نیا آرمی چیف: نئے اور پرانے چیلنج (1)

نیا آرمی چیف: نئے اور پرانے چیلنج (1)

                                                                            جہاں ہم جانے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بعد از ریٹائرمنٹ زندگی میں آسائش و طمانیت کے لئے دعاگو ہیں وہاں آنے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے لئے بھی دست بدعا ہیں کہ اللہ کریم ان کو مستقبل کے تین برسوں میں ان تین بڑے چیلنجوں کو بطریقِ احسن نمٹانے اور ان سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق ارزانی فرمائے کہ جو ان کے ادارے (Army)اور پاکستان کو درپیش ہیں.... ہمارے مطابق یہ تین بڑے چیلنج (1) پاک آرمی کو ایک سرتاپا پروفیشنل لڑاکا (Combat)تنظےم بنانا،....(2)پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کے جمہوری اقدامات کی بھرپور اعانت کرنا اور....(3)گلوبل عسکری تنظےموں اور اداروں میں پاک فوج کو وہی مقام دلانا ہیں کہ جو کبھی ماضی میں ہمارا طرئہ امتیاز تھے.... یہ تینوں چیلنج ایسے ہیں کہ جن میں تقریباً آدھے تو پرانے ہوں گے لیکن آدھے نئے بھی ہیں۔

پہلے پرانے چیلنجوں کو لیتے ہیں....

ان میں سب سے بڑا مسئلہ ملک میں امن و امان کی بحالی کا مسئلہ ہے۔سویلین حکومت ایک عرصہ ءدراز سے اس گتھی کو سلجھانے میں ناکام رہی ہے کہ یہ جنگ جو ہماری مغربی سرحد پرلڑی جا رہی ہے، امریکہ کی جنگ ہے یا پاکستان کی۔ سویلین حکومت کی ناکامی یہ بھی رہی ہے کہ وہ بیرونی ممالک کے ان مالی سوتوں کو خشک نہیں کر سکی جو ایک طویل مدت سے ملک میں دہشت گردوں کی کھیتی سیراب کررہے ہیں۔

جمہوری طرز حکومت میں اکثریت کی بات تسلیم کی جاتی ہے، خواہ وہ اکثریت 51%ہی کیوں نہ ہو۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے فوج (آرمی مراد ہے) نے اس الجھن کو سلجھانے کے لئے حکومت کو کوئی ایسا مشورہ نہیں دیا ، جس سے یہ گمان گزرے کہ شائد فوج، سویلین مسائل میں دخل در معقولات دے رہی ہے۔فوج کو یہی کرنا چاہیے تھا اور اس نے یہی کیا ۔لیکن اب نئی عسکری لیڈرشپ کو بھی اپنا زیادہ فوکس اسی مسئلے کو حل کرنے پر رکھنا ہوگا کہ وہ حکومتِ وقت کویہ Adviseکرنے میں اپنا سارا ”زورِ بیان“ صرف کر دے کہ وہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی خواہشات سے بے نیاز ہو کر سوادِ اعظم کا ساتھ دیں۔جب تک حکومت یہ کڑوی گولی نگلنے کے لئے تیار نہ ہوگی، یہ معمہ سلجھ نہیں پائے گا۔

جنرل راحیل شریف کے پیشرو نے یہ بڑی اچھی روائت قائم کی تھی کہ آئی ایس پی آر (ISPR)کے سول میڈیا کے ساتھ انٹر ایکشن کو ماضی کے مقابلے میں نسبتاً محدود کردیا تھا۔جنرل شوکت سلطان اور جنرل اطہر عباس کے ادوار میں یہ انٹرایکشن جس مقدار، تعداد اور گراف کا تھا، وہ موجودہ ڈی جی جنرل عاصم باجوہ کے دور میں برائے نام اور ”حسبِ ضرورت“ رہ گیا ہے ۔امید ہے نئے آرمی چیف اس حسب ضرورت کو بھی ”حسبِ اشد ضرورت“ تک لے آئیں گے۔

