مذہبی سیاسی جماعتیں اور انتخابات

مذہبی سیاسی جماعتیں اور انتخابات
مذہبی سیاسی جماعتیں اور انتخابات

  

مہاراشٹر کی ریاستی اسمبلی میں دوسو اٹھاسی،لوک سبھا(بھارتی ایوان زیریں) میںگیارہ اورراجیہ سبھا(ایوان بالا) میںچار نشستیں رکھنے والی دائیں بازو کی انتہا پسند سیاسی جماعت شیو سینا کے بانی رہنما بال کرشناٹھاکرے کی موت کے بعد اِس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ،کیونکہ بدلتے ہوئے حالات میں بال ٹھاکر ے کے جانشین اودھے ٹھاکرے کے لئے اِن خیالات کا پرچار کرنا دشوار ہوگا جس کے ذریعے وہ ماضی میں کامیابیاں سمیٹتے رہے ہیں۔ نیشنل ڈیموکرٹیک الائنس کا اہم حصہ سمجھی جانے والی شیو سینا کی مشکلات اِس لئے بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ این ڈی اے کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا تشخص نریندر مودی جیسے رہنماﺅں کی وجہ سے بُری طرح مجروح ہوا ہے اور خود بی جے پی اپنی مقبولیت کھوتی جارہی ہے۔آخری بار1998ءسے 2004ءکے دوران اقتدار میں رہنے والی بھار تیہ جنتا پارٹی کا اقتدار اکالی دل اور شیو سینا جیسی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کا مرہون منت ہی رہا ہے ،کیونکہ ماضی میں کچھ بھارتی ریاستوں میں اِن سیاسی جماعتوں نے مذہب کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیل بخوبی کھیلا، لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت میں لوگوں کے جذبات کو مذہب کے نام پر مشتعل کرنا آسان نہیں ہوگا۔اِس کی دو بڑی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست گلوبلائزیشن اور دوسری بڑی وجہ عالمی مالیاتی بحران کی بدولت2005ءکے بعد دنیا بھر کے لوگوں کے معاشی مسائل میں ہونے والا بے پناہ اضافہ ہے۔

 2000 ءکے بعد دنیا گلوبل ویلج میں تبدیل ہوچکی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دُنیا بھر میں عوام الناس نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ روابط قائم رکھے ہوئے ہیں، بلکہ دُنیا میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کا بھی مشاہدہ کررہے ہیں۔گذشتہ5سال کے دوران دنیا بھر میں ہونے والے انتخابات کے دوران عوام نے خارجی مسائل کونظر انداز کرکے داخلی مسائل کے حل کا وعدہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کو ہی ووٹ دئیے ہیں۔سستی جذباتیت اور مذہبی انتہا پسندانہ رویوں کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا اب مشکل ہوچکا ہے۔بھارت جیسے ملک میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے مسلم وپاکستان دشمنی کو اپنا منشور بنا کر ماضی میں جو کامیابیاں سمیٹیں،اُن کا حصول موجودہ حالات میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔2004ءکے انتخابات میں یونائیٹڈ پروگریسوالائنس کی232 نشستوں کے مقابلے میں نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس نے206 نشستیں حاصل کیں۔545رکنی بھارتی لوک سبھا میں حکومت سازی کے لئے درکار273 نشستوں کا حصول یوپی اے نے اتحاد کے باہر سے تھرڈ فرنٹ کی حمایت کے ذریعے ممکن بنایا۔2004ءکے دوران یونائیٹڈ پروگریسو الائنس کی حکومت نے تعلیم،صحت اور صنعتی شعبے پر خاص توجہ دی۔اِس دوران اِن شعبوں میں بھارت نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں اور بھارت کی شرح نمو5.4فیصد رہی جوپورے خطے میں سب سے زیادہ تھی۔ٹیلی مواصلات،زراعت اورمیڈیسن کے شعبوں میں ہونے والی ترقی کے براہ راست اثرات عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑے۔حکومت نے زراعت کے شعبے میں اہداف کے حصول کے لئے کسانوں کو کھاد،بیج اور سپرے کی خریداری پر خصوصی سبسڈی فراہم کی۔پنجاب وہریانہ سمیت کئی بھارتی ریاستوں میں کسانوں کو ٹیوب ویل کے لئے بجلی انتہائی رعایتی نرخوں پر(تقریباً مفت)فراہم کی گئی(اور اب بھی کی جارہی ہے)۔

