ریلوے کرائے بڑھانے کا فیصلہ

ریلوے کرائے بڑھانے کا فیصلہ

  

 ملتان(سٹاف رپورٹر)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد(بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

 ریل کا سفر بھی مشکل ہوگیا ہے، ریلوے کا کرائے بڑھانے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے تاہم حتمی منظوری وزارت ریلوے دے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے پاکستان ریلوے کو روزانہ پونے دو کروڑ روپے اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ جسے مدنظر رکھتے ہوئے ٹرینوں کے کرایوں میں بھی 20 فیصد اضافے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اس سلسلہ میں ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کی سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے، انتظامیہ کی جانب سے وزارت ریلوے کو کرایوں میں 10، 15 اور 20 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ریلوے کو روزانہ ایک کروڑ 84 لاکھ روپے کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے، سسٹم پر روزانہ 4 لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ریلوے کے سالانہ مالی اخراجات 20 ارب سے بڑھ کر 23 ارب روپے تک ہو جائیں گے،جسے مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے ٹرینوں کے کرایوں میں 20 فیصد تک اضافے کی تجویز دی ہے جس کے بعد اکانومی کلاس سے اے سی اسٹینڈ، پارلر کار اور اے سی سلیپر کے کرائے بڑھ جائیں گے۔ اس کا اطلاق برانچ لائیوں پر چلنے والی پسنجر ٹرینوں اور ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک سفر کرنے والے مسافروں پر بھی ہو گا۔ یاد رہے کہ نومبر 2021 کو ٹرینیوں کے کرایوں میں دس فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد کرایوں میں اضافہ کا حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -