آرمی چیف کا انتخاب: امیداور عمل اب کیا ہے؟

آرمی چیف کا انتخاب: امیداور عمل اب کیا ہے؟

  

                                            شکر ہے خدا کا، انتظار اور ہیجان کا ایک باب ختم ہوا، جنرل راحیل شریف آرمی چیف قرار پائے۔ فیصلہ سازی کا کمال تھا یا ادھیڑ بن کا عروج، یہ فیصلہ جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ سے عین ایک دن قبل کیا گیا۔ موجودہ جنگی کیفیت اور ماضی میں جمہوریت پر بار بار دست درازی کا تجربہ تھا کہ میڈیا نے حسب معمول اس اہم مسئلے کو بھی زندگی اورموت کا مسئلہ بنا دیا۔

ملکی اداروں کے اہم سربراہان کے انتخاب میں متعلقہ حلقوں کی دلچسپی دنیا بھر کے ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ جہاں ان اداروں کے سربراہان کا قومی زندگی پر اثر زیادہ ہوتا ہے، وہاں زیادہ ،ورنہ جن ملکوں میں حکومتی معاملات اور اداروں میں توازن رائج ہے، وہاں ایسے انتخاب ہیجان برپا نہیں کرتے۔ ابھی گزشتہ ہفتے امریکہ میں صدر اوبامہ نے پہلی بار ایک خاتون اکانومسٹ کو فیڈرل ریزرو کی چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔ ان کے انتخاب کا اعلان بہتوں کے لئے حیران کن تھا ،کیونکہ ہر شعبے میں خواتین کے حقوق کے داعی ملک میں مردوں کے لئے مخصوص ایک عہدے پر پہلی بار ایک خاتون کی تعیناتی ہوئی۔ حیرانی کے علاوہ متعلقہ حلقوں کی شدید دلچسپی یوں تھی کہ امریکہ 2008ءکے مالی بحران کے بعد ابھی تک معیشت کی بحالی کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہا ہے۔ گرین سپین کا طویل دورانیہ بطور چیئرمین فیڈرل ریزرو اپنے دامن میں معاشی نظامت کی کئی اچھائیاں اور کئی خرابیاں چھوڑ کر گیا، لہٰذا یہ دلچسپی یقینی تھی۔ ڈاکٹر مہاتر محمد نے جدید ملائشیا کو موجودہ شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انور ابراہیم ان کے جانشین سمجھے جاتے تھے، لیکن باہمی اختلاف نے نہ صرف سیاسی راستے جدا کئے، بلکہ منوں کے حساب سے اخلاقیات کی راکھ اڑا کر انور ابراہیم کو جیل میں دھکیل دیا۔ ملائشیا کی معجزاتی ترقی اور ڈاکٹر مہاتر محمد کی کرشماتی شخصیت کے بعد ان کے جا نشین کا سوال اہم تھا، لیکن اس قدر ہیجان نہیں کہ صبح شام، ہر گلی کے نکڑ پر، ہر اخبار اور ٹی وی پر ایک ہی چرچا تھا۔ دنیا کے اور بھی غم ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ قوموں اور ملکوں کی بلوغت کا ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ زندگی کا ایک جزو، وقتی ہی سہی، کل پر یوں حاوی نہیں ہوتا کہ آسمان کی چھت گرنے کا ڈر پیدا ہو جائے۔

پاکستان کے قیام میں قائد اعظمؒ کا کلیدی کردار کچھ ایسا ہے کہ قیام پاکستان کا تصور ان کے بغیر محال تھا۔ کچھ ایسی ہی کیفیت جدید سنگا پور میں لی کوان یو کی ہے۔ 1965ءمیں ملائشیا سے علیحدہ ہونے والا ایک ننھا منا ملک ایک شہر پر مشتمل تھا۔ اس شہر کا سب سے بڑا اثاثہ اس کا محل وقوع تھا جس کے سبب ایک معروف بندر گاہ اس کی معیشت کا غالب امتیاز تھی۔ ایک نیم پسماندہ ملک، دو اڑھائی ملین کی آبادی، قدرتی وسائل کا انبار نہ پاﺅں پسارنے کے لئے زمین! لی کوان یو نے اس ننھی منی ریاست کو 30 سال میں ایک ترقی یافتہ ملک بنایا تو عالم میں یہ ایک معاشی ا ور معاشرتی معجزے اور مثال کے طور پر سامنے آیا۔ بقول شیکسپیئر دنیا ایک سٹیج ہے۔ ہر کردار کو جلد یا بدیر اپنے کردار کو سمیٹ کر سٹیج کو خیر باد کہنا پڑتا ہے۔ لی کوان یو کے بعد کیا ہوگا؟ یہ سوال پھانس کی طرح مقامی لوگوں اور دنیا میں سرمایہ کاروں اور تاجروں میں اٹکا رہا،لیکن جب تبدیلی کا وقت آیا ہیجان برپا نہیں ہوا۔ اسٹاک ایکسچینج نارمل رہی ،معاشی و سیاسی بھونچال بھی برپا نہیں ہوا۔ ان کے جانشین نے وزارتِ عظمیٰ سنبھال لی۔ اس خوبصورتی کے ساتھ کہ غالب کے پرزے اڑے نہ تماشا ہوا۔

