لاپتہ افراد کے مقدمات میں نامزد تمام ایف سی اہلکاروں کو ڈی آئی جی کوئٹہ کے سامنے پیشی کا حکم ، کراچی میں موجود اہل خانہ کو تحفظ فراہم کریں :سپریم کورٹ

لاپتہ افراد کے مقدمات میں نامزد تمام ایف سی اہلکاروں کو ڈی آئی جی کوئٹہ کے ...

عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائیکورٹ کے وکیل کے بیٹے کی گمشدگی اور گھر پر قبضے سے متعلق بھی رپورٹ طلب کرلی

لاپتہ افراد کے مقدمات میں نامزد تمام ایف سی اہلکاروں کو ڈی آئی جی کوئٹہ کے سامنے پیشی کا حکم ، کراچی میں موجود اہل خانہ کو تحفظ فراہم کریں :سپریم کورٹ

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے فرنٹیئرکانسٹیبلری کے حکام کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے حکم دیاہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات میں ملوث تمام اہلکار یکم دسمبر کو سی آئی ڈی کے ڈی آئی جی کوئٹہ کے سامنے پیش ہوں ، کراچی میں موجود لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیاجائے جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے وکیل کے بیٹے کے اغوااور گھر پر قبضے سے متعلق بھی عدالت نے رپورٹ طلب کرلی۔عدالت نے استفسار کیاکہ آئی جی ایف سی کو طلب کیاتھالیکن عدالتی حکم کی تعمیل نہیں ہوئی ، توہین عدالت کا نوٹس کس کو جاری کریں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ عدالت کا حکم آئی جی ایف سی بلوچستان تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔چیف جسٹس کاکہناتھاکہ کچھ بھی کرلیں ، لاپتہ افراد آپ کو دیناپڑیں گے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت آئی جی ایف سی بلوچستان کی لاپتہ افراد سمیت عدم پیشی پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیاعدالتی حکم کی تعمیل نہیںہوئی ، اب کس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ وقت کی قلت کی وجہ سے آئی جی ایف سی سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ مختلف افراد کی گمشدگی میں ملوث اہلکاروں کو پیش کیوں نہیں کیاگیا؟ڈپٹی اٹارنی جنرل اگردرمیان میں نہ ہوتے توآئی جی ایف سی یہاں موجود ہوتے ۔ جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ بریگیڈیئراورنگزیب سمیت پانچ اہلکاروں کے خلاف الزام ہے جس پر عدالت کا بتایاگیاکہ بیشترنامزد افسران و اہلکاروں کو جی ایچ کیو میں واپس بھیج دیاگیاہے ، اُن سے متعلق عدالت سیکریٹری دفاع اور وزیرداخلہ سے جواب طلب کرسکتی ہے اور آرمی میں موجود افسران کو سیکریٹری دفاع ہی پیش کرسکتے ہیں ۔چیف جسٹس کاکہناتھاکہ نامزد ملزمان کے خلاف شواہد موجود ہیں ، بتائیں آپ چاہتے کیاہیں ؟ کچھ بھی کرلیں ، لاپتہ افراد کو پیش کرناپڑے گا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کاکہناتھاکہ جس کے پاس بند ے ہیں ، اُسے پیش کرناچاہیں جس پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے چیف جسٹس کاکہناتھاکہ آپ کیاکہناچاہتے ہیں ؟ بندے آپ کے پاس ہیں، شواہد موجود ہیں۔ایف سی کے لاءآفیسر میجر ندیم نے اپنے بیان میں بتایاکہ جن آفیسرز کے خلاف الزامات ہیں ، یہ آرمی کے ہیں اور وہ جی ایچ کیومیں واپس جاچکے ہیں جس پر چیف جسٹس کاکہناتھاکہ اگر آرمی کے بھی آفیسر ہیں تو آپ ہیڈکوارٹر کو کہیں کہ بندے پیش کریں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے میجر ندیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ تماشے نہیں چلیں گے ۔عدالت نے لاپتہ افراد کیس میں نامزدتمام ملزمان کو یکم دسمبراتوارکوسی آئی ڈی کے ڈی آئی جی کوئٹہ کے سامنے پیش ہونے اور لاپتہ افراد کے کراچی میں موجود اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت تین دسمبرتک ملتوی کردی ۔ قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ کے وکیل عبدالستار اوبڑو نے عدالت کو بتایاکہ 21ماہ قبل اُن کے بیٹے کو سٹی کورٹ کے قریب سے گاڑی سمیت اغواءکیاگیا اورپھر پولیس اہلکاروں نے اُن کے گھر پر بھی قبضہ کرادیاجس میں اُس وقت کے ملیر کے ایس پی راﺅ انواراور ایس ایچ او بھی ملوث ہیں جبکہ بیٹے کا بھی تاحال سراغ نہیں مل سکاجس پر عدالت نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ۔

مزید : کراچی /اہم خبریں