شائننگ انڈیا اورپڑھے گا انڈیا تو بڑھے گا انڈیا جیسے نعروں نے عام بھارتیوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔1992ءمیں ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت ہوئی ،اُس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور پی وی نرسیماراﺅ وزیراعظم تھے، لیکن اِس مجرمانہ فعل میں شرکت کرنے والے مذہبی جنونیوں کی سرکوبی کے لئے حکومت نے خاطر خواہ اقدامات نہ کئے جس کی بدولت بھارتی مسلمانوں میں کانگریس کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوگیا۔یہی وجہ تھی کہ1996ءمیں مسلمانوں اور سیکولر ہندوﺅں کے ووٹوں سے محرومی کانگریس کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بنی، اِس لئے یو پی اے کی موجودہ حکومت نے2004ءسے اب تک کئی ایسے اقدامات کئے ہیں جو بھارتی مسلمانوں کی اشک شوئی کا باعث بنے ہیں۔نائب صدر جمہوریہ کے عہدے پر حامد انصاری اور من موہن سنگھ کی موجوہ کابینہ میں سلمان خورشید کی بطور وزیر خارجہ موجودگی بھارتی مسلمانوں کے دل جیتنے کی کوشش ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یو پی اے میں مسلمانوں کی چار سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ 2004ءسے2009ءکے دوران ہونے والی معاشی ترقی کے ثمرات یو پی اے نے 2009ءکے انتخابات میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے وصول کرلئے۔ حالیہ دنوں میں بھارت سمیت دُنیا بھر کے اکثر ممالک میں مذہب کی نام لیوا سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ انتخابات میں اب مذہب کوExpolite کرنا مذہبی سیاسی جماعتوں کے لئے ممکن نہ ہوگا۔

حالیہ امریکی انتخابات میں قدامت پسند سیاسی جماعت ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی کی حد سے زیادہ اسرائیل نواز پالیسی اُن کی شکست کی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امید وار باراک حسین اوبامہ نے خارجہ پالیسی پر بڑا متوازن رویہ اختیار کیا اور زیادہ توجہ معیشت کی بحالی اور معاشی اصلاحات پر مرکوز رکھی جسے عوام نے پسند کیا ۔اُنہوں نے ایک مخصوص لابی کی ناراضی مول لے کر اسرائیل کی بے جا حمایت سے بھی گریز کیا جسے عام امریکیوں نے پسند کیا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران باراک حسین اوباما نے اِس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وہ56اسلامی ممالک کی ناراضی کی قیمت اسرائیل کی بے جا حمایت کی صورت میں ادا نہیں کرنا چاہتے۔یہی وجہ ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی حالیہ جارجیت کے بعد سیز فائر کے لئے اسرائیل پر امریکہ او ریورپی یونین نے پہلی بار خاطر خواہ دباﺅ ڈالا ۔امریکی وزیر خارجہ جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک کا دورہ ادھورا چھوڑ کر قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شامل ہوئیں۔خود اسرائیل کے عوام حکمران لیکود پارٹی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں سے عاجز آگئے ہیں۔ کئی اسرائیلیوں نے سوشل میڈیا پر اسرائیل کے جنگی اخراجات اور مذہبی جنونیت کو خود اسرائیل کی معیشت کے لئے بڑا خطرہ قرار دیا۔ گذشتہ12سال سے ترکی میں رجب طیب اردگان کی بظاہر مذہبی حکومت نے بھی ایسے اقدامات سے گریز کیا جن سے سیکولر طبقے کے مفادات کو گزند پہنچے۔اگرچہ آج کے ترکی میں داڑھی رکھنے اور سکارف پہننے پر کوئی پابندی نہیں لیکن اِس کے باوجود ڈسکوز اور نائٹ کلب بھی بند نہیں ہوئے۔

پاکستان کی اگر بات کی جائے تو2002ءمیں دو صوبوں میں حکومت تشکیل کرنے اور مرکز میں 59 ُنشستیں حاصل کرنے والی متحدہ مجلس عمل اِس وقت مرکز میں7 اور دونوں صوبوں (خیبر پختونخوا اور بلوچستان) میں کل ملا کر ایک درجن نشستوں تک محدود ہوچکی ہے۔جماعت اسلامی کے امیر سیّد منور حسن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں یہ واضح کردیا ہے کہ اُن کی جماعت کسی بھی صورت حال میں بحال ہونے والی متحدہ مجلس عمل کا حصہ نہیں بنے گی جس کے بعد اِس بات کا قوی امکان ہے کہ جماعت اسلامی کو مسلم لیگ(ن) یا تحریک انصاف میں سے کسی ایک یا دونوں کے ساتھ چند نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنا ہوگی۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف)بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ اِس کے بطن سے جمعیت علمائے اسلام(نظریاتی) کا حال ہی میں جنم ہوا ہے جبکہ جے یو آئی(س) پہلے ہی جے یو آئی(ف) سے اپنے راستے جدا کرچکی ہے۔جمعیت علمائے اسلام(نظریاتی) متحدہ مجلس عمل یا جے یو آئی(ف) کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ٹف ٹائم دے گی۔یوں اگر پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے بحیثیت مجموعی کردار کا جائزہ لیا جائے تو تمام قابل ذکر مذہبی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ علیحدہ علیحدہ انتخابات کا حصہ بننے کی صورت میں یہ تمام مذہبی سیاسی جماعتیں342 کے ایوان میں10نشستوں کے حصول میں بھی کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتیں ۔موجودہ سیاسی وسماجی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ دُنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہونے والے آئندہ عام انتخابات معیشت اور عوام کے روز مرہ کے مسائل کو سامنے رکھ کر لڑے جائیں گے اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے لئے ماضی کی طرح عوام سے مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا آسان نہ ہوگا۔    ٭

مزید :

کالم -