امریکہ جیسے ملک میں جس نے چاردانگ عالم میںامن سے زیادہ جنگ کے پھریرے لہرا رکھے ہیں، وہاں بھی ایسی تعیناتیوں پر زور دار بحث مباحثہ ہوتا ہے، سینٹ و کانگرس کمیٹی صدر کے انتخاب کو چھلنی سے گزار کر آمناو صدقنا کہہ دیتی ہے یا معذرت کے ساتھ انتخاب کا لفافہ واپس وائٹ ہاﺅس بھجوا دیتی ہے،لیکن اس کے باوجود ہیجان برپا نہیں ہوتا۔

پاکستان کی بلوغت کا عالم یہ ہے کہ جہاں انتخابات لازم ہیں وہ عہدے چھ ماہ سے خالی ہیں۔ پاکستان کے بیشتر سیاسی و عسکری مسائل خارجہ اور دفاعی امور سے جڑے ہوئے ہیں۔ ابھی کل ہی وزارت ِ دفاع کااضافی چارج خواجہ آصف کودیاگےاہے۔ اغماض کی انتہا ہے یا ماضی میں ابلتے دودھ کی جلن، اہم عہدوں کے لئے تعیناتیوں میں فیصلہ سازی پر ایک پر اسرار سکوت طاری ہے۔

نوازشریف حکومت کا الیکشن سے قبل تسلسل کے ساتھ ساتھ دہرایا جانے والا ایک وعدہ یہ تھا کہ پبلک سیکٹر ادارو ںمیں مارکیٹ سے ماہرین کو چن کر ان کی سربراہی پر مامور کیا جائے گا۔ شروع میں اخبارات میں اشتہارات بھی چھپے، لیکن اس کے بعد پر اسراریت کا دبیز پردہ، گزشتہ دنوں انکشاف ہوا کہ ان تعیناتیوں کے لئے ایک کمیشن قائم کر دیا گیا ہے،لیکن ہنوز دلی دور است والا معاملہ جاری ہے۔

منیر نیازی نے بجا کہا تھا کہ کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن، کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی (مانا کہ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے، لیکن ہمیں بھی مرنے کا شوق کچھ کم نہ تھا) حکومت کی احتیاط پسندی ہے یا کچھ اور آزاد میڈیا، ریٹنگ کی ہوس، موضوعات کے قحط میں بولائے ہوئے اینکرز، حالات سے اکتائے ہوئے عوام، انتظار کا شکار سیاسی منظر نامہ۔ ان حالات میں بال بھی دستیاب ہو جائے تو کھال اتارنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ملک کے ایک کونے میں ایک احمقانہ واقعہ ہو جائے تو میڈیا اسے لمحوں میں ہمارے گھروں اور ذہنوں میں ٹھونسنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ بھی اس خود ستائشی انداز میں کہ ....یہ خبر سب سے پہلے ہم نے بریک کی۔

لیڈر شپ امید اور عمل کا امتزاج ہے۔ عوام اور دیگر متعلقہ حلقوں کی امید اور لیڈر شپ کی طرف سے عمل اس رشتے کو زندہ رکھتے ہیں۔ روز مرہ کے سلگتے مسائل نیٹو سپلائی کی بندش اور طالبان مذاکرات کے بھاری بھرکم وزن تلے کچلے جا رہے ہیں۔ عمران خان اور ان کے حواری سڑکوں پر تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان ڈالر اور عزت نفس کی شرح مبادلہ پر دھواں دھار پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ اس سارے عمل میں حاصل وصول تو شاید کیا ہوگا، البتہ اصل نقصان ”امید“ کا ہو رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امید کی ڈوبتی نبض نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے ہیجان کے باعث دھک دھک چل اٹھی۔ چلئے، یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا، اب عمل کا اگلا پاﺅں کب اٹھے گا؟ امید کس کے گھر جائے گی؟   ٭

مزید :

کالم -