40ہزار سے کم آمدن والوں کیلئے ماہانہ وظیفے کا اعلان

40ہزار سے کم آمدن والوں کیلئے ماہانہ وظیفے کا اعلان

  

      اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی، عالمی منڈی میں نرخ بڑھ گئے تھے، پیٹرولیم مصنو عا ت کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو ملکی معیشت پر مزید دباؤ آتا، پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے روپیہ آڑھائی روپے اوپر گیا، اس ہفتے چین سے مالی پیکیج کی اچھی خبر ملے گی، سعودی عرب بھی ہماری مدد کریگا،جبکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کیساتھ آئندہ ماہ میں معادہ طے پانے کی توقع ہے، کبھی بھی نہیں کہا آئی ایم ایف کومنالوں گا، خان صاحب نے جس طرح سبسڈی دی حکومت دیوالیہ ہوجاتی، ریلیف پیکیج کے تحت حکومت غریب عوام کوتحفظ دے رہی ہے، ہم نے امیر لوگوں کیلئے سبسڈی ختم کی،غریبوں کو دے رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ 10جون کوپیش کریں گے، راشن کی سکیم ختم کردی ہے،دوحہ میں آئی ایم ایف سے اداروں کی نجکاری کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، آٹے اور چینی کی قیمتیں کم کرنے پر آج عملدرآمد شروع ہوجائیگا۔ سیاست چلتی رہتی ہے ہم نے پاکستان کو بچانا ہے، ذاتی استعمال کیلئے باہر سے چیزیں لا نے کی اجازت ہے، کھیپ لانے والوں کو روکا جارہا ہے، جو بھی 2ہزار روپے کی بدعنوانی کررہا ہوگا وہ کوئی صاحب ثروت شخص نہیں ہوگا۔  گزشتہ رات وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کو سراہا جارہا ہے، غریب عوام کی مدد کرنا ہماری اولین ترجیح اور شہباز شریف کی غریب پروری روایت ہے، مہنگائی کا جو طوفان پچھلی حکومت کی وجہ سے آیا اس کا تدارک ضروری ہے، اسلئے فیصلہ کیا ہے کہ ایک تہائی افراد جن کی آمدن 40ہزار روپے سے کم ہے ان کو جون میں وظیفہ دیا جائیگا،جس میں اگلے سال اضافہ بھی کرینگے۔ہفتہ کو اسلام آباد میں وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ملک میں 85فیصد پیٹرول 40فیصد امیر ترین گھرانے استعمال کرتے ہیں، تجاویز آئیں موٹر سائیکل چلانے والوں کوسکیم دی جائے، وزیراعظم نے ستا پیٹرول و ڈیزل سکیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایک کروڑ 40 لاکھ گھرانوں کو وظیفہ دیا جائیگا، بی آئی ایس پی میں شامل خواتین کو خود ہی سکیم میں شامل کیا جائیگا، 37فیصد غریب ترین لوگ اس پروگرام سے مستفید ہونگے، ریلیف سکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے 786نمبر پر شناختی کارڈ نمبر بھیجا جاسکتا ہے،جو مستحق ہوگا اسے فوری رقم دی جائیگی، انہیں 2ہزار روپے مہینہ ملے گا۔مفتاح اسماعیل نے کہا حکومت کا ڈیزل کی مد میں سبسڈی ختم کرنے کا ارادہ تھا، 114 روپے سبسڈی ختم اور 30روپے لیوی لگنے سے بڑھتے ہیں، ہم ابھی اضافی ٹیکس نہیں لگا رہے، پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے سے مہنگائی آئیگی، لیکن اگر پیٹرول مہنگا نہ کرتے تو زیادہ مہنگائی اور روپے کی قدر بھی کم ہوتی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے روپیہ مستحکم ہوا، سٹاک مارکیٹ سے اچھی پوزیشن آئی، اگر پٹرولیم مصنو عات کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو ملکی معیشت پر مزید دباؤ آتا۔انہوں نے کہا سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کا معاہدہ تو ڈیزل کی قیمت 300اور پیٹرول 260روپے کرناتھا، ہم شوکت ترین کے والے فارمولے پر عمل نہیں کر رہے، وہ کہہ گئے کہ وہ پیسے رکھ کے گئے، ہمیں بتا دیں وہ پیسے کہاں ہیں، ہمیں کہیں نہیں ملے، عمران خان نے جو کیا اس سے ملکی معیشت دیوا لیہ ہوجاتی، گزشتہ حکومت کی نا اہلی کے باعث مہنگائی کا طوفان آیا، ہم چینی 70 روپے فی کلو بیچیں گے، وزیرخزانہ نے کہا بجلی کی قیمت بڑھانے کی میرے پاس کوئی سمری نہیں، اور یہ بھی نہیں پتہ آئندہ پیٹرول کی قیمت بڑھے گی یا نہیں، توقع تو یہی ہے یکم سے پیٹرول نہیں بڑھے گا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک پراسس ہے، اوگرا سمری پہلے پیٹرو لیم، پھر فنانس اور اس کے بعد وزیراعظم کو جاتی ہے، ابھی تک سمری نہیں آئی،آئیگی تو مزید غور کیا جائیگا،وفاقی وزیر نے کہا آئی ایم ایف کیساتھ سٹاف لیول معاہدہ جون میں ہو جائیگا، ہم گزشتہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کیساتھ کیے گئے معاہدے کو لیکر چل رہے ہیں، اگر آئندہ انتخابات میں ہمیں مینڈیٹ ملا تو شاید آئی ایم ایف کے پاس نئے معا ہدے کیساتھ جائیں۔ آئی ایم ایف سے بھی پاکستان کو3 ارب ڈالر ملنا باقی ہیں اور ہمارا خیال ہے آئی ایم ایف سے چارسے پانچ ارب ڈالر ہو جائیں گے، آئی ایم ایف سے پر و گر ام میں ایک سال کی توسیع کا مطالبہ کیا ہے اور اس کیساتھ پیکج دوارب ڈالر بڑھانے کا کہا ہے، آئی ایم ایف سے فنڈز ملنے سے دیگر اداروں سے بھی فنڈز ملنا شروع ہوجائیں گے اس کے علاوہ امسال ایک ارب ڈالر ورلڈ بینک سے ملیں گے اور نومبر سے پہلے 1.5ارب ڈالرآئیں گے، اس کے بعد اے ڈی بی سے اڑھائی ارب ڈالر آئیں گے، مجموعی طور پر 8.9 ارب ڈالر پائپ لائن میں ہیں۔ فورسز کا بجٹ 1340ارب روپے ہے، اس میں فورسز کو ملنے والی گرانٹ بھی شامل کر لیں تو یہ بجٹ 1400ارب روپے بنتا ہے، فورسز کا بجٹ جی ڈی پی کے 2فیصد سے بھی کم ہے۔

مفتاح اسماعیل

مزید :

صفحہ اول -