”میڈیا اور فوج“ کے موضوع پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور آج بھی بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے۔اپنے ہمسائے بھارت میں اس ”کہنے اور لکھنے“ کا کیف و کم دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ ریاست نے میڈیا کو کہاں تک ”آزادیءاظہار“ دینی ہے۔مجھے 101فیصد یقین ہے کہ میڈیا سے متعلق میرے بہت سے ”کرم فرما“ میرے اس استدلال پر ناراض ہوں گے۔لیکن اگر حالات کو سنبھالنا ہے تو حکومت کو میڈیا کے لئے ایک ”ضابطہ حدودِ اظہار“ وضع کرنا پڑے گا۔اس ضابطے کی حدود کیا ہوں گی ،اس بارے میں افواج پاکستان سے بھی Inputلی جا سکتی ہے۔ہم سب کا مقصود تو یہی ہے ناں کہ ملک میں امن و امان قائم ہو، لیکن اگر آپ کا میڈیا ریاست کے تینوں ستونوں (مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ) کو مستحکم کرنے کے نام پر پاکستان کی 76فیصد اَن پڑھ اور 12فیصد نیم خواندہ آبادی کو 24گھنٹے ایک اضطراری کیفیت میں گرفتار رکھے گا تو اس میں ریاست کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوگا۔اگر کوئی فائدہ ہے بھی تو میڈیا ”آئی کونوں“ کو ہے۔

پاکستان کی افواج کو مل کر حکومت کو Adviceدینی چاہیے کہ وہ اس میڈیا سیلاب کے سامنے کس طرح بند باندھ سکتی ہے۔ہم نے یہ فریضہ اس لئے نئی فوجی قیادت کے سر ڈال دیا ہے کہ ماضی میں اس پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا، بلکہ الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا(سیل فون، فیس بک، ٹویٹر وغیرہ) کو بھی عسکری اداروں اور شخصیات کو بدنام کرنے کے لئے جس طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے، وہ روش ایک سوالیہ نشان بن کے رہ گئی ہے۔

ملک میں امن و امان کی بحالی کے سلسلے میں آرمی چیف کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہے کہ آیا شمالی وزیرستان پر فوج کشی پاکستان کے مفاد میں ہوگی یا نہیں ہوگی....یہ موضوع میڈیا پر کئی بار زیربحث لایا جا چکا ہے اور اب بھی لایا جا رہا ہے لیکن سویلین قیادت چونکہ اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکی اور ملک کی جملہ سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں کروا سکی، اس لئے یہ مسئلہ بھی اب تک ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

جنرل راحیل شریف صاحب کو اپنی سیاسی قیادت کے کرتا دھرتاﺅں کو ایک ایسی بھرپور بریفنگ دینی چاہیے جو سب سٹیک ہولڈرز کو Do or Dieتک لے آئے.... فرض کریں اگر کوئی آرمی چیف، اپنے رفقائے کار کے ساتھ مشورہ کرنے اور ان کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے بعد یہ آپشن سویلین قیادت کے سامنے لے آتا ہے اور سویلین قیادت (کسی بھی مصلحت کے تحت) اس کو قابلِ قبول نہیں گردانتی تو بجائے اس کے کہ فوج ملک میں انتہائی اقدام کرکے مارشل لاءکی تہمت اپنے سر لے آرمی چیف کو استعفیٰ دے کر میڈیا پر آکر حقیقت حال کا اظہار کردینا چاہیے اور پبلک کو بتا دینا چاہیے کہ فوج اب ملک میں کوئی ماورائے آئین اقدام نہیں کرے گی، بلکہ خود اپنے اوپر یہ ”مارشل لا“ لگائے گی۔ وزیراعظم اس کے بعد کوئی نیا آرمی چیف لاتے ہیں تو پھر بھی اگر یہی ”معکوس مارشل لا“ لگا دیا جائے تو وہ سیاسی عناصر جو ملکی مسائل کو حل کرنے کے لئے اکٹھے نہیں ہو رہے اور اب تک منقسم ہیں، شائد ”ایک“ ہو جائیں۔

مَیں یہ کوئی انوکھی بات نہیں کررہا۔پاکستان میں ایک بار ایسا ہو چکا ہے۔جنرل جہانگیر کرامت کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی وجوہات کیا تھیں، اگر ان سے اگلا آرمی چیف اپنے پیشرو کے استدلال کو فالو کرتا تو شاید اس سول ملٹری تعلقات کی گُتھی کو سلجھانے کی کوئی صورت نکل آتی.... کسی بھی آرمی چیف کا ایسا اقدام اسے شہرتِ دوام سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

