امپورٹڈ حکومت فلاپ، فوری الیکشن ہماری پہلی اور آخری ڈیمانڈ، شاہ محمود 

امپورٹڈ حکومت فلاپ، فوری الیکشن ہماری پہلی اور آخری ڈیمانڈ، شاہ محمود 

  

 ملتان(خصوصی رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمو د قریشی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں میں اضافے پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ لوگ چیخ اٹھے ہیں۔ جس پر حکومت پریشان ہو گئی ہے۔ امپورٹڈ وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب کم اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے پر دلائل دینے کی ناکامی کوشش تھی جس میں سارا ملبہ ہماری حکومت پر ڈال دیا۔ ہم نے عوام کو مختلف مد میں بچائے گئے پیسوں اور کفایت شعاری کے ذریعے پیسے  اکٹھا کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا آغاز کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ جون تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھیں گے اور بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف دیں گے۔ ہم نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے روس سے سستے داموں پٹرولیم مصنوعات کے حصول کیلئے بات چیت کی۔ حکومت نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ کیا وہ روس سے سستی پیٹرولیم مصنوعات کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔ فطری بات ہے حکومت اپنی کوتاہی و نا اہلی چھپانے کیلئے سارا ملبہ ہماری حکومت پر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا ملک اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ کاروباری طبقہ تاجر سرکاری ملازم کسان الغرض ہر شعبہ زندگی پریشانی کا شکار ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا سلسلہ ابھی رکنا نہیں انہوں نے آگے مزید اضافہ کرنا ہے۔ اور آگے بجلی کی قیمتو ں میں اضافہ کرنے جار ہے ہیں۔ جس سے ملک میں مہنگائی کا مزید طوفان آئیگا۔ حکومت کے ان دو ماہ میں آٹے کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔ ان کی حکومت کے بعد مہنگائی روکنے اور عوام کو ریلیف دینے کا کوئی ایجنڈا نہیں۔ انہوں نے کہا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ماہانہ 18 ارب روپے اکٹھے ہونگے۔ میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں یہ حکومت عوام پر مزید کتنا بوجھ ڈالے گی۔ آنیوالے دونوں میں عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا شہباز شریف کا قوم سے خطاب کے دوران 28 ارب کے ریلیف اور ماہانہ 2 ہزار روپے کا ریلیف دینا کوئی نیا منصوبہ نہیں۔ ہماری حکومت نے کرونا وبا کے دوران عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانے کیلئے شفاف طریقے سے نقد امداد فراہم کی۔ اب 2 ہزار روپے ماہانہ ریلیف موجودہ حکومت کی نہیں۔ بلکہ ہماری حکومت کی کاوش تھی جس کو یہ آگے جاری رکھ رہے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے آنے سے کوئی نیا منصوبہ اور نئی حکومت عملی سامنے آئیگی امپورٹڈ حکومت کے پاست عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی نئی حکمت عملی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ فوری انتخابات کروائے جائیں۔ اگر حکومت انتخابات پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ہم مل بیٹھنے کیلئے تیار ہیں۔ بے مقصد مذاکرات کے لئے ہم گفت و شنید کی محفل نہیں سجانا چاہتے۔انہوں نے کہا فضل الرحمن سمیت اپوزیشن رہنماں کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے تحریک انصاف کا مینڈیٹ جعلی ہے۔ میں ان سے سوال کرتا ہوں 2018 کے ممبران کو پکڑ کر اپنی اکثریت بنا کر وزارت عظمی کو جسٹی فائی (JUSTIFYکرتے ہیں اگر اس جعلی مینڈیٹ کی وجہ سے آپ کو حکومت مل جائے تو وہ ٹھیک ہے۔ اگر اس مینڈیٹ کی وجہ سے تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو وہ مینڈیٹ جعلی تھا۔ اس حکومت کے مقاصد کہنے کے اور کرنے کے اور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہو سکتی ہے کہ مدت پوری کی جائے۔ لیکن شنید یہی ہے کہ ان کے اپنے کچھ اتحادی اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا سوچ رہے ہیں۔ لیکن حالات اتنے سازگار نہیں ہیں جتنا یہ دکھانے یا سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بہت مشکل کا سامنا ہے۔ کیونکہ ان تمام جماعتوں کے فیصلوں میں یکسوئی نہیں۔ خیالات مختلف۔ مقاصد مختلف۔ نظریات مختلف ہیں۔ کتنی دن چل پائیں گے یہ وقت بتائے گا۔ اور ان میں سے اکثریت اب تازہ مینڈیٹ اور فوری الیکشن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ لوگ پہلی دفعہ اقتدار  میں نہیں آئے۔ ماضی کی ان کی کارکردگی کی بدولت عوام ان کی کارکردگی کو بخوبی جانتے ہیں۔ اس وقت ملک کو جو درپیش مسائل ہیں وہ ان ہی حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں۔ جو عوام اس وقت بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے پر امن احتجاج کیلئے اسلام آباد آئے تھے۔لیکن حکومت نے فسطائیت اور بریت کا جو مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے نہتے اور پر امن کارکنوں پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ رینجر اور پولیس کا ناجائز استعمال کیا گیا۔ شیلنگ کی گئی۔ ہمارے سینکڑوں کارکنوں کو ملک بھر میں گرفتار کیا گیا۔سپریم کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ کیا میں امید کرتا ہوں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا اور ملک بھر میں قید ہمارے کارکنوں کو فی الفور رہا کیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -