یوم تکبیر اورڈاکٹر عبدالقدیر خان کا احسان

 یوم تکبیر اورڈاکٹر عبدالقدیر خان کا احسان
 یوم تکبیر اورڈاکٹر عبدالقدیر خان کا احسان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

28 مئی 1998ء کا دن پاکستانی قوم کے لئے اس لئے بہت اہم ہے کہ اس دن پاکستان کے عظیم ایٹمی سائنس دانوں نے ڈاکٹر عبدا لقدیر خان کی قیادت میں یکے بعد دیگرے چھ ایٹمی دھماکے کرکے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا منہ توڑ جواب دے کر یہ ثابت کردیا تھا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا تھا،اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھنے والے خود مٹ جائیں گے، لیکن کلمہ طیبہ کے نام سے بننے والا ملک روزِقیامت تک اللہ کے فضل وکرم سے قائم رہے گا،اسی دن کے حوالے سے پاکستانی قوم یوم تکبیر مناتی ہے۔آج ہم ایک بار پھر انہی لمحات میں واپس لوٹتے ہیں جب امریکہ سمیت پوری دنیا پاکستان کے ایٹمی دھماکے روکنے کے لئے ہر سطح پر سازشوں میں مصروف تھی۔ نیویارک ٹائمز کی 11 اگست 1979ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع ہوئی کہ امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے یورینیم انرچمنٹ پلانٹ کو تباہ کرنے کے لئے تین متبادل صورتوں پرغور شروع کردیا ہے جن میں اسے سبوتاژ کرنا یا کمانڈو ایکشن کے ذریعے بمبوں سے اڑا دینا شامل تھا۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیاگیا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان ٹائمز نے بھی امریکی دفتر خارجہ کے ایک افسر کے حوالے سے یہ خبر شائع کی کہ اگر بھارت چودہ دن میں مشرقی پاکستان کو فتح کر کے بنگلہ دیش بنا سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ کہوٹہ پراجیکٹ کو چودہ منٹ میں تباہ نہ کرسکے۔ اس طرح عالمی طاقتیں تیزی سے پاکستان کے گرد سازشوں کا جال بن رہی تھیں۔اس کے باوجود ایٹم بم کے کولڈ ٹیسٹ 1983ء میں کامیابی سے ہمکنار ہوچکے تھے۔اب صرف عملی ایٹمی دھماکے ہونا باقی تھے،ڈاکٹر خان نے ایٹمی میدان میں زبردست کامیابیوں کے ساتھ ساتھ میزائل ٹیکنالوجی کی جانب بھی توجہ مرکوز کی اور وطن عزیز کو غوری، عنزہ، شاہین اور غزنوی جیسے مہلک اور جدید ترین میزائلوں کا تحفہ دے دیا جس کی وجہ سے پاکستان،بھارت کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آگیا۔ 11مئی 1998 ء کو جب بھارت نے  پوکھران کے صحرا میں یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کرکے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ایک بار پھر اپنے حق میں کرلیا۔تو امریکہ سمیت دنیا کی سپر طاقتیں پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو صبر کی تلقین کرنے لگیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا رویہ دھمکی آمیز بھی ہوگیا کہ اگر پاکستان جوابا ایٹمی دھماکے کرتا ہے تو اس کی اقتصادی اور فوجی امداد بند کردی جائے گی۔

ان نازک ترین لمحات میں وزیراعظم محمدنوازشریف ایک ایسے دوراہے پر آکھڑے ہوئے جہاں سے ایک راستہ بھارتی غلامی کی طرف جاتا تھا جبکہ دوسرا راستہ معاشی تنگدستی اور کھلے عام عالمی طاقتوں کی مخالفت کی جانب۔میں سمجھتا ہوں کسی بھی لیڈر کے لئے یہ بہت بڑا امتحان تھا پھر پاکستان جیسے ملک کے لئے جہاں حکومتیں بنتی اور ٹوٹتیں ہی امریکہ کے ایما پر ہیں۔ایک جانب بھارتی لابی مسلسل پروپیگنڈہ کررہی تھی تو دوسری جانب ان عالمی طاقتوں کے سیٹلائٹ اور جدید ترین مواصلاتی نظام پاکستانی سرزمین کے چپے چپے کی سکیننگ کر رہے تھے کہ اگر کہیں غیر معمولی سرگرمیاں نظر آئیں تو انہیں اسلحی طاقت سے ختم کردیا جائے۔ 19 مئی 1998 ء کو امریکی ٹیلی ویژن این بی سی نے امریکہ اور روس کے لئے جاسوسی کرنے والے سیاروں سے لی گئی فلمو ں کی بنیاد پر ایک تفصیلی رپورٹ نشر کی جس کے مطابق   ”شام کے دھندلکے میں کئی ٹرکوں پر مشتمل ایک قافلہ چک لالہ ائیر بیس پر پہنچا یہاں پر کئی ایف 16  جنگی طیارے اور مال بردار جہاز پہلے سے تیار کھڑے تھے۔پائلٹ اپنے اپنے طیاروں کے کاک پٹ میں بالکل مستعد تھے۔ لڑاکا طیارے بموں اور میزائلوں سے لیس تھے۔ قافلے کے ائیربیس پر پہنچتے ہی دھواں چھوڑنے والے گولے چلا کر پورے ائیر پورٹ کو دھوئیں سے بھردیاگیا۔دھوئیں کے غلاف Smoke Screen کی بدولت یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ٹرکوں میں سے کیا سامان نکال کر مال بردار جہازوں میں لاداگیا“۔ اس رپورٹ سے یہ بات باآسانی اخذ کی جاسکتی ہے کہ بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتیں کس طرح پاکستانی سرزمین کے چپے چپے کو انتہائی طاقتور مواصلاتی سیٹلائٹ نظام کی بدولت دیکھ رہی تھیں۔ شاید ایساکرنے والے یہ بھول گئے تھے کہ خدائے بزرگ و برتر جب کسی قوم کو سرفراز کرنا چاہتا ہے تو تمام تر دنیاوی اور سائنسی ترقی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ دوسری جانب محمد نواز شریف کے حکم پر پاکستانی سائنس دانوں کی ٹیم ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی سربراہی میں چاغی کے مطلوبہ مقام پر پہنچ چکی تھی۔

