نیازی دا کھڑاک

نیازی دا کھڑاک
نیازی دا کھڑاک

  

تحریر: انس گوندل

ملک کا موجودہ سیاسی منظر نامہ تشویشناک حد تک پولرائزیشن کا شکار ہوچکا ہے۔جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان اس کھوکھلے نظام پوری طرح سے ہلانے کی کوشش میں ہیں، شہباز شریف کی حکومت فالج کی حالت میں ہے اور شائد ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں نہتے عوام پر بہیمانہ تشدد اور ملک کی معاشی صورتحال سیاسی عدم استحکام کو سنگین بنا رہی ہے؛ سب سے زیادہ پریشان کن معیشت کی حالت ہے جو کہ اس وقت زوال کی حالت میں ہے۔ ڈیڑھ مہینہ گزرنے کے بعد لیگی حکومت آخر کار کوما کی حالت سے باہر نکلی اور عوام پر پٹرول بم گرادیا۔حالانکہ ماضی قریب میں پی ڈی ایم کی جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کےخلاف تین مہنگائی مارچ کر چکی ہیں۔ ملک کے مستقبل پر اس وقت سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں ، یہ نظامی تباہی کا امکان پریشان کن ہے۔ ہم یہاں سے کہاں جا رہے ہیں؟

عمران خان کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران واقعات کا یہ ایک قابل ذکر موڑ ہے جو کہ ان کے بڑے عوامی جلسوں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے ظاہر ہوتا ہے۔یہ صرف ان کی الٹرا نیشنلسٹ اور سازشی خط کی تھیوری ہی نہیں ہے جس نے نوجوانوں اور شہری تعلیم یافتہ متوسط طبقے کے کو اپنی طرف راغب کیا ہے،بلکہ سیساست میں خاندانی حکمرانی کی واپسی نے بھی ان کے لیے حمایت کو مضبوط کیا ہے۔ اور وزیراعظم کے منصب سے ہٹنے کے بعد بھی ، سابق وزیر اعظم کا سیاسی بیانیہ اس پورے ملک میں ہر طرح سے حاوی ہو چکا ہے اور اب تو 6 دن کی مہلت کے بعد ایک بار پھراسلام آباد کی طرف اپنے لانگ مارچ کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔

عمران خان اس وقت کھل کر پاکستان کے بوسیدہ نظام کو چیلنج کر رہے ہیں جو کہ مختلف سیاسی گروہوں کی ایک افراتفری کا مجموعہ ہے، بلکہ انہوں نے ایسٹبلشمنٹ کو بھی نشانے پر رکھا ہے۔ ان کا گیم پلان واضح ہے: اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ریاستی اداروں کو دباو¿ میں لانا اور ملک میں جلد از جلد عام انتخابات کرانا۔

ایسا لگتا ہے کہ ان کا کام ٹوٹ پھوٹ کا شکار نئی حکومت اور سیاسی نظام کے مجازی خاتمے کے ساتھ بہت آسان ہوتا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کے 120 سے زائد ارکان نے اپنی نشستیں چھوڑنے کے بعد قومی اسمبلی غیر فعال ہو کر رہ گئی ہے۔اس صورتحال میں تقریباً ایک درجن سیاسی جماعتوں پر مشتمل مسلم لیگ (ن) کی قیادت والے اتحاد کے لیے پی ٹی آئی کے حملے کو برداشت کرنا مشکل ہے۔ یہ غیر معمولی گرمی کی لہر نہیں ہے بلکہ بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت ہے جو پریشانی کا باعث ہے۔

بات صرف اسلام آباد کے مسائل کی نہیں ہے۔ لاہور کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ملک کے سب سے بڑے صوبے میں انتظامیہ دو مہینے سے زائد عرصے سے غیر فعال ہے۔ منحرف ارکان کے حوالے سے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کے بعد اب الیکشن کمیشن بھی پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی کے منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرچکا ہے۔ آئینی اور قانونی اعتبار سے حمزہ شہباز اب وزیر اعلیٰ نہیں ہیں لیکن وہ پھربھی کرسی سے چمٹے رہنے پر بضد ہیں۔ اور بغیرکابینہ کے ان کے کیے گئے فیصلوں کی کوئی آئینی حثیت نہیں ہے۔ 

