرف رواں ماہ کے دوران جو واقعات پیش آئے ہیں ان کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی افسوس ناک ہیں۔ عید کے روزمیانوالی میں دن دیہاڑے 3افراد کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا،وہاڑی تھانہ ماچھیوال میں درجن سے زائد ملزمان نے دن دیہاڑے ایک خاتون مقصوداں بی بی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے سر کے بال مونڈھ دیے،گجرات اور اوکاڑہ میں خواتین اور کمسن بچی کی لاش کی بے حرمتی کی گئی اور انہیں قبروں سے نکال کر بے آبرو کیا گیا،پاکپتن میں ایم پی اے میاں نوید کے والد کو ملزمان نے بیڈ روم میں گھس کر قتل کر دیا،لاہور میں شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کے دوران دو کمسن بچوں کو زخمی کردیا گیا،گجرات میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں میاں بیوی کو قتل کر دیا گیا، سرگودھا میں ایک نجی بنک پرکریکر سے حملہ کیا گیا،روالپنڈی میں ایک واقعہ میں دو افراد کو فائر نگ کرکے قتل کر دیا گیا۔شادباغ لاہور میں فائرنگ کرکے باپ بیٹے کو قتل کردیا گیا،نارووال میں اشتہاری گینگ کے 6ڈکیتوں کو قتل کردیا گیا،بہاولپور میں زیر حراست ایک ملزم کو تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا،خوشاب میں فائرنگ کرکے 3افراد کو قتل کردیا گیا،قصور میں کالج کے گیٹ پر ملزمان فائرنگ کرکے فرار ہو گئے،ساہیوال تھانہ بہادر شاہ میں ملزمان نے دوضواتین اور ایک کمسن بچی پر تیزاب پھینک دیا،گجرات میں سپین پلٹ دوحقیقی بہنوں کو قتل کردیا گیا،شادباغ لاہور سے ملزمان نے دن دیہاڑے طالبہ کو اغواء کرلیا گیا،فیصل آباد میں دوخواتین کو مبینہ طور پر بداخلاقی کانشانہ بنایا گیا،لاہور ہربنس پورہ میں دو خواتین کو قتل کردیا گیا،پتوکی میں ڈاکوؤں نے واردات کے دوران باپ اور بھائی کی موجودگی میں اسے بداخلاقی کا نشانہ بنایا،گزشتہ چند ماہ کے دوران پتوکی میں ڈکیتی کے دوران خاتون کو بے آبرو کرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے جبکہ پنجاب میں مجموعی طور پر پانچواں واقعہ ہے۔مظفر گڑھ میں دہشتگردی کے ایک واقعہ میں ملزمان نے تحصیل کوٹ ادو میں ایک گھر کے صحن میں سوئی خاتون نسرین بی بی اور اس کے  12سالہ بیٹے جہانزیب پر تیزاب سے بھر ا کین انڈیل دیا جس سے خاتون جھلس کر جاں بحق جبکہ بیٹے کی حالت بھی نازک بیان کی جاتی ہے، ہڈیارہ لاہور میں ڈکیتی کے دوران خاتون سے بداخلاقی،شاہدرہ ٹاؤن میں ڈکیتی کے دوران تاجر سعید انور کا قتل،شیراکوٹ میں فائرنگ سے جواں سالہ لڑکی اقرا ء کا قتل،ڈیفنس میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں جبکہ شاہدرہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں کارسوار شہریوں کے قتل کے واقعات پیش آئے ہیں،لوٹ مار کی کئی وارداتوں میں لوگ روزانہ کروڑوں روپے کی اشیاء  یا نقد رقوم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ بے شمار ایسی وارداتیں ہوتی ہیں، جو پولیس اور میڈیا میں رپورٹ بھی نہیں ہوتیں۔ کاریں، موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں بھی پنجاب میں ہوتی ہیں اب ان میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔۔ ویسے تو دنیا کے بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائمز ہوتے ہی ہیں لیکن اس وقت جس طرح پنجاب میں ہو رہے ہیں، یہ معمول سے بہت زیادہ ہیں۔ اسے ”کرائم ویو“ یعنی جرائم کی لہر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔آئی جی پولیس پنجاب کے ترجمان اسامہ محمود کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ملوث زیادہ تر ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جن واقعات میں گرفتار نہیں ہوئے آئی جی  پولیس کی جانب سے انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔

جرم میں اضافہ 

مزید :

صفحہ آخر -