کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے سماجی قدر اہم ہیں:شرجیل میمن

 کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے سماجی قدر اہم ہیں:شرجیل میمن

  

       کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے سماجی قدر اہم ہے ہیں۔ بچے پہلے گھر پھر اسکول اس کے بعد معاشرے سے سیکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کونسل آف میڈیا وومین اور پی ایف یو جے کے تعاون سے آرٹس کانسل آف پاکستان کراچی میں *گرتی ہوئی سماجی اقداراور بہتری کیلئے خواتین کا کردار* کے عنوان پر مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایم پی اے قاسم سومرو، سابق سینیٹر عبد الحسیب خان، میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی وائس چانسلر شاہدہ سجاد، ایس ایس پی انویسٹیگیشن سینٹرل شہلا قریشی، کراچی یونیورسٹی کی ڈاکٹر فرح، میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی وائس چانسلر شاہدہ سجاد، ڈرامہ آرٹسٹ حمیرہ بانو، موٹیویشنل اسپیکر نیہا مبین، شاہدہ مرتضی، رافعہ تاج، اینکر پرسن یاسمین مرزا، سینئر صحافی مبشر میر، ابرار بختیار، کے یو جے کے صدر اعجاز احمد،جی ایم جمالی،شہناز حامد،رضوان جعفر، جیو کی منزہ صدیقی، فریداحمد، حبیب پبلک اسکول کی سابق پرنسپل نرگس علوی، میزبان پیرھی سید، حبیب میٹرو بنک کی آرزو حبیب، مصنفہ سیما مناف، علی وقاص، مریم سیرت آسیہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے سماجی قدر اہم ہے ہیں۔ بچے پہلے گھر پھر اسکول اس کے بعد معاشرے سے سیکھتے ہیں۔ سابق سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا ہے کہ  عورتیں مردوں کی طرح قابل اور باصلاحیت ہیں ان کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرنی چائیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے قرآن سے دوری اختیار کرلی ہے اس لئے آج ہم زوال پزیر ہیں۔ میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی وائس چانسلر شاہدہ سجاد  نے کہا کہ بچوں کی تربیت میں نانا نانی، دادا دادی کا کردار کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پی ایف یو جے کے بانی جی ایم جمالی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلیظ زبان استعمال کرنے پر فخر سمجھا جاتا ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن شہلا قریشی نے کہا کہ ہمیں پہلے صحیح اور غلط میں فرق دیکھنے کی ضرورت ہے آٹھ سال تک کے بچے کی صحیح تربیت اس کے گھر میں ہوتی ہے جبکہ معاشرے میں عورتوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔منزہ صدیقی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں میں سے احساس ختم ہوچکا ہے مرد  و عورت دونوں کو برابر چلنا چاہیے۔ مس آرزو نے کہا کہ کوآپریٹیو سیکٹر میں عورتوں کی تعداد بہت کم ہے۔ مرد اور عورت دونوں مل کر معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔کراچی ایڈیٹرزکلب کے صدر مبشر میر نے کہا کہ گرتی ہوئی اخلاقی اقدار پہ کام اولین بنیادوں پر کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ ہمیں ایسا منشور مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو سماجی اقدار کو درست سمت دے سکے۔ سماجی اقدار کے بگاڑ میں مردون کا زیادہ کردار ہے۔ مردوں کو اِس بگاڑ کو سدھارنے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہے۔ اسٹارلنک کی شہناز رمزی نے کہا کہ خاندان کے افراد کو روشن خیالی اور برداشت کے روئیے اختیار کرنا ہونگے۔ گٹکا اور دیگر منشیات سے احتراز کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی بہتر تربیت ہوسکے۔ تقریب کی میزبان اور اسکالر فرحانہ اویس نے کہا کہ سماجی بگاڑ میں بہت تیزی آگئی ہے۔برائی کا کام آ سان اور نیکی کا کام مشکل ہو گیا ہے۔ سماجی بگاڑ روکنے کیلئے نہ صرف سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا بلکہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔تقریب کے انتظام حمیرا موٹالا نے سنبھالے جبکہ پاکستان کانسل آف میڈیا وومین کی جنرل سیکرٹری نے آئے ہوئے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

مزید :

صفحہ اول -