سلسلہءتحریر دراز ہونے کا خوف تو ہے لیکن مجھے ایک انڈین آرمی چیف یاد آ رہا ہے جس کا نام جنرل مانک شا تھا۔اس نے مشرقی پاکستان گو بنگلہ دیش بنانے کی پلاننگ اور تکمیل میں جو کلیدی کردار ادا کیاتھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔حکومت نے پہلے اسے فیلڈ مارشل کا رینک”عطا“ کیا۔لیکن بعد میں چھین لیا ۔یہ داستان بھی طویل ہے پھر کبھی سہی.... میں صرف جنرل مانک شا کی اس ایک ملاقات کا حوالہ دینا چاہوں گا جو انہوں نے اس وقت (اپریل 1971ئ) کی بھارتی وزیراعظم مسز اندراگاندھی سے کی۔جنرل نے اس ملاقات کا ذکر اپنی ایک تحریر میں خود کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں: ”ایک روز مجھے وزیراعظم ہاﺅس سے بلاوا آیا۔میں گیا تو میڈم پرائم منسٹر ایک کرسی پر خاموش اور اداس بیٹھی تھیں۔میں نے ان سے اداسی کا سبب پوچھا تو بولیں: ”لوگ کہہ رہے ہیں کہ فوج مارشل لاءلگانے والی ہے“۔ یہ سن کر میں مسکرایا اور انہیں تسلی دی۔اپنی لمبی ناک، میڈم کی لمبی ناک کے ساتھ رگڑی ۔(دونوں کی ناکیں ”ضرورت“ سے کچھ زیادہ لمبی تھیں) اور ان کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ پھر وہ بولیں: ”آپ مشرقی پاکستان میں کیوں نہیں جاتے؟“ میں نے کہا: ”میڈم میں اِس وقت تو بالکل نہیں جا سکتا۔اگر آپ کو میری بات پسند نہیں تو میں کل آرمی ہیڈکوارٹر میں نہیں آﺅں گا اور گھر چلا جاﺅں گا“۔میڈم نے پوچھا: ”وہ کیوں؟“ میں نے کہا ”دیکھیں یہ اپریل کا مہینہ ہے۔مشرقی پاکستان میں برسات شروع ہے۔شمالی درے کھلے ہوئے ہیں۔مشرقی پاکستان کے سارے دریا بپھرے ہوئے ہیں۔مَیں اپنے آرمر (ٹینکوں) کو وہاں بھیج کر ایک پاورفل اور پروفیشنل پاکستانی فوج کا ترنوالہ نہیں بنا سکتا۔اگر میں نے مشرقی پاکستان میں جانا ہے تو میں نومبر دسمبر (1971ئ) میں اس وقت جاﺅں گا جب مشرقی پاکستان کی زمین خشک اور سخت ہو چکی ہوگی۔شمالی درے برف باری کی وجہ سے بند ہو چکے ہوں گے اور چینی ٹروپس کے اِدھر آنے کے امکانات معدوم ہو جائیں گے.... میڈم! اگر کوئی دوسرا جرنیل، آج مشرقی پاکستان میں جانے کو تیار ہے تو Welcome....“

اس کے بعد فیلڈ مارشل مانک شا لکھتے ہیں کہ یہ بات میڈم کی سمجھ میں آ گئی اور انہوں نے یہ آپریشن 6،7ماہ تک موخر کردیا اور ہم 1971ءکی جنگ میں کامیاب ہو گئے۔

قارئین گرامی! کہا جاتا ہے کہ پاکستان اس وقت حالتِ جنگ میں ہے۔بار بار یہی بات دہرائی جاتی ہے کہ ہم تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں.... تو سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ ہم کب تک اس موڑ پر کھڑے رہیں گے؟.... جو قومیں تاریخ کے نازک موڑپر آکر رک جاتی ہیں، ان میں حرکیت پیدا کرنے کے لئے ان کو کسی نہ کسی طرف تو نکلنا ہی پڑتا ہے۔پاکستان کو بھی کسی نہ کسی طرف نکل جانا پڑے گا۔.... میاں نوازشریف نے اگر جنرل راحیل شریف کی سلیکشن، یہ ساری باتیں ذہن میں رکھ کر کی ہے تو جنرل صاحب کو یہ چیلنج قبول کرنا ہوگااور کسی نہ کسی طرف نکلنا پڑے گا....جہاں تک ہماری معلومات اور اطلاعات ہیں جنرل صاحب کا سارا گھرانہ دوٹوک فیصلے کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ان کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف، نشانِ حیدر، ستارئہ جرات ان کے لئے مشعل راہ رہے ہیں۔ان کے والد ایک عظیم والد تھے اور ان کی والدہ محترمہ کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں....ہمیں یقین ہے کہ وہ پاکستان کو حالات کی اس دلدل سے نکالنے میں زیادہ دیر نہیں لگائیں گے....

اب اگلے چیلنج کا ذکر کریں گے۔(جاری ہے) ٭

مزید : کالم