الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری رکھنے والے سدھو موسے والا کے بارے میں وہ باتیں جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں

الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری رکھنے والے سدھو موسے والا کے بارے میں وہ باتیں ...
الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری رکھنے والے سدھو موسے والا کے بارے میں وہ باتیں جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں
سورس: Instagram

  

چندی گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی پنجاب کے گلوکار سدھو موسے والا کو اتوار کے روز گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے جس کے باعث دنیا بھر میں ان کے مداح سوگ کی حالت میں ہیں۔ 

انڈیا ٹوڈے کے مطابق سدھو موسے والا کا پورا نام "شبھ دیپ سنگھ سدھو" تھا جو کہ ضلع مانسا کے گاؤں موسے والا میں 17 جون 1993 کو پیدا ہوئے، انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اپنے گینگسٹر ریپس کے ذریعے منفرد شناخت بنائی لیکن اپنے گانوں کی وجہ سے وہ تنازعات کی زد میں بھی رہے۔سدھو موسے والا الیکٹریکل انجینئر تھے ، اس کے علاوہ انہوں نے موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ 

ان پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اپنے گانوں میں "گن کلچر" کی تشہیر اور گینگسٹرز کی تعریف کرتے ہیں۔ ستمبر 2019 میں ریلیز ہونے والے "جٹی جیونی مور ورگی" گانے میں سدھو موسے والا نے 18 ویں صدی کی خاتون  سکھ جنگجو  "مائی بھاگو" کا حوالہ دیا جس کے باعث ان پر الزام لگا کہ انہوں نے مائی بھاگو کو منفی کردار میں پیش کیا ہے، بعد ازاں سدھو نے اپنے اس گانے پر معافی مانگ لی۔

اس کے علاوہ انہوں نے جولائی 2020 میں "سنجو" نام کا گانا بھی ریلیز کیا، یہ گانا اس وقت ریلیز کیا گیا تھا جب سدھو کو اے کے 47 کیس میں ضمانت پر رہائی ملی تھی۔ انہوں نے اس گانے میں خود کے خلاف کیس کو سنجے دت کے خلاف ناجائز اسلحہ کیس سے تشبیہہ دی تھی ۔ سدھو کے خلاف مئی 2020 میں اس وقت مقدمہ درج کیا گیا تھا جب ان کی ایک  ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ برنالہ شوٹنگ رینج میں اے کے 47 چلاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔

مزید :

تفریح -