صوبے میں تخت کا کھیل ختم ہونے سے بہت دور ہے۔پنجاب کا بحران مرکز میں متزلزل اور بے سمت مخلوط انتظامیہ پر بھی اپنا سایہ ڈال چکا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں تصادم بڑی حد تک شریف خاندان کے اندر موجود اختلافات کی عکاسی کرتا ہے اور اس نے پہلے سے ہی فالج زدہ حکومت کی حالت کو مزید خراب کر دیا ہے۔

مرکز اور پنجاب میں باپ بیٹے کی جوڑی کے ساتھ، اقتدار بظاہر شریف خاندان کی دوسری نسل میں منتقل ہو گیا ہے،لیکن اصل اختیار اب بھی لندن میں بڑے میاں صاحب کے پاس ہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ پولرائزیشن انتشار کی ایک بڑی وجہ ہے۔ خاص طور پر معاشی اور مالیاتی تباہی کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری اقدامات کرنے فیصلہ سازی کا فقدان شہباز حکومت کی نااہلی اور جھوٹے دعووں کی قلعی کھولتا ہے، موجودہ حا لات کی سنگیبنی کو اگنور کرنے اور حکومت کی ہٹ دھرمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تاخیر نے پہلے ہی معاشی گراوٹ کو تیز کر دیا ہے، جس سے سری لنکا کی قسم کے مالیاتی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ڈالر 203 روپے تک پہنچ چکا ہے اور سٹاک مارکیٹ تین بار گر چکی ہے۔حکومت ابھی تک اس بات پر فیصلہ نہیں کر سکی ہے کہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے فوری طور پر کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کا ذمہ دار یا وارث اس وقت کوئی نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے لندن میں بیٹھے ہوئے متضاد بیانات سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پوزیشن مزید کمزور کر رہے ہیں۔ڈار پاکستانی ٹی وی چینلز پر اپنے انٹرویوز میں بالکل مختلف نقطہ نظر کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ جو کہ نواز شریف کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے کا اضافہ کیا اور ساتھ ہی انتہائی غریبوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا وعدہ کیا ہے جو کہ خود میں ایک مضحکہ خیز بیان ہے ،حکومت کے اپنے حساب سے مئی اور جون کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی سے تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

لیکن ڈار ایسے کسی بھی اقدام کے مخالف ہیں۔ ان کے نسخے پہلے سے ہی شدید مشکلات میں گھری معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔پیٹرولیم اور دیگر اجناس پر بھاری سبسڈی کی وجہ سے جاری مالی نقصان کے ساتھ، ان کی تجاویز تباہی کا ایک نسخہ ہیں۔آئی ایم ایف معاہدے میں مزید تاخیر سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

اس سے سعودی عرب اور چین کے ساتھ مالی مدد کے لیے ہمارے مذاکرات پر بھی اثر پڑے گا۔ یہ صورت حال ناقابل برداشت ہے۔یقیناً، گہری ہوتی سیاسی پولرائزیشن نے حکومت کے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ لیکن حکمت عملی کے فقدان اور کسی جامع پالیسی میں تاخیر ملک کے لیے انتہائی سنگین ثابت ہوگی۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ عمران خان کے جارحانہ انداز نے اس مشکل کا سیاسی حل تلاش کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔کسی بھی صورت حال میں حالات کو خراب کرنے کے لیے انتخابات ہی بہترین آپشن ہوسکتےہیں۔ لیکن موجودہ سیاسی پولرائزیشن کے پیش نظر انتخابات کا بھی متنازعہ ہونے کا خدشہ بد ستور موجود ہے اور ایسا کوئی بھی منظر نامہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے تباہ کن ہوگا۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -