مجھ سمیت پرویز مشرف کے تمام ساتھیوں کا بھی احتساب کیا جائے

مجھ سمیت پرویز مشرف کے تمام ساتھیوں کا بھی احتساب کیا جائے

  



                            حکمرانوں نے سابق صدر پاکستان جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ ایک ایسا پنڈورا باکس ہے، جو کھلا تو اس کو سمیٹنا ممکن نہیں ہو گا۔ کیا پرویز مشرف کے خلاف اس کیس سے عوامی مسائل حل ہو جائیں؟ ایک لمحے کے لئے ذرا غیر جانبداری سے پرویز مشرف دور کا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے موجودہ دورِ حکومت سے موازنہ کریں، تو پرویز مشرف کا دور ہر حوالے سے سنہری دور تھا۔ ترقیاتی کام ہو رہے تھے۔1997ءمیں ڈالر68روپے کا ہو چکا تھا۔ پرویز مشرف کے نو سالہ دور میں 62روپے پر مستحکم رہا۔ مہنگائی کا جن بوتل میں بند رہا۔ پٹرول کی قیمت 54روپے سے اوپر نہ گئی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں تھا۔ سی این جی کی فراہمی میں کبھی ناغہ نہیں ہوا تھا۔ پرویز مشرف کے بعد حالات بد سے بدتر ہوئے اور آج بدترین ہیں۔ نواز شریف کو شاید ہر بحران کا حل پرویز مشرف پر 3نومبر کی ایمرجنسی کو لے کر غداری کا مقدمہ شروع کرنے میں نظر آیا ہے۔ اس حوالے سے جو تیزی دکھائی جا رہی ہے، اس سے حکمرانوں کے سابق صدر سے تعصب کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم کی رپورٹ وزیر داخلہ کو شائد رات کو نیند کے دوران میں ملی اور اگلے روز جاگتے ہی پریس کانفرنس کرنے بیٹھ گئے۔

 سپریم کورپ کو خصوصی عدالت کی تشکیل کا خط شاید پریس کانفرنس سے قبل ہی لکھ دیا گیا تھا۔ اگلے ایک دو روز میں عدالت تشکیل پا گئی، جس پر اٹارنی جنرل تک اثر اندار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ شاید کسی کو خوش کرنے کے لئے حکومت سے بھی زیادہ تیز چل رہے ہیں۔ اِدھر خصوصی عدالت تشکیل پائی، اُدھر انہوں نے میڈیا کو یہ بتانا ضروری سمجھا کہ” سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں حکومت کے پاس اتنے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ملزم کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، غداری کیس کی یہی دو سزائیں ہیں۔ دیکھا جائے، تو پرویز مشرف کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یہ طویل معاملہ نہیں ہے، اس لئے کیس کا فیصلہ جلد کرنا پڑے گا“۔

اٹارنی جنرل نے اپنی طرف سے پرویز مشرف کو مجرم قرار دے کر ان کے لئے سزا بھی تجویز کر دی۔ انہوں نے شائد حکومتی وکیل ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اِدھر جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک کو لیڈ کرنے والے بیرسٹر، جن کو اُن دِنوں اُن کا ڈرائیور ہونے پر بڑا ناز تھا، انہوں نے کئی موقعوں پر اعلان کیا کہ وہ کبھی کسی بھی مقدمے میں چیف جسٹس کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، لیکن بڑی فیسیں دیکھ کر رال ٹپک ہی پڑی اور اپنا عہد خود ہی توڑ کر جا پیش ہوئے، فیصلہ حق میں نہ آیا تو اُن کے خلاف ہو گئے اور اُن کے خلاف جلسے کرنے اور طعنوں اور تنقید کے تیر برسانے لگے۔ اب پرویز مشرف کیس کے حوالے سے انہوں نے بھی اپنا فیصلہ سنادیا۔ کہتے ہیں پرویز مشرف نے کہا تھا، مَیں نے ایمرجنسی لگائی، یہی اُن کو مجرم ثابت کر دے گا۔ ان کو بھی کیس کا فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق کرانے کی جلدی ہے۔

مَیں پرویز مشرف دور میں پنجاب کابینہ میں وزیر قانون تھا۔ 2002ءمیں انتخابات کے نتیجے میں جمہوری حکومت بنی تو ہم لوگ سبگدوش ہو گئے۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف سے کبھی رابطہ نہیں رہا، حالانکہ وہ اس کے بعد چھ سال اقتدار میں رہے۔ آج وہ تنہا کھڑے ہیں۔ ان کے ہزاروں لوگوں پر احسانات ہیں، ان کی ایک جنبش قلم سے کتنے وزیر، مشیر، سفیر، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، اٹارنی جنرل اور بڑے عہدیدار بنے۔ اب ہر کوئی ان سے دور بھاگ رہا ہے۔ اس وقت کے میاں مٹھو آج طوطا چشم بن کر کہہ رہے ہیں۔ فیصلے پرویز مشرف نے تنہا کئے، وہی ذمہ دار ہیں، ان کا ہی ٹرائل کیا جائے۔ ان کا رویہ انتہائی شرمناک ہے۔ مَیں پرویز مشرف کا مختصر عرصے کے لئے وزیر رہا، مَیں خود کو احتساب کے لئے پیش کرتا ہوں۔ جن لوگوں نے جنرل پرویز مشرف کا 12اکتوبر 1999ءکو ٹیک اوور کرنے میں ساتھ دیا ، ان کے اقدام کو ویلیڈیٹ کیا اور آئین میں ترمیم کر کے تحفظ فراہم کیا، اس کے بعد 3نومبر کے ایمرجنسی کے نفاذ کے اقدام میں معاونت کی، اگر یہ سب کچھ آئین اور قانون کے خلاف تھا، تو اس میں پرویز مشرف کا ساتھ دینے والے بھی پوری طرح شامل ہیں۔ اب یہ پرویز مشرف سے تو دور بھاگ رہے ہیں، لیکن قانون سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتے ۔ ایک ایک کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہئے، چاہے آدھی سے زیادہ پارلیمنٹ اس کی زد میں آتی ہو اور یقینا آئے گی۔     ٭

مزید : کالم