سائنس دانوں کی ٹیم نے سرنگ کے اندر اور باہر ضروری آلات اور کیمروں کی تنصیب کا کام شروع کردیا۔ دھماکوں کی شدت اور تابکاری کے اثرات نوٹ کرنے والے آلات بھی نصب کر دیئے گئے۔ تمام کیمروں کا براہ راست تعلق کئی کلومیٹر دور کنٹرول روم سے قائم تھا۔ ایٹم بم رکھنے کے بعد سرنگ کے دھانے کو پلگ کر دیا گیا اور نوازشریف کو اس کی اطلاع دے دی گئی۔ اس مرحلے پر متعلقین کا اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہونا قدرتی امر تھا۔اسی دوران حکومت پاکستان کو مصدقہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ اسرائیل کے چھ جیٹ فائٹر طیارے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر کے ایک فضائی اڈے پر تیار کھڑے ہیں،یہ طیارے فضا سے زمین تک مارکرنے والے خطرناک میزائلوں سے لیس ہیں۔ یہ اطلاع ملتے ہی وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو ٹیلی فون کیا اور دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی توہم بھارت کو راکھ کا ڈھیربنا دیں گے ہم سوئے نہیں، جاگ رہے ہیں۔ پاکستان نے ایسے ہی پیغامات امریکہ اور سلامتی کونسل کے دوسرے رکن ممالک کو بھی پہنچا دیئے۔اس طرح پاکستان کی ایٹمی تنصیبات محفوظ رہیں اور 27 اور 28 مئی کی درمیانی رات بخیرو خوبی گزر گئی۔ 28 مئی کا سورج پاکستانی قوم کی بے پناہ امیدیں لئے طلوع ہوا تو ہوا۔ اسی اثنا میں ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اپنے رفقا کے ساتھ راس کوہ کنٹرول روم پہنچ گئے۔محمد نواز شریف کی جانب سے دھماکوں کے لئے گرین سگنل ملتے ہی کنٹرول روم میں سنسناہٹ پھیل گئی۔وہاں موجودسب افراد کی نبضیں تیز ہوگئیں، سانسیں رکنے لگیں۔

اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے ایٹمی دھماکے کیلئے بٹن دبانے کا فریضہ انجام دیا۔ بٹن دبانے کے بعد 31 سیکنڈ تک جب پہاڑ کو کچھ نہ ہوا تو سب کے دِل بیٹھ گئے لیکن اگلے چار سیکنڈ بعد زلزلے کے زبردست جھٹکے محسوس ہوئے،اس طرح تین بج کر سولہ منٹ پر راس کوہ پہاڑ ایک خوفناک زلزلے سے لرز اٹھا۔یہ ایک ہیبت ناک گرج تھی، دِل دہلا دینے والا زلزلہ تھا۔ ایٹم کی قوتوں کا سویا ہوا جن ایک خوفنا ک چنگھاڑ کے ساتھ بیدار ہوچکا تھا، جن کی قوت چار کروڑ کلوگرام بارود کے برابر تھی۔ صدیوں سے آسمان کی بلندی کو چھونے والا یہ پہاڑ نڈھال ہو چکا تھا۔دھماکے سے پیدا ہونے والے ارتعاش کے اثرات اب پہاڑ سے باہر نکل کر زمین کے اندر ہی اندر تیزی سے کرہ ارض کی سطح پر پھیلتے جارہے تھے۔یہ اثرات جہاں جہاں سے بھی گزرتے۔ چاغی کی راس کوہ پہاڑوں پر گزرنے والی داستان سناتے جاتے جونہی یہ اثرات دنیا بھر میں نصب ارتعاش پیما آلات پر نظر آئے تو ہمارے دشمنوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی اور دنیا کی آٹھ بڑی طاقتوں کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہوگیا۔سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک سمیت تما م سائنس دان پاکستانی قوم کے سامنے سرخرو ہو چکے تھے اور پاکستان ایک عظیم ایٹمی طاقت کے روپ میں اُبھر چکا تھا۔ اس کے ساتھ بھارتی  حکومت کے جنگی اور توسیع پسندانہ عزائم خاک میں مل چکے تھے۔

مزید :

رائے -کالم -