فرد واحد کا نام دینا،تقرری کیلئے ووٹنگ پر مجبور کرنا،ایک ووٹ سے جج بن جانا خلاف آئین،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

فرد واحد کا نام دینا،تقرری کیلئے ووٹنگ پر مجبور کرنا،ایک ووٹ سے جج بن جانا ...

  

       اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کو خط لکھ کر ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ہفتے کے روز سامنے آنیوالے خط میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ چیف جسٹسز اور سینئر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی طویل روایت رہی ہے، سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی روایت جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار نے متعارف کروائی۔خط میں مزید کہا گیا کہ آئین پاکستان لوگوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس کا نقصان ہوا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اعلیٰ عدلیہ کے جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں، حلف کا اہم تقاضا ہے کہ آئینی بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، انہیں روندا نہ جا سکے، اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرتے وقت دیکھا جائے وہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت، کالعدم قرار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد یقینی بنانا بھی لازم امر ہے، کیونکہ عوامی اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔ جسٹس قا ضی فائز عیسیٰ نے کہا جسٹس نسیم حسن کی ٹی وی پر غلطیوں کا اعتراف دیر آید درست آید کہا جا سکتا ہے، کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف سابق وزیراعظم کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ جسے ان کے احکامات پر موت دیدی گئی۔خط میں کہا گیا کسے جج بنانا ہے کسے نہیں کا تاثر یہ بتاتا ہے کہ ایسا بیرونی عوامل کے باعث کیا جاتا ہے، عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں اس تاثر کو دور کیا جانا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، فرد واحد کی جانب سے ایک نام دینا، تقرری کیلئے ووٹنگ پر مجبور کرنا، ایک ووٹ سے جج بن جانا آئین کے مطابق نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے، آئین ججز تقرری کے حوالے سے پار لیما نی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا کہتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کمیشن کے پہلے اجلاس کا تجربہ بہت اچھا تھا، اجلاس ماضی کے اجلاسوں سے بہتر تھا،اختلاف کا بیج بونے کی روایت سے فاصلہ کیا گیا، توقع ہے آئندہ اجلاس میں بھی ججز تقرری کے حوالے سے پائی جانیوالی تشویش کو دور کریں گے۔خط میں کہا گیا پاکستان کے عوام نے ججز کو منتخب کرنے کی آئینی ذمہ داری ہمیں سونپی ہے،جسے آئین کے تحت نبھانا ہوگا، پاکستان کے عوا م کو اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا، ججز تقرری میں سنیارٹی، میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے لیکن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ کہہ کر جونیئر جج لگائے کہ سینئر ججز خود نہیں آنا چاہتے مگر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے باتوں کی تردید کی۔ سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکور ٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا، خط کی کاپی دونوں سابق چیف جسٹس کو بھی بھیج رہا ہوں، بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا۔جسٹس قا ضی فائز نے مزید لکھا جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے اور ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا رجسٹرار سپریم کورٹ سرکاری ملازم ہے جس کا وزیر اعظم ہاؤس سے تقرر ہوا، اس نے سابق وزیر اعظم عمران اور اسکی جماعت کے مقدمات فوری مقرر کروائے، جو مقدمات عمران خان یا تحریک انصاف کیخلاف دائر ہوئے وہ جان بوجھ کر مقرر نہ کیے گئے، ادھار پر لیے گئے رجسٹرار نے دیگر قابل افسران کی اہلیت پر سوال اٹھایا ہے۔

 قاضی فائزخط

مزید :

صفحہ اول -