شیعہ سنی کشیدگی کا حل

شیعہ سنی کشیدگی کا حل

  

                    انتظامات کے باوجود شرپسندوں کی وجہ سے راولپنڈی میں جو سانحہ ہوا، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انگریز کی آمد سے قبل ہندوستان میں ہندوﺅں اور مسلمانوں کی اتنی دشمنی نہیں تھی، جتنی پاکستان بننے کے بعد بڑھتی جا رہی ہے۔ سرجان میلکم نے لکھا ہے کہ ”ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں ہماری حکومت تب ہی قائم رہ سکتی ہے کہ بڑی جماعتوں کی عام تقسیم ہو اور پھر ہر جماعت کے ٹکڑے مختلف ذاتوں اور فرقوں میں ہوں“۔اسی مقصد کے لئے انگریز نے غلط تاریخیں لکھوائیں،تاکہ مسلمانوں اور ہندوﺅں میںفساد پھوٹ پڑے، لیکن 1857ءکی جنگ آزادی میں دونوں قومیں متحد ہو کر انگریز کے خلاف لڑیں۔اس جنگ میں انگریزوں نے اپنی کامیابی کے بعد مسلسل ایسی سازشیں کیںکہ ہندو مسلم ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔

تقسیم ہند کے موقع پر مسلمان اکثریتی علاقہ گورداسپور جان بوجھ کر انڈیا کو دیا،تاکہ اسے کشمیر میں اپنی فوجیں گھسانے کا موقع ملے۔اس وجہ سے دونوں ملک یورپین اسلحے کی منڈی بنے ہوئے ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد اپنی حماقت اوردشمن کی لیاقت سے ہم ایک قوم نہ رہ سکے،بنگالیوں، سندھیوں، پنجابیوں، پٹھانوں اور بلوچوں میں بٹ گئے۔ مذہبی بنیاد پر شیعہ، سنی اور پھر دیوبندی، بریلوی، وہابی وغیرہ میں تقسیم ہو گئے۔

عاشورئہ محرم پر فسادات کو روکنے کے لئے جنرل ضیاءالحق نے سب فرقوں کے علمائے کرام کو ایک ٹیبل پر مدعو کیا۔ جب یہ کہا گیا کہ قرآن و سنت سے کہیں یہ ثابت نہیں کہ گلیوں اور بازاروں میں تعزیتی جلوس نکالے جائیں، اس لئے ملکی سالمیت کے لئے ضروری ہے کہ شیعہ بھائی امام بارگاہوں تک عزاداری کو محدود رکھیں، تب شیعہ لیڈر مظفر علی شمسی ملکی یکجہتی کے لئے یہ مان گئے، لیکن انہوں نے ایک شرط یہ رکھی کہ قرآن و سنت سے یہ بھی کہیں ثابت نہیں کہ جشن عید میلاد النبی، گلی کوچوں میں منایا جائے۔اس پر اہل سنت والجماعت کے لیڈر مولانا عبدالستار نیازی نے کہا کہ قران و سنت سے چاہے یہ ثابت ہونہ ہو، عشقِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ 12ربیع الاول کو بازاروں میں عید میلاد منائیں۔جواباً مظفر علی شمسی نے کہا کہ عشقِ حسینؓ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم سلسلہ عزا داری کو اسی طرح جاری رکھیں“۔

اگر مذہبی جلوس بازاروں میں نہ نکلیں تو شیعہ سنی کشیدگی ختم ہو سکتی ہے۔ہم پھر اکٹھے ہو کر، سازشیوں کو ناکام بنا کر اس برباد ہوتی ہوئی مملکت کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ہمیں اس وقت جوش کی نہیں ،ہوش کی ضرورت ہے۔جگ ہنسائی سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی بھی جلوس بازار میں نہ آئے۔چار دیواری تک اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھیں۔ارباب بست و کشاد سے گزارش ہے کہ وہ تمام مکاتب فکر کو بلا کر یہ تجویز پھر ان کے سامنے رکھیں اور اس پر عمل درآمد کروانے کے لئے ان کی مشاورت سے لائحہ عمل مرتب کریں، تاکہ ہر قسم کی مذہبی تقاریب چار دیواری کے اندر محدود رہیں اور کسی انتشار کی گنجائش نہ رہے۔  ٭

مزید :

کالم -