جس کا کوئی دشمن نہ ہو وہ شخص منافق ہوتا ہے

جس کا کوئی دشمن نہ ہو وہ شخص منافق ہوتا ہے
جس کا کوئی دشمن نہ ہو وہ شخص منافق ہوتا ہے

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :13

سقراط پر مقدمہ

قدیم عربی شاعر علقمہ کے ایک شعر کا مطلب کچھ یوں ہے۔

کہ جس کا کوئی دشمن نہ ہو وہ شخص منافق ہوتا ہے۔

سقراط کی دانش، سچائی، شجاعت اور ایتھنز کے مروّجہ عقائد کے برخلاف جدید نظریات نے اس کے بہت سے دشمن بھی پید اکر دیئے تھے۔ ایتھنز کی حکمران جماعت کا بااثرلیڈر ”اینی ٹس“ سقراط کی تنقید کی وجہ سے پہلے ہی ا س کا دشمن تھا۔سقراط کا شاگرد خاص زینوفن کا کہنا تھا کہ ”اینی ٹس“ نے سقراط کے مذہبی مخالفین سے رابطہ کیا۔ ان میں ایک مذہبی انتہاپسند میلی ٹس بھی تھا۔میلی ٹس نے مدعی بن کر ایتھنز کی اسمبلی میں مقدمہ دائر کر دیا۔مقدمہ میں سقراط پر یوں الزام لگایا گیا تھا۔ڈیم پائتھیاس کے میلی ٹس کے بیانِ حلفی پر یہ تحریری شکایت ایتھنزکے محلہ ایلوپیک کے سوفرونسکس کے بیٹے سقراط کے خلاف درج کی جا رہی ہے۔سقراط پر الزام ہے کہ وہ ریاست کے معروف دیوتاﺅں کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ وہ ان دیوتاﺅں کی بجائے نئے دیوتاﺅں کو متعارف کروا رہا ہے۔

سقراط پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ریاست کے نوجوانوں کے اخلاق کو بگاڑ کر انہیں گمراہ کر رہا ہے۔ اس لیے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سقراط کو سزائے موت دی جائے۔میلی ٹس جو کہ سقراط کے خلاف مقدمے کا مدعی تھا۔ ایک نوجوان تھا اسے شہر کے زیادہ لوگ نہ جانتے تھے۔یہ شخص بہت ہی کینہ پرور تھا۔ اس نے اسی سال ایک اور آدمی پر ملحد ہونے کا الزام لگا کر اسے سزا دلا چکا تھا۔اس عدالت میں اس کی مدد کے لیے دو اثر ورسوخ والے شخص بھی چنے گئے تھے۔ ان میں ایک کا نام ”لائی کون“ تھا جو کہ ایتھنز کا مشہور مقرر تھا اور دوسرا مشہور و معروف سیاستدان ”اینطوس“ تھا۔ ”اینطوس“ کے متعلق سب لوگ جانتے تھے کہ وہ محب وطن بھی ہے اور دیانتدار بھی تھا۔ اس طرح اینطوس کا نام مستغیثوں میں شامل کر دیا گیا۔ اس سے سقراط کے مقدمے سے بری ہو جانے کے امکانات بہت کم ہو گئے تھے۔

قانون کے مطابق ایک مہینے کے اندر جیوری کے 501 اراکین کو مقدمے کی سماعت کرنا تھی۔لیکن یہ بات کسی کو مقدمے کے دن کی سماعت تک بھی معلوم نہ تھی کہ جیوری میں کون کون شامل ہو گا۔مقدمہ عدالت میں پہنچ جانے کے بعد فیصلہ صادر کر دیا جاتا تھا۔ ایک رکن جیوری کی رائے ادھر یا ادھر ہونے سے سقراط کو جلاوطنی یا پھر موت کی سزا دی جا سکتی تھی۔

سقراط عدالت میں:

یہ 399 قبل مسیح کا زمانہ تھا۔ اس وقت سقراط کی عمر 70سال تھی۔ سقراط نے (پیرکلز) فارقیس کا زمانہ دیکھا تھا۔ ایتھنز کی سپارٹاکے ساتھ خوفناک جنگ دیکھی تھی۔ انقلاب اور آمریت کا دور دیکھا تھا۔ اب ایتھنز میں جمہوریت کافی حد تک بحال ہو چکی تھی۔قرعہ اندازی کے ذریعے جیوری کے اراکین مقرر ہو چکے تھے۔ ایوان اعلیٰ (Senate) قائم ہو چکا تھا۔اس وقت افلاطون کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ وہ اپنے خاندان کی روایت کے مطابق سیاست میں آنا چاہتا تھا۔ وہ سقراط کے حلقہ ارادت میں شامل ہو چکا تھا اور سقراط کی تعلیمات سے بہت متاثر تھا۔سقراط کو میلی ٹس کے قائم کردہ مقدمہ کی بنا پر عدالت میں طلب کر لیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایتھنز کے پانچ سو ایک شہری جو کہ جیوری کے لیے منتخب ہوئے تھے عدالت میں آنا شروع ہوئے۔

صدر عدالت بھی اپنی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کے علاوہ ایتھنز کے عام شہری بھی سقراط کے مقدمے کی عدالتی کارروائی دیکھنے کو آنے لگے۔ ا س طرح عدالت کا ہال کھچا کھچ بھر گیا۔مقدمہ کی سماعت کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ صدر عدالت نے مستغیث کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔مستغیث عدالت میں آئے اور انہوں نے سقراط کے خلاف خوب ہرزہ سرائی کی۔سقراط کے خلاف جو کچھ بھی مستغیث کہہ رہے تھے وہ بالکل جھوٹ اور غلط تھا۔ سقراط اس سے ذرا بھی خوف زدہ نہ تھا۔لیکن عدالت میں موجود بہت سے لوگ سقراط کے خلاف جو کچھ کہا جا رہا تھا اس سے خوفزدہ تھے۔ سقراط سوچ رہا تھایہ لوگ نیکی سے خوف زدہ ہیں۔اینی ٹس، میلی ٹس اور لائی کون بہت ہی زورشور سے سقراط کے خلاف بول رہے تھے لیکن ان کی گفتگو میں کوئی سچائی کی طاقت نہ تھی۔

سقراط کا عقیدت مند افلاطون بھی عدالت میں موجود تھا۔ وہ ہر کسی کا ایک ایک لفظ سن رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا۔استغاثہ کے بعد اب سقراط کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے دفاع میں جو کچھ کہنا چاہتا ہے کہے۔سقراط نے اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا اگر استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ میںنوجوانوں کا اخلاق بگاڑتاہوں تو عدالت میں موجود میرے شاگردوں، ان کے شاگردوں کے والدین اوربھائیوں کو استغاثہ کے گواہوں کے طور پر طلب کیا جائے۔میں ایتھنز والوں کا احترام کرتا ہوں اور ان سے محبت کرتا ہوں۔ اس لیے میں جو کچھ کہتا ہوں وہ صرف سچ ہوتا ہے۔عدالت میں سقراط نے اپنے دفاع میں جو کچھ کہا اسے قدیم یونانی دفاعی بیان (Apology) کہا جاتا تھا۔ افلاطون اور زینوفن نے سقراط کے دفاعی بیان کو ”معذرت“ ہی کہا ہے لیکن یاد رہے کہ معذرت کا لفظ معافی کے معنوں میں نہیں بلکہ دفاعی بیان ہے۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -