سعودی عرب میں ڈرپ نہ ہٹانے پر ایک شخص کا نرس پر تشدد

سعودی عرب میں ڈرپ نہ ہٹانے پر ایک شخص کا نرس پر تشدد
سعودی عرب میں ڈرپ نہ ہٹانے پر ایک شخص کا نرس پر تشدد
سورس: Screengrab

  

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے عسیر ریجن میں پولیس نے ہسپتال میں نرس پر تشدد میں ملوث سعودی شہری کو پراسیکیوٹر جنرل کے حکم پر گرفتار کر لیا ہے۔ نرس پر سعودی شہری کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

العربیہ کے مطابق 

وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شہری عسیر کے المجاردہ ہسپتال میں سعودی نرس پر تشدد کر رہا ہے جبکہ اس کی ساتھی نرس حملہ آور کو نرس پر تشدد سے باز رکھنے کی کوشش میں ہے۔ متاثرہ نرس ہسپتال میں فنگر پرنٹس کی جانچ اور ریکارڈ فائلوں کی تقسیم کے سیکشن میں تعینات ہے۔

ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ ’واقعہ اس وقت پیش آیا جب نرس کو ایمرجنسی وارڈ میں بلا کر ڈرپ ہٹانے کے لیے کہا گیا لیکن نرس فوراً ایمرجنسی وارڈ نہیں پہنچ سکی جس پر مقامی شہری نے طیش میں آ کر نرس کو تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

ذرائع کا کہنا تھا ’ہسپتال میں نرس کا ریکارڈ اچھا ہے اور وہ ایک برس سے کام کر رہی ہے۔ پولیس نے تشدد کی اطلاع ملتے ہی حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔‘

سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خالد الراشد نامی ایک صارف نے نرس پر تشدد کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی وزارت صحت خبردار کر چکی ہے کہ صحت کے عملے کے خلاف بدزبانی یا جسمانی تشدد پر 10 برس تک قید یا 10 لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

وزارت صحت ہسپتالوں سے رجوع کرنے والوں کو اپنی شکایات درج کرانے کی سہولت دی ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ احساس ہو کہ کسی مریض کا حق متاثر ہو رہا ہے تو وہ رپورٹ درج کرا سکتا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -